عوامی نمائندے اپنی تنخواہوں کے مسئلے پر متحد

عوامی نمائندے اپنی تنخواہوں کے مسئلے پر متحد
عوامی نمائندے اپنی تنخواہوں کے مسئلے پر متحد

  

اخباری خبر کے مطابق 2015-16ء کے بجٹ میں ارکان پارلیمان کی تنخواہوں میں 100فیصد اضافے کی تجویز آئی ہے۔ اگرچہ یہ اب تک منظور نہیں ہوئی، مگر ہمارے محترم قانون ساز اس پر بہت سخت سٹینڈ لئے ہوئے ہیں کہ اسے لازماً منظور کیا جائے۔ انھوں نے اسے اپنی جیب کے علاوہ اپنی ناک کا مسئلہ بھی بنا لیا ہے۔ خبر کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین میاں عبدالمنان صاحب نے کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے، کہ ان کی سفارش کیوں منظور نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے سفارشات مرتب کیں جو وزارت خزانہ اور وزیراعظم کو بھجوائی گئیں۔ ان کے مطابق ارکان پارلیمان نے اپنے ماہانہ معاوضے سڑسٹھ ہزار میں کم وبیش سوفیصد اضافے کے ساتھ اسے ایک لاکھ تیس ہزار کرنے کی سفارش کی ہے۔ واضح رہے کہ ڈیلی الاؤنسز اور سفری اخراجات اس کے علاوہ ہیں، جن کے اعداد وشمار اگر آپ کے سامنے آئیں تو آپ کا سرچکراجائے۔

ہمارے قانون سازوں کی کارکردگی پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ پربحث کے دوران ارکان کی زیادہ سے زیادہ حاضری 42 اور کم سے کم 18 رہی۔ آپ کے علم میں ہے کہ ایوان میں ارکان کی تعداد 342 ہے۔ کورم کا مسئلہ ہراجلاس میں پیش آتا ہے۔ وزرا کا ایوان میں آنااچنبھے کی بات ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی رکن کورم کی نشان دہی کردے تو حکومتی ارکان کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ اس کے باوجود کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کورم جلدی پورا ہوجائے۔ اگر ہم پارلیمان کی سال بھر کی کارکردگی دیکھیں اور منعقد ہونے والے اجلاسوں کے دن گنیں تو پتا چلتا ہے کہ سب سے زیادہ غافل، فرض ناشناس اور غیرذمہ دار یہی طبقہ ہے۔ یہاں کی سیاست کسی اصول پر مبنی نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اس وقت عوامی نمایندگی کے دعوے کرنے والی تین بڑی جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان سوفیصد اضافے کی پرزور حمایت کررہے ہیں۔

آئیے ذرا اپنی زرّیں تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ ہم کس بلندی پر تھے اور اب کس پستی میں گر چکے ہیں۔ خلیفۂ اول سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی بیعت کی گئی تو اگلے دن وہ اپنے کپڑے کے کاروبار کے لئے گھر سے نکلے۔ ان کے مشیرخاص سیدنا عمربن خطابؓ نے پوچھا: ’’خلیفۂ رسولؐ کہاں جارہے ہیں؟‘‘فرمایا: ’’اپنا رزق حلال تلاش کرنے کے لئے بازار جانا چاہتا ہوں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’امیرمحترم! حکمران کی ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اسے تجارت زیب ہی نہیں دیتی۔‘‘ سیدنا ابوبکرؓ نے پوچھا: پھر میں اپنی معاش کا کیا کروں؟‘‘ تو عظیم المرتبت مشیر نے جواب دیا:’’یہ سرکاری بیت المال کی ذمہ داری ہے‘‘۔ مشاورت میں امیرالمومنین کا معاوضہ طے کیا جانے لگا تو انھوں نے فرمایا: ’’میرا معاوضہ بہت زیادہ مقرر نہ کیا جائے، قریش کے متوسط درجے کے ایک گھرانے کا جو میزانیہ ہوتا ہے وہ یا اس سے بھی کم میرا معاوضہ طے کیا جائے۔‘‘ خلیفۂ رسول ابوبکرصدیقؓ خلافت سے قبل مال دار تجار میں سے تھے، مگر بارِخلافت کندھوں پر آگیا تو بمشکل ایک متوسط گھرانے کی طرح شب وروز گزرنے لگے۔ ایک جانب ہماری یہ تاریخ ہے اور دوسری جانب پاکستان کے مقتدر طبقات کے یہ لچھن!

