برما کے مسلمان

برما کے مسلمان
 برما کے مسلمان

  

برما میں مسلمان اقلیت روہنگیا کہلاتی ہے۔ روہنگیا مسلمان یہاں سینکڑوں سال سے آباد ہیں۔ یہاں کے مقامی باشندوں کی نسل سے ہیں، جبکہ دوسرے گروہ کہتے ہیں کہ مغرب سے ہجرت کر کے یہاں آنے والے مسلمانوں کی اولاد روہنگیا ہیں۔ کچھ محققین کے مطابق 1826ء میں جب یہ علاقہ برطانوی حکومت میں شامل تھا تو بنگال کے مسلمانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ اس کم آبادی والے ملک رافائن یا اراکان کی طرف نقل مکانی کر لیں۔روہنگیا میں مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا اور بدھ اکثریت انہیں مقامی و سائل پر بڑھتا ہوا بوجھ سمجھنے لگی۔ میانمار (برما) کے قانون میں روہنگیا کو مقامی، شہری تسلیم نہیں کیا گیا ۔ لاکھوں کی آبادی کو بنیادی حقوق اور نہ ہی کوئی ریاستی تحفظ دیا گیا۔ان کے تعلیمی مواقع بھی انتہائی محدود ہیں۔ صحت کی ناکافی سہولتیں اور بدھوں کی مذہبی تنگ نظری نے ان کی سماجی، معاشی اور شعوری ترقی پر نہایت منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے ۔کئی بار ان مسلمانوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے کے لئے پولیس اہلکاروں کو بھاری رشوت دینا پڑتی ہے۔ اگر ان کو ایمرجنسی کی صورت میں مرکزی شہرینگوں جانا ہو تو کئی بار انہیں چار ہزار ڈالر تک رشوت کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تعصب پھیلا نے کے لئے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ روہنگیا اس ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ روہنگیا باشندوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ان کی بے بسی اور کسمپری کا یہ عالم ہے کہ پوری دنیا میں کہیں بھی ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ۔انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے ۔عورتوں اور مردوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے ،جبکہ معصوم بچوں کو پاؤں تلے کچلا جا رہا ہے ۔ان پر درد ناک موت مسلط کی جارہی ہے اور اب تک ہزاروں افراد کو مارا جا چکا ہے ۔ڈیڑھ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا اور اب یہ لوگ گنجائش سے کہیں زیادہ بھرے ہوئے کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں ۔یہ ساری صورت حال انہیں مقامی سطح پر مایوسی کا شکار کر رہی ہے۔ ان حالات سے تنگ آکر روہنگیا اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے اب میانمار سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی پہلی خواہش ملائیشیا پہنچنا ہوتی ہے جہاں وہ غیر قانونی طور پر محنت مشقت کر کے کام کرتے ہیں۔ برما کے حالات اس قدر خراب ہیں کہ روہنگیا اس جہنم سے نکلنے کے لئے اپنی زمین، مویشی اور سونے سمیت ہر چیز بیچ رہے ہیں۔ ان کی یہاں سے نکلنے کی خواہش نے انسانی سمگلروں کو ان کی طرف متوجہ کر دیا۔

انسانی سمگلر ایڈوانس رقم پر انہیں کسی تیسرے ملک پہنچانے کا معاہدہ کرتے ہیں۔باقی رقم منزل پہ پہنچنے پر وصول کرنے کی شرط مان لیتے ہیں۔انسانی سمگلران لوگوں کو لوٹنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ کبھی وہ خرچہ ختم ہونے کا بہانہ کر کے مزید رقم ہتھیا لیتے ہیں ۔ ان انسانی سمگلروں کا پہلا پڑاؤ تھائی لینڈ کے ساحلی جنگل ہوتے ہیں، جہاں انہوں نے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ یہ انسانی سمگلر مسافروں کے ساتھ مغویوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ ان کا تاوان مانگا جاتا ہے جس کا تاوان نہ ملے، اس کو تھائی لینڈ کے جنگلوں میں بنے خفیہ ٹھکانوں پر قید کر لیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلر انہیں مارتے پیٹتے ہیں، زندہ رہنے کے لئے تھوڑا کھانا دیتے ہیں۔ ایسے ٹھکانوں سے بہت سی بے نام قبریں ملی ہیں۔ تھائی حکومت نے جب ان انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔تو ان سمگلروں نے اپنا طریقہ کار تبدیل کر لیا۔ اب یہ لوگ اپنے مسافروں کو تھائی سر زمین پر اُتار نے کی بجائے ،سمندر میں کھڑی کشتیوں میں ہی روک لیتے ہیں۔ جیسے ہی انسانی سمگلروں کو ان کی رقم ملتی ہے تو انسانی سمگلر ان مسافروں کو چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کی مدد سے ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحدوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کام میں انسانی سمگلر ہی ملوث نہیں ، انہیں سیاسی رہنماؤں اور پولیس حکام کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

میانمار حکومت جو اس ساری صورت حال کی ذمہ دار ہے، وہ اپنی ان خرابیوں پر بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنا ضروری نہیں سمجھ رہی۔ آج کے دور میں ایسی مثال کسی اور ملک اور علاقے میں نہیں ملتی کہ جہاں صدیوں سے آباد باشندوں کو ریاست اپنا شہری تسلیم نہ کرے۔انسانی حقوق کی عالمی چیمپئن ہونے کی دعویدار مغربی دنیا کوئی مؤثر اقدام کرتی ہے نہ مسلمان ممالک ان کے تحفظ کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ ترک حکومت نے البتہ حالیہ دنوں میں تھائی لینڈ سے سمندر میں دھکیل دیئے جانے والے روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک میں پوری کشادہ دلی سے پناہ دینے کا مستحسن قدم اُٹھایا ہے۔ پاکستانی عوام اس صورت حال کو انتہائی تشویش اور اضطراب کے ساتھ دیکھ رہے تھے اور چاہتے تھے کہ حکومت پاکستان مظلوم برمی مسلمانوں کی حمایت اور بحالی کے لئے کوئی مؤثر اقدام عمل میں لائے۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے برمی مسلمانوں کی مدد کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام پاکستانی قوم کے جذبات اور خواہشات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ ابھی تک مالی امداد میں بھی پاکستان نے سب سے زیادہ امداد کی ہے۔ بڑی اور خود کو مہذب قرار دینے والی طاقتوں کو میانمار حکومت پر دباؤ ڈال کر روہنگیا کے لئے سیاسی حقوق کی بات کرنا ہو گی، ورنہ سینکڑوں روہنگیا آئے دن میانمار سے فرار کی کوشش میں انجان سمندروں میں مارے جاتے رہیں گے۔

مزید : کالم