ترکی کی ترقی میں ایرانی گیس کا ہاتھ

ترکی کی ترقی میں ایرانی گیس کا ہاتھ
ترکی کی ترقی میں ایرانی گیس کا ہاتھ

  

فیصل عابدی اب تک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے ہمارے ایک درجن سے زائد ٹی وی چینلوں پر یہ بحث کر چکے ہےں کہ اگر پاکستان نے ترقی کرنا ہے، تو اسے ہر قیمت پر ایران گیس پائپ لائن کے منصوبہ پر عمل کرنا ہو گا۔ امریکہ یا بھارت کے تحفظات اگر کچھ ہیں بھی تو وہ محض اس لئے ہیں کہ یہ دونوں ممالک اوپر اوپر سے تو دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں، لیکن دراصل یہ دونوں ہماری ترقی دیکھ نہیں سکتے اور چاہتے ہیں کہ ہم ان کے دست نگر رہیں اور امریکہ سے تو خصوصاً مانگ کرہی گزارا کریں۔ اِسی امریکہ نے خود زور دے کر15سال قبل ترکی کو ایران سے گیس دلوائی تھی اور آج وہاں کی ساری صنعتیں ٹرانسپورٹ کا نظام گیس پر چلنے کی وجہ سے ڈالر کا نرخ وہاں ایک لاکھ لیرا فی ڈالر سے کم ہو کر صرف تین لیرا فی ڈالر پر آ گیا ہے۔ آج ترکی کا شمار ایسے ترقی یافتہ ممالک میں ہو رہا ہے، جو دوسرے ممالک کو اربوں ڈالر کی برآمدات کر رہا ہے اور بیس بیس سال کے قابل واپسی قرضوں پر کئی ممالک میں اپنے متعدد منصوبے لگا رہا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جس راستے سے ایرانی گیس پائپ لائن پاکستان میں بچھائی جانی ہے وہ ظاہر ہے کہ بلوچستان ہی ہے، جو کہ اس وقت سرا سر شورش زدہ ہے اور امن و امان کی صورت حال وہاں ٹھیک نہیں ہے، لیکن جب پاکستانی قوم کو یہ علم ہو کہ اس کی بقا اور عوام کی ترقی و خوشحالی اسی گیس پائپ لائن کے منصوبے سے جڑی ہوئی ہے، تو پھر حکومت وقت کو ایسے اقدامات اُٹھانا ہوں گے جو شورش کے خاتمے میں معاون ہوں۔ اگر ضرورت پڑے تو مسئلے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے اور پارلیمنٹ کی مکمل منظوری کے ساتھ امن کے منصوبے کو پایہ تکمیل پہنچایا جائے۔

جو ممالک ہمارے انرجی بحران کی وجہ سے اس وقت یہاں جنریٹر فروخت کر رہے ہیں یا انرجی کے پلانٹ لگا کر اربوں ڈالر یہاں سے اپنے ملکوں میں لے جا رہے ہیں ہمیں اُن کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا، وہ تو کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم انرجی کے معاملے میں خود کفیل ہو جائیں۔ حد تو یہ ہے کہ انہی ممالک نے تیل کے کنوئیں کھودنے کے لئے گزشتہ سات سال سے پاکستان کے متعدد مقامات پر اپنے دفاتر قائم کر رکھے ہیں، لیکن عملی طور پر محض اس لئے وہاں تیل نکالنے کا کام نہیں کیا جا رہا کہ یہی وہ ممالک ہیں، جو ہمیں جنریٹر سپلائی کر کے اربوں ڈالر کما رہے ہیں اور یہی وہ ممالک ہیں جو انرجی کے پاور پلانٹ لگا کر ہمیں بیس روپے یونٹ سے بھی زائد پر بجلی مہیا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کو آدھے نرخوں پر یہی بجلی اپنے عوام اور اپنی صنعتوں کو دینا پڑ رہی ہے۔ تیل کے کنوئیں جہاں جہاں چلائے جا سکتے ہیں وہ جگہ بھی اب ان ظالموں نے ہمارے قبضے میں نہیں رہنے دی اور یہ ممالک اپنی کمپنیوں کے ذریعے ان جگہوں پر قبضہ کر کے اور انہیں ٹھیکے پر لے کر وہاں بیٹھے ہیں تاکہ حکومت خود اپنے ذرائع سے بھی تیل نہ نکال سکے۔ حد تو یہ ہے کہ تیل اور گیس کی وزارت کو یہ ساری تفصیل معلوم ہے ، لیکن آٹھ دس سال سے حکام آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ اب یہ سلسلہ ہمیں کہیں پر تو ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہو گا۔ اب جہاں ہمارا خزانہ خالی ہے وہاں عوام بھی اب ہر آئے دن گیس، پٹرول کے بڑھتے ہو ئے نرخوں سے تنگ آ گئے ہیں اور اب حالت یہ ہے کہ اگر ان نرخوںمیں مزید اضافہ ہوا تو عوام سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دیں گے اور پھر نہ تو حکومت کو کسی قسم کا بل ملے گا اور نہ ہی حکومت زندہ باد کے نعرے انہیں سننے کو مل سکیں گے۔ ظاہر ہے کہ جب ایران سے گیس وافر آئے گی تو ہم اسے صنعتی یونٹوں کے لئے نسبتاً سستے نرخوں پر آسانی کے ساتھ استعمال کر سکیں گے اور اس سے پیداوار میں جہاں اضافہ ہو گا وہاں اشیاءضروریہ کے نرخوں میں بھی کمی لائی جا سکے گی۔ یہ گیس بجلی پیداوار کے منصوبوں میں بھی استعمال کی جا سکے گی اور اسے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں میں بھی باآسانی استعمال میں لایا جا سکے گا، جس سے کرایوں میں حیرت انگیز کمی دیکھنے میں آئے گی، خصوصاً گھریلو صارفین بھی خوش ہوں گے، کیونکہ اُن کے گھروں میں گیس استعمال کرنے کے بل نہ ہونے کے برابر ہوں گے، جن علاقوں میں گیس کی سہولت اب نہیں ہے وہاں بھی گیس پہنچائی جا سکے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کی کایا ہی پلٹ جائے گی۔

