علمائے کرام غربت پر توجہ دیں

علمائے کرام غربت پر توجہ دیں
علمائے کرام غربت پر توجہ دیں
کیپشن: abu amaar zahid

  

15جون2014ءکو جامعہ اشرفیہ لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام کے مشترکہ علمی و فکری فورم ”ملی مجلس شرعی پاکستان“ کا ایک اہم اجلاس مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مولانا مفتی محمد خان قادری، علامہ احمد علی قصوری، مولانا عبد المالک خان، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا سید عبد الوحید، حافظ عاکف سعید، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا سید قطب، مولانا قاری احمد وقاص، اور راقم الحروف نے شرکت کی۔

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں کے لئے، جو سوال نامہ جاری کیا گیا ہے، ملی مجلس شرعی نے مختلف مکاتب فکر کی طرف سے اس کا متفقہ جواب بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لئے ایک مشترکہ کمیٹی کئی ماہ تک کام کرتی رہی ہے اور اس نے متفقہ جواب تیار کر لیا ہے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے اس کی رپورٹ پیش کی، جس پر اجلاس میں اس متفقہ جواب کی منظوری دیتے ہوئے اسے وفاقی شرعی عدالت کو باضابطہ طور پر بھجوانے اور شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں راقم الحروف نے تحریک انسداد سود پاکستان کے کنونیئر کی حیثیت سے ملک کے مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں منعقد ہونے والے اجتماعات کی رپورٹ پیش کی اور طے پایا کہ رمضان المبارک کے بعد عوامی و دینی حلقوں میں سود کے بارے میں بیداری اور آگہی کو فروغ دینے کے لئے تحریک انسداد سود پاکستان کی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا۔

اجلاس میں ملک کی عمومی صورت حال اور مختلف عوامی مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا اور سرکردہ علمائے کرام نے اس سلسلہ میں اپنی تجاویز پیش کیں۔

مولانا مفتی محمد خان قادری نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور مہنگائی کا ہے اور غریب آدمی اس چکی میں بُری طرح پستا چلا جا رہا ہے، مگر دینی حلقوں اور علمائے کرام کی اس طرف پوری طرح توجہ نہیں ہے، حالانکہ معاشرے کے غریب اور مستحق لوگوں کا خیال رکھنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اس لئے علمائے کرام، دینی جماعتوں، مدارس اور مساجد کو اپنے پروگرام میں اس بات کو بھی شامل کرنا چاہئے اور ہر مسجد میں ایک ایسی کمیٹی ہونی چاہئے، جو اردگرد کے نادار اور غریب لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھے اور ان کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کا اہتمام کرے۔

مولانا حافظ فضل الرحیم نے اس طرف توجہ دلائی کہ میڈیا اور ابلاغ کے ذرائع کی طرف سے فحاشی اور عریانی کے فروغ کا دائرہ جس طرح وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس سے ہماری دینی اور اخلاقی قدریں تباہ ہو رہی ہیں، فحاشی کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے اور ثواب و گناہ کا فرق مٹنے لگا ہے۔ اگر اس کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو نئی نسل کے ایمان اور اخلاق کی حفاظت مشکل ہو جائے گی۔

مولانا حافظ عاکف سعید نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کی اصل جڑ یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک ہم ملک میں اقامت دین اور دینی احکام و قوانین کے نفاذ کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں، بلکہ سودی نظام کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولﷺکے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ جب تک اس صورت حال کو تبدیل نہیں کیا جاتا ہمارے مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور ایک ایک مسئلہ کو لے کر اسے حل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔

علامہ احمد علی قصوری نے اس بات پر زور دیا کہ دینی حلقوں نے جب بھی کسی مشترکہ قومی اور دینی مسئلہ پر اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور متفق ہو کر تحریک چلائی ہے انہیں اس میں ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام مصطفیﷺکے مسئلہ پر بھی اسی اتحاد اور عزم کا اظہار کیا جائے، جس کا مظاہرہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالتﷺ کے مسئلہ پر کیا گیا تھا۔

مولانا سید عبد الوحید نے کہا کہ ہمیں عوام میں یہ شعوربھی پیدا کرنا چاہئے کہ امارت اور تعیش کے بے جا مظاہرے اور معیار زندگی میں بے تحاشہ فرق کو ختم کیا جائے۔ اس لئے کہ اس سے غریب عوام میں مایوسی پھیلتی ہے اور معیار زندگی کی دوڑ میں بہت سی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

مولانا عبد المالک خان نے کہا کہ قومی اور عوامی مسائل کے لئے دینی حلقے اور علماءکرام اپنی اپنی جگہ تو کام کر رہے ہیں ،لیکن ان میں اجتماعیت اور مشاورت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی بھی کام اجتماعی طور پر سر انجام دینے سے اس میں قوت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ برکت بھی ہوتی ہے۔

اجلاس میں ان امور کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ان مسائل کی طرف دینی اور عوامی حلقوں کو توجہ دلانے کے علاوہ ان کے بارے میں منظم جدوجہد کے لئے ایک رپورٹ مرتب کی جائے گی اور رمضان المبارک کے بعد ملی مجلس شرعی کے اجلاس میں اس کا جائزہ لے کر اس مہم کو آگے بڑھانے کا طریق کار طے کیا جائے گا۔ انشا اللہ تعالیٰ۔ ٭

مزید :

کالم -