قومی اسمبلی میں غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی ہلاکت کیخلاف متفیقہ قرار دادمذمت منظور

قومی اسمبلی میں غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی ہلاکت کیخلاف متفیقہ قرار دادمذمت ...

                       اسلام آباد (ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے نانگا پربت کے بیس کیمپ فیری میڈوز میں دہشت گردی کے حملے میں 9 غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی ہلاکت کے خلاف پرزور قرارد اد مذمت متفقہ طور پر منظور کرلی‘ قرارداد تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے منظوری کیلئے ایوان میں پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا قبل ازیں قرارداد اپوزیشن رکن کی جانب سے پیش کرنے کیلئے ایوان نے وزیر قانون زاہد حامد کی رولز میں نرمی کرنے کی تحریک بھی منظور کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان فیری میڈو میں دہشت گردی کے اس بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو داغدار کرنے اور ساکھ مجروح کرنے کی ایک سازش ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ پاکستان غیر ملکی سیاحوں کیلئے غیر محفوظ علاقہ ہے ایوان سوگوار غیر ملکی خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہے درےں اثناءوزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گلگت بلتستان میں نانگا پربت کے بیس کیمپ فیری میڈوز میں دہشت گردی کے حملے میں 9 غیر ملکی کوہ پیماﺅں کی ہلاکت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون میں قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ لاجز دہشت گردی کیلئے سافٹ ٹارگٹ ہیں 9 دن قبل پارلیمنٹ ہاﺅس پر حملے کی اطلاع تھی جس پر پنڈی اسلام آباد میں ریڈ الرٹ کردیا گیا تھا لیکن اسلام آباد کی داخلی چیک پوسٹوں پر ا تعینات ہلکار متحرک نہیں ہوئے۔ وہ اتوار کو یہاں قومی اسمبلی میں فیری میڈوز میں غیر ملکی کوہ پیماﺅں پر دہشت گردوں کے حملے اور امن و امان کی صورتحال پر پالیسی بیان دے رہے تھے۔ ان کے پالیسی بیان پر ایوان میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماﺅں نے امن و امان اور سکیورٹی ایشوز پر حکومت اور وزیر داخلہ کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے غیر ملکیوں کی ہلاکت کی پرزور مذمت کی جن ارکان نے وزیر داخلہ کے پالیسی ب یان پر اظہار خیال کیا ان میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ‘ تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی‘ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار‘ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اﷲ‘ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد‘ مسلم لیگ ضیاءگروپ کے سربراہ اعجاز الحق‘ پی ایم اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی و دیگر نے اظہار خیال کیا۔ چوہدری نثار علی خان نے پالیسی بیان میں کہا کہ دہشت گرد گلگت سکاﺅٹس کی وردیوں میں ملبوس تھے اور انہوں نے رات ایک بجے فیری میڈوز میں غیر ملکی سیاحوں اور کوہ پیماﺅں کے کیمپ میں گھس کر فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو پر حملہ کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس تھے سکیورٹی فورسز کو چیک نہیں کیا جاتا لیکن اب میں نے احکامات جاری کردیئے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے لوگوں کو چیک کیا جائے گا فورسز کا کوئی اہلکار چیکنگ کرائے بغیر ریڈ زون میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق نادرن لائٹ انفنٹری اور اس کے کمانڈنگ آفیسر موقع پر رات کو ہی پہنچ گئے تھے اور انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور ایک زخمی چائنیز کو بحفاظت علاقے سے نکال لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالات میں ذمہ دار اداروں کو احساس ہونا چاہئے تھا اور سیاحوں کی حفاظت کے انتظامات ہونے چاہئے تھے اب تمام سیاحوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں پیشگی اقدامات کرنا ہونگے اب تک ہم صرف کسی خاص سانحے کے بعد ہی متحرک ہوتے تھے انہوں نے ایوان میں انکشاف کیا کہ آٹھ دس روز قبل انہیں ایک اعلیٰ سطحی خفیہ رپورٹ ملی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاﺅس پر دہشت گردی کا حملہ متوقع ہے انہوں نے کہا کہ یہ وزیر کا کام نہیں تمام سسٹم کھوکھلا ہوچکا ہے میں اس کھوکھلے نظام کو تبدیل کرنا چاہتا ہوں ابھی تک کامیاب نہیں ہوگا لیکن ایوان کا ساتھ رہا تو کامیاب ہونگا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی سے لڑائی نہیں کرنا چاہتا لیکن عوام اور ایوان کے سامنے سچ بولنا چاہتا ہوں کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ میری اداروں سے لڑائی ہو لیکن ایسا نہیں ہوگا آرمی چیف خود کہہ چکے کہ پالیسی صرف حکومت کی چلے گی انہوں نے کہا کہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ فوج سمیت تمام سکیورٹی فورسز بہادر ترین لوگ ہیں اور دہشت گردی کی جنگ میں ان کیقربانیاں ہیں انہوں نے کہا پارلیمنٹ لاجز کے ساتھ وزراءکالونی بھی محفوظ نہیں اگر ایک دہشت گرد آگیا تو ایک بھی وزیر نہیں بچے گا جنگی بنیادوں پر مسائل حل کرنا ہونگے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے ایوان کو اعتماد میں لینا قابل ستائش ہے وزیر داخلہ کی جانب سے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے کس قدر انحطاط کا شکار ہوگئے ہلاکتوں پر تعزیت کا بھی اظہار کرتا ہوں۔ دہشت گردوں نے ناقابل یقین مقامات اور شخصیات کو ٹارگٹ کیا ہے کوہ پیماﺅں کی ہلاکت سے روس سمیت ان ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی نے کہا کہ ایم کیو ایم بھی افسوسناک واقعہ کی پرزور مذمت کرتی ہ ے شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ ہی بے بس ہیں تو پھر اقدامات کون کرے گا ان سے بات چیت کا راستہ ڈھونڈا جائے صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ نئی حکومت آتے ہی دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے اگر ہم نے ملک کو دہشت گردی کی امریکی جنگ سے نہ نکالا تو امن قائم نہیں ہوگا اعجاز الحق نے کہا کہ گلگت بلتستان واحد علاقہ تھا جہاں سیاحت کو فروغ مل رہا تھا وہاں سکیورٹی کے پیشی اقدامات ہونے چاہئے تھے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں پاگل نہیں ہوں نہ پاگل کتے نے کاٹا ہے میں نے اداروں کو جاگنے کی کال دی تھی کوئی بھی ادارہ اس ملک سے زیادہ پیارا نہیں میری باتوں کو ہرزہ سرائی قرار دیا گیا اس دہشت گردی پر دوست ممالک سے معافی مانگنی چاہئے وزیر داخلہ جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں پولیس والوں کو بھی سکیورٹی فراہم کی جائے شفقت محمود نے کہا کہ وہ بھی اس افسوسناک سانحہ کی مذمت کرتے ہیں وزیراعظم کی بجٹ سیشن میں عدم موجودگی افسوسناک ہے ان کی آمد سے ہاﺅس کا وقار بلند ہوگا ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کو قومی انسداد دہشت گردی کی جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اب کسی رکن پارلیمنٹ کا گن مین پارلیمنٹ لاجز میں داخل نہیں ہوسکے گا‘ رینجرز اور ایف سی صرف صدر‘ وزیراعظم اور چیف جسٹس کی سکیورٹی پر مامور ہونگے‘ میں نے اپنی سکیورٹی کیلئے تین اہلکار رکھ کر باقی 36 واپس کردیئے ہیں ۔ وہ اتوار کو قومی اسمبلی میں سپیکر ایاز صادق کی جانب سے ارکان کے گن مینز کی زبردستی لاجز میں داخلے کو روکنے کیلئے ارکان سے کی گئی درخواست پر اظہار خیال کررہے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مارے جانے والے رینجرز سمیت تمام سول آرمڈ فورسز کے جاں بحق ہونے والے جوانوں اور افسران کے لواحقین کو 10لاکھ کی بجائے 30لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے جبکہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو 10لاکھ روپے دیئے جائینگے۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول