سابق اراکین اسمبلی اور سینیٹز کیئے آج ڈگریوں کی تصدیق کا آخری موقع

سابق اراکین اسمبلی اور سینیٹز کیئے آج ڈگریوں کی تصدیق کا آخری موقع

                               اسلام آباد (آئی این پی) ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے رواں سال یکم اپریل اور 19 جون کو دئیے گئے فیصلوں کی روشنی میں2008ءکے عام انتخابات میں غیر مصدقہ ڈگریوں کیساتھ کامیاب ہونے والے 107سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز جنہوں نے اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کروائی وہ(آج) پیر تک ایچ ای سی کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات سے استفادہ کرکے دفتری اوقات میں اپنی ڈگریاں تصدیق کراسکتے ہیں‘تصدیق نہ کرانے والے سابق ارکان کیخلاف سپریم کورٹ سخت کارروائی کی ہدایات جاری کرچکی ہے ۔ ان 107 ارکان میں آنجہانی سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی‘ وہاڑی سے مرحوم رکن قومی اسمبلی عظیم دولتانہ اور سابق وزیراعلی خیبر پختونخواہ اکرم درانی کے مرحوم سابق رکن اسمبلی زیاد اکرم درانی کے علاوہ پیپلزپارٹی‘ (ق) لیگ‘ (ن) لیگ‘ جے یو آئی‘ ایم کیو ایم سمیت کئی جماعتوں کے ارکان سابق وفاقی وزراءشامل ہیں ان میں سابق وزیر مملکت غلام مجتبیٰ کھرل‘ موجودہ وفاقی وزیر سینیٹر کامران مائیکل‘ (ن) لیگ کی موجودہ رکن قومی اسمبلی زیب جعفر‘ سابق وفاقی وزیر منظور وٹو‘ صدر زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری رخسانہ بنگش‘ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی اور سابق سینئر وزیر سید سردار احمد‘ سابق وزیر مملکت نعمان لنگڑیال‘ خیبر پختونخواہ کے سابق سینئر وزیر رحیم داد خان‘ سابق وفاقی وزراءشیخ وقاص اکرم‘ لیاقت عباس بھٹی اور سردار عمر گورگیج شامل ہیں۔ ایچ ای سی نے ان 107 سابق ارکان اسمبلی کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھی بھجوادی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں غیر مصدقہ ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے ارکان اسمبلی کیخلاف الیکشن کمیشن اور ایچ ای سی کو سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ ایچ ای سی نے ایسے سابق ارکان اسمبلی کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کردیہے اور ایسے ارکان سے کہا ہے کہ انہیں اپنی ڈگریوں کی تصدیق کیلئے اصلی ڈگریاں‘ میٹرک اور ایف اے کے مساویانہ سرٹیفیکیٹ اور قومی شناختی کارڈ کی نقل مہیا کرنا ہو گی۔ ایچ ای سی کی طرف سے جن 107 ارکان کے نام جاری کئے گئے ہیں جنہوں نے اپنی غیر مصدقہ ڈگریوں کی تصدیق نہیں کروائی ان میں فاٹا سے سابق رکن اسمبلی عبدالرزاق‘ بلوچستان اسمبلی کے عبدالرحیم خان مندوخیل‘ جے یو آئی (ف) کے خیبر پختونخواہ جنرل سیکرٹری‘ سابق سینیٹر گل نصیب‘ کے پی کے اسمبلی کی سابق رکن فوزیہ ارشد‘ این اے 152 سے سابق رکن لیاقت علی خان‘ این اے 200 سے سابق رکن میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو‘ این اے 16 سے سابق رکن سید حیدر علی شاہ‘ این اے 22 سے سابق رکن نواز خان‘ این اے 32 سے سابق رکن شہزادہ محی الدین‘ این اے 36 سے سابق رکن بلال رحمن‘ این اے 47 سے سابق رکن ظفر بیگ بیٹنی‘ این اے 47 سے سابق خاتون رکن قومی اسمبلی فرحت بیگم‘ این اے 233 سے سابق رکن طلعت اقبال مہیسر‘ سابق خاتون رکن عطیہ عنایت اللہ‘ بیگم شہناز شیخ‘ سابق اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نیلسن عظیم‘ این اے 168 سے سابق وفاقی وزیر اقلیتی رکن شہباز بھٹی‘ این اے 143 سے سابق رکن اور سابق وزیر مملکت رائے غلام مجتبیٰ کھرل‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی73 سے سابق رکن الیاس چنیوٹی‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی267 سے سابق رکن سید افتخار حسین گیلانی‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی262 سے سابق رکن احمد علی اولکھ‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی26 سے سابق رکن چوہدری ندیم خادم‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی228 سے سابق رکن چودھری جاوید احمد‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی77 سے سابق رکن محمد جاوید شیخ‘ پنجاب اسمبلی کے سابق اقلیتی رکن کامران مائیکل‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی219سے سابق رکن کرم داد واہلہ‘ پنجاب اسمبلی کی سابق خاتون رکن محمودہ چیمہ‘پنجاب اسمبلی کے پی پی291 سے سابق رکن مخدوم محمد ارتضیٰ‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی89 سے سابق رکن مخدوم علی رضا‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی117 سے سابق رکن آصف بشیر بھاگٹ‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی78 سے سابق رکن خالد محمود سرگانہ‘ پنجاب اسمبلی کے سابق رکن خرم نواب‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی203 سے سابق رکن عامر غنی‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی80 سے سابق رکن محمد مسعود لالی‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی234 سے سابق رکن شہریار علی خان‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی116 سے سابق رکن طارق محمود ساہی‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی135 سے سابق رکن مسز ثمینہ وسیم بٹ‘ پنجاب اسمبلی کی سابق خاتون رکن نرگس پروین اعوان‘ سابق اقلیتی رکن پرویز رفیق‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی36 