پرویز مشرف غداری کیس:اٹارنی جنرل نے حکومتی موقف عدالت میں پیش کر دیا

پرویز مشرف غداری کیس:اٹارنی جنرل نے حکومتی موقف عدالت میں پیش کر دیا
 پرویز مشرف غداری کیس:اٹارنی جنرل نے حکومتی موقف عدالت میں پیش کر دیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے پرویز مشرف غداری کیس میں حکومتی موقف عدالت میں پیش کر دیا، جسٹس عارف خلجی نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں درج چیز کے لئے سیاسی مشاورت کی ضرورت نہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ کابینہ اجلاس جاری ہے لہٰذا ابھی سماعت نہ کی جائے، اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ انہیں حکومتی موقف معلوم ہے تاہم حتمی ہدایات کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا کہ ایک درخواست میں پانچ سو کے قریب افراد کو فریق بنایا گیا ہے اور انصاف کا تقاضایہ ہے کہ تمام فریقین کو نوٹس جاری کئے جائیں۔ کابینہ اجلاس اور بعدازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے خطاب کے بعد اٹارنی جنرل نے حکومتی موقف عدالت میں پیش کر دیا جس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا کہا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عدالت کے روبرو داخل کئے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے آئین کے دفاع اور تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، حکومت سمجھتی ہے کہ 3 نومبر 2007ءکے اقدامات غیر آئینی تھے جس پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہوتا ہے، اس معاملے پر سیاسی قوتوں کو مشاورت کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے گا۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عارف خلجی نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں درج چیز کے لئے سیاسی مشاورت کی ضرورت نہیں ہے، بظاہر اس سے اچھا بیان نہیں ہو سکتا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں