صدقہ و خیرات ذمہ داری کے ساتھ

صدقہ و خیرات ذمہ داری کے ساتھ
 صدقہ و خیرات ذمہ داری کے ساتھ

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام برکات کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں روزہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے سے کم وسیلہ مسلمان بھائی کے مسائل سے آگاہ ہو۔ اس کی بھوک پیاس اور کم وسائل کا احساس کرے۔ اپنے کردار اور افعال کے ساتھ ساتھ اپنے مال سے بھی دوسروں کو فیض یاب کرے۔ حکومت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ اگر مُلک عزیز کے مخیر حضرات تہہ دل سے اس ماہ کی برکات سمیٹنا چاہیں تو غریب غرباء کی بھرپور مالی امداد کر کے ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان کے مہینے میں عموماً صدقہ اورخیرات زیادہ فراخ دلی سے تقسیم کئے جاتے ہیں،لیکن عموماً ہر بندہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، جو حق دارنہیں ہوتا اور غریب اور مستحقین کو اس کا حق نہیں مل پاتا۔ مخیر حضرات اور جن کے ذمہ زکوٰۃ، صدقات، فطرانہ واجب الادا ہوں ان کو چاہئے کہ وہ دیکھ بھال کر صحیح حق داروں کو ان کا حق پہنچائیں۔

زکوٰۃ کی شرح بمطابق قرآن و سنت ہونی چاہئے، زکوٰۃ کا نصاب جو قرآنِ پاک نے تعین کیا ہے اس کے مطابق ہی واجب الادا ہونا چاہئے ورنہ اس کی بڑی کڑی سزا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اِن کے خلاف جہاد کا حکم دیا ہے،جو بکری کے گلے میں رسی برابر زکوٰۃ دینے سے انکاری ہو گا۔عوام کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اِسی طرح صدقات، خیرات اور زکوٰۃ کو ان کے حقیقی حق داران کو پہنچایا جائے، اس کے لئے چند ایک تجاویز زیر غور آنی چاہئیں۔

*۔۔۔ زکوٰۃ کی وصولی ریاست کی ذمہ داری ہے اس ضمن میں کسی بھی غیر سرکاری ادارے کو بغیر چانج پڑتال کے اجازت نہیں ملنی چاہئے کہ وہ زکوٰۃ و صول کرے، کیونکہ اس طرح شفافیت کا نظام رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔سرکاری اداروں کے ذریعے عوام کو زکوٰۃ کی وصولی ہونا بہتر ہے، جیسے کہ محکمہ بیت المال کے ذریعے غریب عوام کو ان کا حق ملتا ہے۔

*۔۔۔ کالعدم تنظیموں کی ترویج کی ایک بڑی وجہ ان کو ملنے والی صدقات اور خیرات کی ایک خطیر رقم ہے۔ ان کالعدم تنظیموں کو ملنے والی خیرات کے نظام کو ریگولر کروانا چاہئے تاکہ مُلک میں بے امنی کی جو لہر ان کالعدم تنظیموں کی غیر مناسب سرگرمیوں سے پیدا ہوتی ہے اس میں کمی واقع ہو۔ عموماً کالعدم تنظیموں کی طرف سے دکانوں کے باہر، کمرشل مارکیٹوں میں صدقات اور خیرات کے لئے ڈبے رکھے جاتے ہیں۔عوام ثواب کی نیت سے اور بغیر دیکھے مدد کی غرض سے ان میں چندہ دیتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ ایسے تمام چندہ اکٹھا کرنے والے عناصر اور ڈبوں پر نظر رکھیں تاکہ عوام کی طرف سے ان عطیات کو صحیح جگہ استعمال کیا جا سکے۔

*۔۔۔ صوبائی حکومتوں کو تمام نامعلوم خیراتی اداروں کو بند کر دینا چاہئے، کیونکہ ایسے اداروں کا مقصد غریب کی مالی امداد نہیں، بلکہ اپنی جیب بھرنا ہے۔ صوبائی حکومتوں اور عوام کے تعاون سے اگر صدقہ، خیرات و زکوٰۃ صحیح افراد میں تقسیم ہوں تو مُلک میں غربت کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہوسکتی ہے، سرکاری اداروں کو غریب خاندانوں کے کوائف کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد حقیقی مستحقین کو ترجیح دینی چاہئے اور ان کو ماہانہ رقم کی ترسیل ہونی چاہئے۔ اگر سرکاری اداروں میں شفافیت کا نظام برقرار رکھا جائے اور صحیح حق داروں کو ان کا حق مل جائے تو عوام کا اعتماد بھی سرکاری اداروں پر بحال ہوتا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...