پنشیزا اور اس کی بیوہ کے انتقال کی ضورت میں غیر شادی شدہ بیٹی پنشن کی حقدار ہے

پنشیزا اور اس کی بیوہ کے انتقال کی ضورت میں غیر شادی شدہ بیٹی پنشن کی حقدار ہے ...

                           لاہور( جنرل رپورٹر)محتسب پنجاب جاوید محمودنے پنشنر اوراس کی بیوہ کے انتقال کی صورت میں اس کی غیر شادی شدہ اوربیوہ بیٹی کے علاوہ مطلقہ بیٹی کو بھی دوسری شادی یا ملازمت تک فیملی پنشن کا حقدار قرار دے دیا ہے جبکہ مرحوم پنشنر کے جائز وارثان کی عدم موجودگی میں اس کی غیر شاد ی شدہ یابیوہ بہن کے علاوہ مطلقہ بہن بھی شاد ی کرنے یا ملازمت ملنے تک اپنے مرحوم بھائی کی پنشن کی حقدار ہوگی ۔محتسب پنجاب نے اپنے فیصلے میں پنشنرز کی مطلقہ یا بیوہ بیٹی اور غیر شادی شدہ،مطلقہ یا بیوہ بہن کیلئے زیادہ سے زیادہ دس سال تک فیملی پنشن وصول کرنے کی مدت سے متعلق شرط ختم کرنے کا حکم دیا ہے اوراپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ فیملی پنشن اس وقت تک دی جائے جب تک مرحوم پنشنر کی بیٹی یابہن شادی نہ کر لے یا ملازمت ملنے پر اس کا ذریعہ معاش پیدانہ ہو جائے۔محتسب پنجاب نے یہ حکم پنشنرزفضل حسین مرحوم کی مطلقہ بیٹی سمیراگلنار خانم، عبدالرحیم خان مرحوم کی مطلقہ بیٹی زبیدہ بی بی اورمرحومہ شفقت آراکی غیر شادی شدہ بہن سکینہ بی بی کی ایک نوعیت کی درخواستوں پر دیا۔درخواستوں میں سمیراگلنارخانم نے طلاق ملنے پر اپنے والد فضل حسین اور زبیدہ بی بی نے بھی طلاق ملنے پر اپنے والد عبدالرحیم کی فیملی پنشن کی استدعا کی تھی جبکہ سکینہ بی بی نے درخواست کی کہ وہ غیر شادی شدہ ہے اوردس سال سے اپنی مرحومہ بہن شفقت آراءکی فیملی پنشن حاصل کررہی ہے لیکن دس سال کا عرصہ پورے ہونے پر اس کی فیملی پنشن بند کردی گئی ہے جس سے وہ معاشی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔محتسب پنجاب جاوید محمود نے” محتسب پنجاب پنشن سیل “کے انچارج ایڈوائزر وزیراحمد قریشی کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی ۔محتسب پنجاب نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ پنجا ب حکومت پنشنر کی غیر شادی شدہ بیٹی کو شادی یا ملازمت ملنے تک اوربیوہ بیٹی کو شادی یا ملازمت نہ ملنے کی صورت میں دس سال تک فیملی پنشن دے رہی ہے ۔اسی طرح مرحوم پنشنرکے جائز وارثان کی عدم موجودگی میں اس کی غیر شادی شدہ یا بیوہ بہن کو بھی دس سال تک ملازمت ملنے یا شادی نہ ہونے کی صورت میں فیملی پنشن دی جارہی ہے لیکن فیملی پنشن کے معاملے میں مطلقہ بیٹی اورمطلقہ بہن کو نظراندازکردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنشنرکی مطلقہ بیٹی اورحقیقی وارث نہ ہونے کی صورت میں مطلقہ بہن بھی اس کی فیملی پنشن کی حقدار ہے ۔انہوں نے کہا کہ فیملی پنشن کیلئے دس سال کے عرصے کی شرط بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے کیونکہ کوئی ذریعہ معاش نہ ہونے کی صورت میں پنشنرکی مطلقہ یابیوہ بیٹی اورغیر شادی شدہ، مطلقہ یابیوہ بہن اپنے والد اوربھائی کا سایہ چھن جانے کے بعد کس کے دروازے پر جائیں۔محتسب پنجاب نے کہا کہہ آئین پاکستان کی دفعات9اور38ہر شہری کوخوراک ، رہائش ، تعلیم اورصحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کی ضمانت دیتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں دی گئی ضمانتوں کا تقاضہ ہے کہ مرحوم پنشنرکی غیرشادی شدہ اوربیوہ بیٹی کے علاوہ مطلقہ بیٹی اورحقیقی وارثان کی عدم موجودگی میں غیر شادی شدہ اوربیوہ بہن کے علاوہ مطلقہ بہن کو بھی شادی ہونے یا ملازمت ملنے تک فیملی پنشن دی جائے۔محتسب پنجاب نے محکمہ خزانہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں مجازاتھارٹی سے اجازت لے کر ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کرے اور حکم پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ کے اندر محتسب آفس رپورٹ پیش کرے۔

مزید : صفحہ آخر