سے سابق رکن رانا منور غوث خان‘ پنجاب اسمبلی کے پی پی249سے سابق رکن امان اللہ دریشک‘ پنجاب اسمبلی کی سابق خواتین ارکان زیب جعفر‘ معیزہ حمید‘ طیبہ ضمیر‘ فائزہ اصغر‘ سندھ اسمبلی کے سابق رکن پرتاب سنگھ‘ سندھ اسمبلی کے پی ایس 1 سے سابق رکن نصراللہ بلوچ‘ سندھ اسمبلی کے پی ایس 66 سے سابق رکن میر حاجی حیات تالپور‘ سندھ اسمبلی کے پی ایس 67 سے سابق رکن میر محبوب علی‘ سندھ اسمبلی کے پی ایس 128سے سابق رکن امان اللہ خان مسعود‘ سندھ اسمبلی کے پی ایس 113 سے سابق رکن عسکری تقوی‘ سندھ اسمبلی کی سابق خاتون رکن رقیہ خانم‘ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 36 سے سابق رکن آغا عرفان کریم‘ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 40 سے سابق رکن محمد رحیم‘ بلوچستان اسمبلی کی سابق خاتون رکن ثمینہ رزاق‘ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 17سے سابق خاتون رکن مسز نسرین رحمن کھیتران‘ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 49 سے سابق رکن ظہور احمد کھوسہ‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 5 سے سابق رکن عطیف الرحمن‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 6 سے سابق رکن محمد عالمگیر خلیل‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 26 سے سابق رکن شیر افگن خان‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 55 سے سابق رکن مفتی کفایت اللہ‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 70 سے سابق رکن زیاد اکرم درانی‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 سے سابق رکن قیصر ولی خان‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 93 سے سابق رکن حیات‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 96 سے سابق رکن زمین خان‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 97 سے سابق رکن ذکریا اللہ خان‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی سابق خاتون رکن ڈاکٹر فائزہ رشید‘ تبسم یونس کتوزئی‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 56 سے سابق رکن وجیہہ الزماں‘ خیبر پختونخواہ سے سینیٹر گلزار احمد خان‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 100 سے سابق رکن مدثر قیوم نارا‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 176 سے سابق رکن محسن علی قریشی‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 146 سے سابق رکن میاں منظور وٹو‘ قومی اسمبلی سابق خاتون رکن اور صدر زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری رخسانہ بنگش‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 84سے سابق رکن بلال اصغر وڑائچ‘ پنجاب اسمبلی کی سابق خاتون رکن یاسمین خان‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 28 سے سابق رکن حافظ اختر علی‘ سندھ اسمبلی سابق خاتون رکن توقیر فاطمہ بھٹو‘ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 25 سے سابق رکن احمد علی خان جلبانی‘ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 116 سے سابق رکن سید سردار احمد‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 163 سے سابق رکن ملک نعمان لنگڑیال‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 14 سے سابق رکن راجہ حنیف عباسی‘ پی پی 71 سے ملک نواز‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 86 سے سابق خاتون رکن نیلم جبار‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 98 سے سابق رکن محمد ارقم خان‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 123 سے سابق رکن عمران اشرف‘ سندھ اسمبلی کی سابق خاتون رکن نادیہ گبول‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 107 سے سابق رکن جمیل ملک‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 272 سے سابق رکن یعقوب بزنجو‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 170 سے سابق رکن طارق محمود باجوہ‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 160 سے سابق رکن رانا مبشر اقبال‘ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 6 سے سابق رکن اکرام اللہ دھریجو‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 27 سے سابق رکن رحیم داد خان‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 166 سے سابق رکن منور حسین منج‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 254 سے سابق رکن ارشاد احمد خان‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 279سے سابق رکن رانا عبدالرﺅف‘ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 3 سے سابق رکن جام سیف اللہ دھاریجو‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 166 سے سابق رکن رانا زاہد حسین‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 74 سے سابق رکن سید حسن مرتضی‘ قو می اسمبلی کے حلقہ این اے 39 سے سابق رکن جواد حسین‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89 سے سابق رکن شیخ وقاص اکرم‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 103 سے سابق رکن لیاقت عباس بھٹی‘ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 188 سے سابق رکن خادم حسین‘ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 159 سے سابق رکن فاروق یوسف گھرکی اور قومی اسمبلی کے این اے 260 سے سابق رکن عمر گورگیج شامل ہیں۔

مزید : صفحہ آخر