امن و امان کا قیام اور پولیس

امن و امان کا قیام اور پولیس
امن و امان کا قیام اور پولیس

  

19جون کو روزنامہ پاکستان میں چھپنے والے میرے مضمون "امن عامہ کی صورتِ حال : فوری اصلاح کے لئے چند تجاویز"پر معروف کالم نویس،محقق، مترجم اورفوجی تاریخ اور دیگر موضوعات پر درجن بھر کتب کے مصنف محترم لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی خان نے 21جون کو اسی اخبار میںاپنے کالم "امن وامان کی برقراری میں پولیس کا کردار"کے عنوان سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ مَیںمحترم لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی کے علم و فضل ،تحقیق، زبان و بیان پر اُن کی مہارت اور اعلیٰ معیار کو قائم رکھتے ہوئے بے تحاشہ لکھنے کا بے حد مداح ہوں اور اکثر اُن کو تعریفی اور توصیفی لہجے میں کہا کرتا ہوں کہ کرنل صاحب ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ آپ لکھتے نہیں تھکتے ،مَیں پڑھ پڑھ کر تھک جا تا ہوں ۔ مجھے سانس لینے کا موقع تو دیا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی تاریخ پر اردو زبان میں پہلی بار اور اتنے خوبصورت، جامع، لیکن آسان انداز میں کرنل صاحب نے ہی لکھا ہے اور مَیں ان سے مسلسل اصرار کر رہا ہوں کہ وہ روزنامہ پاکستان اور اس کے سنڈے میگزین میں لکھے جانے والے اپنے تمام مضامین کو کتابی شکل دیں۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے لکھنے لکھانے پر دوبارہ آمادہ کرنے میں اِن کی تحریک اور اصرار کا بہت دخل ہے ۔ وہ مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ لکھنا شروع کریں ۔ پھر کہتے اب نہیں لکھیں گے تو کب لکھیں گے؟

میری تحریر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جیلانی خان صاحب نے مثبت اختلاف کے پردے میں درحقیقت میرے تجربات و تجاویز کی تائید ہی کی ہے ،جس کے لئے مَیں ان کا شکر گزار ہوں ۔ان کا یہ کہنا کہ عوامی نمائندے پولیس کے معاملات میں مداخلت کو اپنا "آئینی حق "سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنے حلقہ نیابت کے انتظامی معاملات میں دخیل نہیں ہوں گے تو اگلے الیکشن میں کس 'منہ'سے ووٹ مانگیں گے اور یہ کہ اُن کا مشاہدہ ہے کہ" کسی حکم عدولی کرنے والے پولیس کانسٹیبل یا حوالدار یا سب انسپکٹر کو جب آئی جی سزادینا چاہتا ہے تو اُن سے وابستہ مفادات والے متحرک ہو جاتے ہیں ۔ نتیجتاً آئی جی کو تبدیل کردیا جاتا ہے اور کانسٹیبل کو کچھ نہیں ہوتا ۔ دوسرے لفظوں میں اُس پولیس اہلکار کا اصل باس آئی جی نہیں، بلکہ اُس کے تھانے کار کن پارلیمنٹ ہے “.... بس یہی وہ نکتہ ہے جو میری ساری معروضات کا محور ہے اور جس کی محترم کالم نگار نے تصدیق کر دی ہے کہ حقیقی دنیا میں ایسا ہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہی ہونا چاہیے ؟ اور کیایہ سب کچھ ایسا ہی رہے؟اگر گردش دوران ہمیں خرابی ¿ حالات کی اس سطح تک لے آئی ہے تو خرابی کی بنیاد بھی تو یہی ہے ، اسی کو تو بدلنا ہے۔ عوامی نمائندگان آخر پولیس کے کندھوں پر سوار ہو کر اپنی سیاست کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟کیا اُن کے کریڈٹ پر عوامی خدمت کا کوئی اورکارنامہ نہیں ہے ،جس کی بنیاد پر وہ اگلے الیکشن میں عوام کے پاس جاسکیں ؟