اب کون ہے جو اِس صنعتی انقلاب اور اس صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا، آج ہمیں امریکہ کو بھی سمجھانا ہو گا کہ سب سے پہلے ہمیں ملک کی خوشحالی اور ترقی کو دیکھنا ہے اور پھر امریکہ کی دوستی۔ آخر اس وقت امریکہ کہاں تھا، جب خود ایران پر یہ زور دے رہا تھا کہ وہ ترکی کو گیس سپلائی کرے اور ترکی کو گیس مہیا کرنے کا پچاس سالہ منصوبہ خود امریکی اداروں نے ہی تیار کرایا تھا۔ آج حالت یہ ہے کہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے ایران نے72 میل رقبہ پر اپنے علاقے میں پاکستان کو گیس فروخت کرنے کے لئے پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیا ہے اور اب صرف پاکستان کے صرف 30سے40 میل علاقے میں پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کرانا ہے، جو ممالک اس کام میں یہاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شورش پھیلا رہے ہیں ہمیں سفارتی سطح پر انہیں بھی خبردار کرنا ہو گا اور اگر ضرورت پڑے تو عالمی سطح پر ان ممالک پر دباﺅ ڈلوانا ہو گا تاکہ یہ اپنی ریشہ دوانیوں سے باز آ جائیں۔ بلوچستان میں گوادر منصوبہ اب چین کی حکومت کے براہ راست کنٹرول میںہے، لہٰذا جب تیزی کے ساتھ اس پر کام شروع ہو گا اور اسے استعمال میں لایا جائے گا تو یہی گیس بڑے آرام کے ساتھ چین تک بھی پہنچائی جا سکے گی اور پھر سنٹرل ایشیاءسے بہت ہی کم نرخوں پر ہمیں خام تیل بھی مہیا ہو جائے گا جسے گوادر کے مقام پر آئل ریفائنری لگا کر ہم پٹرول بہت ہی کم قیمت پر یہاں حاصل کر سکیں گے، بلکہ ایک اندازے کے مطابق یہ پٹرول ہمیں ایرانی تیل کی قیمت سے بھی کم نرخوں پر مہیا ہو گا۔

 موجودہ حکومت کو جہاں بہت سی اقتصادی دشواریوں کا سامنا ہے وہ چاہے تو گوادر منصوبے اور ایرانی گیس پائپ لائن کو پاکستان کی پائپ لائن کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے کے لئے عوام سے بھی بانڈز جاری کر کے فنڈز اکٹھا کر سکتی ہے۔ فرق صرف لیڈر شپ کا ہے۔ اگر سیاسی اکابرین اور لیڈر شپ یہ فیصلہ کرے کہ ملک کی ترقی کے لئے ان نادر اور قابل تعریف منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت اور دشمنوں کی کوئی سازش ان منصوبوں کی تکمیل سے نہیں روک سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اب”کِک بیک“ وغیرہ اور کمیشنوں کے چکر سے باہر نکلیں اور ملک و قوم کے لئے کام کریں۔  ٭

مزید : کالم