سعودی وزیر دفاع کا دورۂ روس!

سعودی وزیر دفاع کا دورۂ روس!

20ویں صدی کے تیسرے اور چوتھے عشروں میں سعودی عرب میں تیل دریافت ہو چکا تھا اور شاہ عبدالعزیز جو قبل ازیں نجد و حجاز کے فرمانروا تھے وہ سارے سعودی عرب کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے، لیکن ہاؤس آف سعود کی اصل قوت کی شروعات اُس وقت ہوئیں جب1945 میں امریکہ نے سعودی شاہ کا دامن تھاما۔

1945ء کا آغاز ہوا تو دوسری عالمی جنگ میں نازی افواج اگرچہ ہر محاذ پر پسپا ہو رہی تھیں، لیکن برلن اور اس کے گردو و نواح کے علاقے فی الحال ہٹلر کی نازی افواج کے کنٹرول میں تھے۔دُنیا کی ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی کرسک (Krusk) کے میدانوں میں لڑی جا چکی تھی اور سٹالن کی افواج نے جرمن پنیرز (ٹینک) ڈویژنوں کو مات دے دی تھی۔ برما میں بھی جاپانیوں کو پسپائیوں کا سامنا تھا۔ یہ حقیقت نوشت�ۂ دیوار تھی کہ محوری قوتوں (جرمنی اور جاپان) کو اتحادی قوتیں (امریکہ، برطانیہ، روس، آسٹریلیا وغیرہ) بہت جلد حتمی شکست سے دوچار کر دیں گی۔ ایسے میں اتحادیوں نے یالٹا(Yalta) میں ایک کانفرنس منعقد کی اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں جنگ کی سٹرٹیجی کے خدوخال متعین کئے۔ اس کانفرنس میں اس وقت کے اتحادیوں کے تین بڑوں (روز ویلٹ، سٹالن اور چرچل) نے شرکت کی تھی۔

سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی سیاسیات کے سمجھنے والے عرب رہنماؤں میں سب سے اہم اور قد آور شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ یہ اس لئے نہیں تھا کہ سعودیہ میں تیل نکل آیا تھا، بلکہ شاہ نے جس طرح اپنی قوت کو مجتمع کیا تھا، جس طرح نجد و حجاز کے مختلف قبائل کو اکٹھا کیا اور جس طرح ابن وہاب کی سخت اور درشت تعلیمات کو مُلک کے طول و عرض میں نافذ کیا تھا۔ وہ سب کچھ گلوبل پاورز کے سامنے تھا۔ چنانچہ جب صدر امریکہ یالٹا کانفرنس سے واپس امریکہ جا رہے تھے اور جنگ کے خاتمے کے بعد کی سیاسی اور عسکری صورت حال کو ابھرتا دیکھ رہے تھے تو اس تناظر میں ان کو شاہ عبدالعزیز کے تیل کی قوت اور عالمِ اسلام میں ان کے مذہبی تشخص کا از بس احساس ہوا۔ اس لئے روز ویلٹ نے سعودی شاہ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ یہ ملاقات ایک جنگی بحری جہاز (فریگیٹ) میں20فروری 1945ء کو ہوئی۔ یہ جہاز، نہر سویز کو عبور کر رہا تھا تو قاہرہ کے نزدیک اسے لنگر انداز کر کے سعودی فرمانروا کو ملاقات کا پیغام بھیجا گیا۔

دونوں حکمرانوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی، اس کا سارا ریکارڈ تو موجود ہے، لیکن جو بات اکثر قارئین کو معلوم نہیں وہ یہ ہے کہ روز ویلٹ اور شاہ عبدالعزیز دونوں فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ چنانچہ مترجم (Interpreter) کے بغیر جو گفتگو ان دونوں حکمرانوں کے مابین ہوئی،اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، صرف بتایا جاتا ہے کہ اس گفتگو میں صدر امریکہ نے سعودی فرمانروا سے اُن ضمانتوں اور وعدے وعید پر سیر حاصل بحث کی جو آنے والے برسوں بلکہ عشروں تک دونوں ممالک کے حکمرانوں کے مابین سٹرٹیجک تعلقات کی بنیاد بننے والے تھے۔