اب آپ اندازہ کیجیے کہ عام ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد یا زیادہ سے زیادہ دس فیصد اضافہ تجویز کیا جاتا ہے اور رونا یہ رویا جاتا ہے کہ وسائل نہیں۔ یہ درست ہے کہ وسائل نہیں ہیں لیکن اللّے تللّوں میں حکمران جس طرح ان وسائل میں لوٹ مار کررہے ہیں اس کی جواب دہی کون کرے گا اور کب کرے گا۔ یہاں کے وسائل سے جو دولت لوٹ کر بیرونی ممالک کے بنکوں میں جمع کرائی گئی ہے، اسے واپس کون لائے گا؟ اگروہ واپس لائی جائے تو کیا وسائل کا مسئلہ حل اور آئی ایم ایف کی غلامی ختم نہ ہوجائے گی؟ ان حکمرانوں اور عوامی نمایندوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہاں کی عدالتیں اگر بے بس اور نااہل ہیں تو ایک عدالت اور بھی ہے۔ اس عدالت میں ذرے ذرے کا حساب ہوگا۔

خوف خدا سے مالا مال حکمرانوں کا حال تو یہ تھا کہ خلیفۂ راشد بیت المال میں آئے ہوئے سیب حق داروں میں تقسیم کررہے تھے کہ ان کا کوئی چھوٹا بچہ آیا جس نے ایک سیب اٹھایا اور اس میں سے کھانے لگا، مگر امیرالمومنین نے اس کے ہاتھ سے وہ سیب لے لیا اور فرمایا کہ یہ امانت ہے۔ بچہ روتا روتا اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ جب امانت تقسیم کرنے کے بعد امیرالمومنین گھر گئے تو بچہ سیب کھا رہا تھا۔ انھوں نے پوچھا کہ یہ سیب کہاں سے لیا ہے؟ تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ بچے کے ہاتھ سے جب آپ نے سیب چھین لیا تھا تو وہ روتا ہوا میرے پاس آیا۔ میں نے بازار سے سیب خرید کر اسے دیا ہے۔ عادل حکمران نے اپنے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا، اس کا ماتھا چوما اور فرمایا: ’’لختِ جگر! اگر تم وہ سیب کھاتے اور میں دیکھتا رہتا تو قیامت کو ہم دونوں اللہ کے ہاں پکڑے جاتے۔‘‘

یہ ہے احساس ذمہ داری جو ہمارا طرہ امتیاز تھا۔ جب ہمارے یہ شب وروزتھے تو قیصروکسریٰ ہم سے لرزہ براندام تھے۔ آج ان لٹیرے حکمرانوں کی وجہ سے تمام ایوانوں میں بزدلی چھاگئی ہے۔عوامی نمائندوں کی کارکردگی اور ان کے اپنے حق میں مراعات پیکیج، پھر سارے اختلافات کے باوجود اس مسئلے پر اتحاد باہمی کیا اشارہ کرتا ہے۔ اس ملک میں ایک طبقہ اشرافیہ ہے جو تمام مراعات ووسائل پر قابض ہے اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے کے باوجود ذاتی مفادات کے لئے ایک گھاٹ پہ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ باقی 99 فیصد عوام ہیں جو ان کی نظروں میں کسی حق اور مراعات کے مستحق نہیں، مگر بدقسمتی سے وہ اپنی منزل سے بے خبر اور لاشعور ہیں۔

مزید : کالم