جماعت اسلامی نے فنانس بل میں گیارہ ترامیم قومی اسمبلی میں جمع کرا دیں

جماعت اسلامی نے فنانس بل میں گیارہ ترامیم قومی اسمبلی میں جمع کرا دیں

         

اسلام آباد(این این آئی)جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممبر ان قومی اسمبلی نے فنانس بل 2013-14ءمیںگیارہ ترامیم قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہیں۔ترامیم جماعتِ اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ،صاحبزادہ محمد یعقوب ،شیر اکبر خان اور خاتون ممبر محترمہ عائشہ سید نے جمع کرائی ہیں۔پہلی ترمیم سیلز ٹیکس ایکٹ کی سیکشن 3کی شق الف میں جمع کرائی گئی ہے جس میں سیلز ٹیکس سولہ سے سترہ فیصد ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حذف کرنے کی ترمیم دی گئی ہے۔دوسری ترمیم میںحکومتی مجوزہ سیکشن 40سی کے آخر میں شرطیہ جملہ کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ©” کسی بھی فرد یا ادارے کے حوالہ سے معلومات کے حصول کے لیے شرط یہ ہے کہ اسکی رازداری کا خیال رکھا جائے گا“۔تیسری ترمیم میں تجویز دی گئی ہے کہ غلطی کی درستگی کی صورت میںکمشنر یا دیگر افسران اسی حد تک آرڈر کی درستگی کر سکتے ہیں اور دونوں فریقوں کو سنے بغیر فیصلہ نہیں جا ئے گا۔ترمیم میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر مالی سال گزر جاتا ہے اور غلطی کی درستگی نہیں کی جاتی تو اس وقت تک درستگی نہیں سمجھا جائے گا جب تک اس پر مناسب آرڈر جاری نہیں کیا جاتا۔چوتھی ترمیم جو کہ انکم آرڈینیس کے سیکشن80میں ہے جس کو حذف کرکے ٹرسٹ اور اس طرح کے دیگر اداروں کو ٹیکس میں نہ لانے کی تجویز دی گئی ہے۔پانچویں ترمیم میں بلڈرز اور لینڈ ڈویلپرز پر ٹیکس نہ لگانے کی تجویز دی گئی ہے اس حوالہ سے ممبران کا مﺅقف ہے کہ اصولی طورپر اس سے اتفاق ہے لیکن چونکہ مارکیٹ میں قیمتوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں،مکانات اور پلاٹوں کی قیمتوں کے تعین اور کنٹرول کے حوالہ سے حکومت نے کوئی میکنزم نہیں دیالہذا اس صورت میں اگر مذکوران پر ٹیکس لگتا ہے تو وہ اس سے تین گنا غریب عوام سے وصول کریں گے اور مکانات اور پلاٹوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔لہذا جماعت اسلامی کے ممبران اس صورت میں اتفاق نہیں کر سکتے اور انہوں نے ان دونوں سیکشن کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔چھٹی ترمیم میں انکم آرڈینیس کے سیکشن 114میں کی گئی ہے ۔جماعت اسلامی کے ممبران نے پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز کو اس میں شامل کرنے کی فی الحال مخالفت کی ہے۔ممبران سمجھتے ہیں کہ یہ ادارے چونکہ وکلاءکے معاملات،معاونت اور فلاح وبہبود کے لیے ہیں ساتویں ترمیم سیکشن 165اے میںہے جو کہ بنک کو پابند بناتے ہیں کہ وہ اکاونٹ ہولڈرز کے سنٹرل ڈیٹا تک فیڈرل بورڈ کو اجازت دیں اور تمام معلومات فراہم کریں۔جماعت اسلامی کے ممبران نے اس میںترمیم کے ذریعے کہا ہے کہ صرف ان اکاونٹ ہولڈرز کی معلومات دی جائیں جو کہ ٹیکس چور یا کہ ڈیفالٹر ہوں ۔ممبران سمجھتے ہیں کہ بورڈ ایسا میکنزم بنائے جس کے ذریعے ہر فرد کے روزمرہ کے معاملات سے ٹیکس کی معلومات حاصل ہو جائیں۔آٹھویں ترمیم جو کہ انکم آرڈینیس کے سیکشن236ڈی میں کی گئی ہے ۔ممبران نے اس میں ترمیم دی ہے کہ ایسے پروگرامات جو کہ کمرشل میں آتے ہوں صرف ان پر ٹیکس لگایا جائے لیکن سوشل،تعلیمی،فلاحی اور مذہبی پروگرامات پر ٹیکس نہیں لگایا جانا چاہیے۔نویں ترمیم جو کہ انکم آرڈینیس کے سیکشن236ای میں ہے جس میں فارن پروڈیوسڈ فلمز،ٹی وی پلیز اور سیریلز پر ایڈوانس ٹیکس لگایا گیا ہے ۔جماعت اسلامی نے ترمیم کے ذریعے اس میں اضافہ کیاہے کہ فارن پروڈیوسڈ فلمز،ٹی وی پلیز اور سیریلزکا مواد تعلیمی،سائنسی اور قوم کے مفاد میں ہونا چاہیے اور قرآن و سنت ،آئین پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ دسویں ترمیم میں 236g,236H,236I,236Jکو حذف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مذکورہ سیکشنز میں حکومتی ترامیم کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑے گا ۔جماعت اسلامی پاکستان کے ممبران قومی اسمبلی نے فنانس بل میں گیارہویں اور آخری ترمیم میںپی ائی اے کے ملازمیں سے واپس لی گئی سہولت کو بحال رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ممبران سمجھتے ہیں کہ ملازمین کو سہولت دینے میں کوئی حرج نہیں حکومت کو چاہیے کہ اداروں کے اند ر مسابقت کو متعارف کرائیں اور کام لیا جائے اور اداروں کو ترقی اور خسارہ سے نکالنے کے لیے ملازمیں سے جب تک کام نہیں لیا جا تا ،بہتری نہیں آ سکتی۔

مزید : صفحہ آخر