1945ء سے2015ء تک آج70برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور ظاہر ہے وقت کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بھی گزر چکا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پانی نے اب اپنی گزر گاہ تبدیل کرنے کی ٹھان لی ہے۔۔۔۔ یہ خبر بین الاقوامی حلقوں میں حیرت سے سُنی گئی کہ گزشتہ ہفتے آج ہی کے دن (بدھ وار، 16جون 2015ء )سعودی فرمانروا کنگ سلمان (Salman) نے اپنے سب سے قابلِ اعتماد فرزندِ ارجمند پرنس محمد بن سلمان کو بغیر کسی پیشگی اعلان کے روس بھیجا تاکہ وہاں جا کر روسی صدر پوٹن سے ملاقات کریں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے29سالہ پرنس محمد بن سلمان خانوادۂ سعود میں نسلِ نو کے زیرک ترین اور طاقتور ترین نمائندہ فرد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے نائب ولی عہد(ڈپٹی کراؤن پرنس) اور وزیر دفاع بھی ہیں۔۔۔۔ کراؤن پرنس ہونا تو ایک خاندانی وراثتی معاملہ ہے، لیکن مُلک کا وزیر دفاع ہونا(اور عہدِ جوانی میں ہونا) ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پرنس محمد بن سلمان، بین الاقوامی امور کی تفہیم(Understanding) میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں، مغرب کی معروف تعلیمی درس گاہوں کے فارغ التحصیل ہیں اور اس سے بھی بڑی خوبی ان کی یہ ہے کہ وہ اپنے مُلک کو امریکہ کا کاسہ لیس دیکھنا نہیں چاہتے، بلکہ چاہتے ہیں کہ دُنیا بھر کے ممالک سعودی عرب کو نہ صرف مسلمانانِ عالم کا مذہبی لیڈر تسلیم کریں، بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں اور خاص طور پر خارجہ پالیسی اور دفاع کے موضوعات پر بھی سعودی عرب کی شہرت مسلّم ہو جائے۔شائد یہی وجہ تھی کہ حالیہ ایام میں انہوں نے یمن کے مسئلے پر پہلے پاکستان کی طرف دیکھا اور جب یہ دیکھا کہ دُنیا ان کو پاکستانی عسکری صلاحیتوں کا خوشہ چیں خیال کرتی رہی ہے تو انہوں نے بطور وزیر دفاع عرب کولیشن کی ائر فورسز کے ساتھ مل کر یمن پر فضائی حملے شروع کر دیئے (جو وقفے وقفے سے اب بھی جاری ہیں)۔۔۔ ان حملوں میں آیا ان کو امریکہ کی زبانی کلامی اشیر آباد بھی حاصل تھی یا نہیں اور آیا امریکی(یا دوسرے مغربی ممالک) کی ائر فورسز نے سعودی عرب کو کمبیٹ پائلٹ دیئے یا نہیں یا گراؤنڈ سہولیات فراہم کیں یا نہیں، یہ معاملات ابھی تک صیغۂ راز میں ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ سعودی وزیر دفاع، اچانک سینٹ پیٹرز برگ (روس) کیوں گئے اور امریکہ کے روائتی حریف سے انٹر ایکشن کرنے میں اتنی دور تک جانے کی وجہ(یا وجوہات) کیا تھیں۔ ستر برس کی اس طویل رفاقت نے اگر سعودی عرب۔ امریکہ تعلقات کا کشیدہ موڑ دیکھنا تھا اورامریکہ سے سعودی ناراضگی کا یہ واشگاف اظہار ساری دُنیا کو دکھانا تھا تو اس کے پس پردہ محرکات کیا ہیں اور آنے والے دور میں مشرق وسطیٰ کے اس اہم خطے میں مزید کیا تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔۔۔ یہ سب کے سب بے حد اہم سوالات ہیں۔۔۔۔ آیئے ان کا سر سری سا جواب ڈھونڈتے ہیں۔

اول:ایرانیوں اور عربوں کی باہمی رقابت کوئی نئی بات نہیں۔ خلافتِ راشدہ اور خلافتِ بنو اُمیہ کو ابھی صرف ڈیڑھ صدی بھی نہیں گزری تھی کہ عربوں کا زوال(اور ایرانیوں کا عروج) شروع ہو گیا۔ خلافتِ عباسیہ کی500سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ اس طویل دور میں عرب اثرو رسوخ گہنایا رہا۔ بعض مورخین تو یہ تک کہتے ہیں کہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے دربار اصل میں سامانی اور ساسانی ادوار کے نوشیرواں، دارا اور خسرو پرویز کے درباروں ہی کی ایک دوسری شکل تھی۔

دوم: بنو اُمیہ کے زوال سے لے کر کنگ عبدالعزیز کے موجودہ دور تک سینکڑوں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ان برسوں میں سعودی عرب کی سیاسی اور عسکری قوت بمقابلہ ایرانی سیاسی اور عسکری قوت، کہیں کمزور رہی۔