دونوں طرح کی صورتِ حال کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ آج سے بیس پچیس سال قبل میری صوبہ سرحد (آج خیبر پختونخوا) ٹرانسفر ہو گئی۔ مَیں نے اِس صوبے میں کبھی نوکری نہیں کی تھی اورنہ وہاں کسی کو جانتا تھا ۔ مجھے صرف یہ علم تھا کہ وہاں کے آئی جی محمد عباس خان ہیں ،جن کی بہت اچھی شہرت ہے ،اور بس۔ ان سے کوئی تعارف یا ملاقات نہیں تھی ۔ انہوں نے تو شاید کبھی میرا نام بھی نہ سنا ہو۔ میں لوگوں سے پوچھتا پوچھتا چیف سیکرٹری کے دفتر پہنچا ۔ ڈپٹی سیکرٹری سروسزکے پاس اپنی حاضری کی رپورٹ کی۔ وہاں سے آئی جی صاحب کے دفتر گیا۔ سرسری ملاقات ہوئی ۔ مَیں نے انہیں بتایا کہ مَیں ٹرانسفر پر آیا ہوں ۔چیف سیکرٹری کے دفتر حاضری کردی ہے ،خیال رکھئے گا ۔ رپورٹ کے بعد اُسی رات مَیں واپس لاہور اپنے گھر آگیا۔جب ایک ماہ گزر گیا اور کوئی خیر خبر نہ آئی تومَیں نے سوچا کہ دوبارہ پشاور جاو¿ں اور آئی جی صاحب سے ملوں اور انہیں یاد دلاو¿ں کہ میں ابھی تک بغیر تعیناتی کے گھر پر بیٹھا ہوں اور درخواست کروں کہ مجھے کسی مناسب جگہ تعینات کردیں ۔

میری زیادہ سے زیادہ توقع یہ تھی کہ مجھے کہیں دفتری پوسٹ پر لگا دیا جائے گا ،جہاں کوئی بھی لگنا پسند نہ کرتا ہو ۔ آئی جی صاحب نے اندر بلایا۔ مَیں بیٹھ گیا۔ وہ فائلیں دیکھنے اور ڈاک نکالنے میں مصروف تھے ۔مَیںتقریباً پندرہ منٹ خاموش ان کے سامنے بیٹھا رہا۔ انہوںنے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور نہ کوئی بات کی ۔ مایوسی کے عالم میں مَیں اُٹھ کھڑا ہوااور اجازت چاہی ،لیکن اُنہوں نے اشارے سے کہا کہ بیٹھو اور خود بدستور ڈاک میں مصروف رہے ۔مزید چند منٹوں میں انہوںنے اپنا کام مکمل کیا اور میری طرف متوجہ ہوئے ۔رسمی علیک سلیک ہوئی اورابھی مَیں اپناحرفِ مدعازبان پر لایا بھی نہ تھا کہ خود ہی بولے کہ میں آپ کو ایس ایس پی ایبٹ آباد لگا رہا ہوں اور پھر اُس کے ساتھ ہی مجھے ضلع ایبٹ آباد کے بارے میں بریفنگ دینے لگے۔ میرا تو جیسے دل اچھل کر حلق میں آاٹکا۔ زبان گنگ ہوگئی ۔

ایس ایس پی ایبٹ آباد صوبہ خیبر پختونخوا کی ایک اہم ترین پوسٹنگ سمجھی جاتی ہے ،جہاں کسی تجربہ کار ، علاقے کی اُونچ نیچ کو سمجھنے والے یا اہل ِ اقتدار کے کسی قریبی عزیز یا پھر کسی چہیتے افسر کو لگایا جاتاہے ۔ میرے منہ سے بمشکل صرف اتنا نکل سکا کہ سرآرڈر ہوگئے ہیں ؟ کہنے لگے، نہیں۔ آج ہو جائیں گے۔ مَیں چیف سیکرٹری کو کہنے لگا ہوں۔ مَیں بھیگی آنکھوں سے اُن کا شکریہ ادا کر کے باہر نکل آیا ۔ چیف سیکرٹری کے دفتر گیا ۔ کچھ دیر تک وہاں اطلاع پہنچ گئی۔ ایک آدھ گھنٹے میں میرے بیٹھے بیٹھے محکمہ سروسز سے میری تعیناتی کے آرڈر جاری ہوگئے ۔ ....اور پھر میں جتنی دیر ایبٹ آباد میں رہا، میری تمام تر توجہ، رہنمائی اور وفاداری کا مرکز میرا آئی جی تھا۔ اب ایک دوسرا واقعہ سنئے۔مَیں پنجاب میں ایک ضلع کا ایس ایس پی تھا ۔ کسی سلسلے میں میں آئی جی پنجاب کے دفتر میں اُن کے سامنے بیٹھا تھا کہ باہر سے کسی ایس پی نے چٹ بھجوائی۔ آئی جی صاحب نے اندر بلایا ۔ آئی جی صاحب نے استفہامیہ لہجے میں پوچھا کہ کیسے آئے ؟ کہنے لگا سر! میری فلاں ضلع میں پوسٹنگ ہوگئی ہے ۔ جانے سے پہلے آپ کو سلام کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ آئی جی صاحب نے انتہائی حیرت سے کہا ،اچھا؟آرڈر ہوگئے ہیں ؟ کب ہوئے ہیں ؟ اُس نے کہا کہ آج ہی ہوئے ہیں ۔ آئی جی نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کھسیانے سے انداز میں کہا کہ اچھا ٹھیک ہے ۔ جائیں اچھی طرح کام کریں ۔

اب قارئین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان دونوں صوبوں میں کمانڈ اور کنٹرول کی صورت حال میں کیا فرق ہو گا اور دونوں میں سے کون سانظام اور طریق کار مفاد عامہ اور امن ِ عامہ کے لئے زیادہ موزوں ہے ۔ایک واقعہ اور سنئے، پنجاب کے ایک ایس پی ضلع نے ایک ایس ایچ او کو اُس کے خلاف تواتر سے شکایات موصول ہونے پربلایا اور سخت سر زنش کی اور اُسے بدلنے کا عندیہ دیا۔ پہلے تو ایس ایچ او اپنی صفائیاں دیتا رہا ،لیکن جب ایس پی کا غصہ کم نہ ہوا تو بولا کہ سر!بس اب چھوڑ بھی دیں ۔ مجھے بھی اُسی نے اِس تھانے میں تعینات کروایا ہے ،جس نے آپ کو اِس ضلع میں ۔ یہ پولیس ملازموں کی بیرونی آقاو¿ں کی آشیر باد پر خودسری، سیاسی و سماجی اور اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کی سر کاری امو ر میں بے جا مداخلت اور اثر ور سوخ رکھنے کی سینکڑوں میں سے چند ایک مثالیں ہیں ۔ امن وامان کی موجودہ بد نظمی انہی حالات کا شاخسانہ ہے ۔

جب تمام سینئر پولیس افسران اجتماعی طور پر اس سوچ کے حامل ہیں کہ پولیس کے محکمے کو سیاسی و غیر سیاسی بیرونی مداخلت سے پاک رکھاجائے تو اِس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ جو چاہے کریں ،کوئی اُن کو نہ پو چھے ، ہر گز نہیں ۔ جسے پوچھنا ہے ضرور پوچھے ، جسے جواب طلب کرنے کا اختیار ہے ،وہ ضرور کرے ، لیکن اپنی مرضی کے افسر نہ لگوائیں ۔اپنی مرضی کے تبادلے نہ کروائیں ۔ اپنی مرضی کی تفتیش نہ کروائیں ۔ گناہ گاروں کی سفارش نہ کریں اور اپنے مخالفین سے بذریعہ پولیس اپنے حساب نہ چکائیں۔اگر عوامی و سیاسی نمائندے اپنی پوزیشن کے زور پر اپنی مرضی کے کام کرواتے ہیں تو جواباً انہیں بھی پولیس ملازمین کی کمزوریوں ، کو تاہیوں ، زیادتیوں اور گناہوں سے چشم پوشی کرنا پڑتی ہے ، اسی کو مَیں نے "پُر امن بقائے باہمی کے لئے ہاتھ ملانا "لکھا تھا۔ پولیس افسران عوامی نمائندوں کے ہر گز خلاف نہیں ہیں ۔ انہیں عوام نے اپنی نمائندگی کا حق دیا ہے ۔اِس کا احترام واجب ہے اور وہ کرتے ہیں ، بلکہ حقیقت میں عوامی معاملات نمٹانے کے لئے پولیس افسران کو اُن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہیں خو د اُن سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے ۔وہ اُن کے بغیر چل نہیں سکتے۔ نکتہ صرف یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے دائرہ کار میں رہے ۔اب اس سے کس کو اختلاف ہے اور کیوں؟

میری تمام تر معروضات کا مدعا یہ ہے کہ پولیس کے سربراہ کو حقیقی معنوں میں سربراہی او ر محکمانہ آزادی دی جائے۔ اس کے اندرونی انتظامی امور میں مداخلت نہ کی جائے یاکم سے کم کی جائے اور یہ سب کچھ بھی وہ کرے جسے آئین ، قانون او ر ضابطہ اجازت دیتا ہے۔ اور یہی کچھ معاملہ اس کے ماتحت افسران اور تھانہ کی سطح پر ہو ۔ اور یہ دونوں ضروریات امنِ عامہ کی بگڑی ہوئی صورتِ حال میں اصلاح کی طرف سفر کی بنیادی شرائط ہیں ۔ اصل کام تو اس کے بعد ہوگا اور یہ سب کچھ پولیس آرڈر 2002ءمیں سمو دیا گیا تھا جسے ملک کے دو صوبے اب تک لپیٹ چکے ہیں۔ البتہ صوبہ پنجاب میں اس آرڈر پر دس سال عمل درآمد کے بعد سامنے آنے والی کمزوریوں اور الجھنوں کو رفع کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی انتہائی دلچسپی اور دردمندی کے ساتھ اس کا جائزہ لے رہی ہے جو کہ درحقیقت وزیر اعلیٰ کی دلچسپی ، دردمندی اور خلوص کا مظہر ہے ۔امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج نکلیں گے اور اس کا سہرا ان کی ٹیم کے ساتھ ساتھ خود وزیراعلیٰ کے سر ہوگا ۔  ٭

مزید : کالم