سوم: عربوں نے اپنے تیل کو افرنگیوں کے ہاتھوں فروخت کر کے جو اسلحہ جات خریدے، ان کو آپریٹ کرنے کی پروفیشنل صلاحیت، سعودیوں میں نہ پیدا ہو سکی( یا نہ پیدا کی جا سکی) دوسری طرف ایک عام ایرانی شہری آج جتنا بیدار مغز ہے، ویسی بیدار مغزی ایک عام سعودی شہری میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

چہارم: جہاں ایران نے جوہری توانائی اور میزائل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک خاصی بڑی حد تک ترقی کی ہے، اس کا کوئی ہلکا سا مظاہرہ بھی سعودی عرب میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔

دراصل جب تک ایران میں شاہ رضا شاہ پہلوی کا دور رہا، تب تک سعودی شاہی خانوادہ ایرانی حکمرانوں کو اپنا ’’پیٹی بھائی‘‘ سمجھتارہا۔ لیکن 1979ء میں امام خمینی کی حکومت آئی اور شاہ ایران کو در بدر ہونا پڑا تو عین اُسی دور میں ایران۔ عرب رقابت کا از سر نو آغاز ہو گیا۔ عربوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ ایران میں شاہی دور گزر چکا اور جمہوری دور شروع ہونے کو ہے۔ یہ جمہوری دور جدید جمہوریہ معنوں میں اگرچہ ماڈرن ڈیمو کریسی کی پیروی میں نہیں آیا تھا لیکن پھر بھی ایرانی طرزِ حکمرانی، سعودی طرزِ حکمرانی سے براہ راست متصادم تھا جس کا اثر سعودی عوام پر پڑا۔ پھر ایران نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے اپنے تیل کا جس طرح استعمال کیا، سعودی ایسا نہ کر سکے اور مغرب کے محتاج رہے۔

پھر امریکہ۔ سعودی تعلقات کے تابوت میں آخری کیل اس وقت ٹھونکی گئی جب امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ (تقریباً) طے کر لیا (یہ معاہدہ اب 30 جون کو منظر عام پر آنے والا ہے) اس معاہدے کی رو سے امریکہ نے ایران کو جوہری میدان میں آگے بڑھنے سے روک تو دیا، لیکن ایران اب تک اس فیلڈ میں جو کچھ سیکھ اور حاصل کر چکا ہے، وہ دس برس کے بعد ہی سہی، ایران کے کام ضرور آئے گا جبکہ سعودیوں کو آنے والے کئی برسوں تک بھی ایران کی اس جوہری صلاحیت کی برابری نصیب نہیں ہو سکے گی۔ چنانچہ سعودی حکمران، امریکہ سے از بس ناراض تھے (اور ہیں)

خبریں آ رہی ہیں کہ پرنس محمد بن سلمان نے سینٹ پیٹرز برگ میں پوٹن کے ساتھ 17جون 2015ء (جمعرات) کو جو طویل ملاقات کی ہے، اس میں امریکیوں کے ساتھ سعودیوں کی کشیدگی پر گفتگو نمایاں رہی۔ کئی معاہدے بھی طے کئے گئے جن کی تفصیلات ظاہر ہے جاری نہ کی گئیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو امریکہ کو بھی اب سعودیوں اور ان کے تیل کی ضرورت اتنی شدید نہیں رہی جو قبل ازیں تھی۔ امریکہ میں شیل گیس کی دریافت نے امریکہ کو مستقبل قریب کا گویا سعودی عرب بنا دیا ہے!۔۔۔ علاوہ ازیں روس کو بھی یوکرائن کے مسئلے پر عربوں کی حمایت درکار ہے۔ سعودی عرب روس کی مالی امداد کرنے میں بھی اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔۔۔ اور مزید یہ بھی کہ گوادر پورٹ کے مکمل بحری مستقر (نیول بیس) بن جانے کے امکانات نے روس کو بحر ہند کے گرم پانیوں کے خواب کی سہانی تعبیر پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی ہے۔46 ارب ڈالر کے ’’چینی پیکیج‘‘ نے بھی آنے والے عشرے میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی صورت حال اور اس خطے سے وابستہ عالمی طاقتوں کے سٹرٹیجک مفادات میں تبدیلیوں کے اشارے دے دیئے ہیں۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی گزشتہ 70سالہ تاریخ کے اس مغربی انحصار کے خول سے باہر نکل کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کیا سبیل کرتا ہے!

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...