وہ کون سا جرنیل ہے؟

وہ کون سا جرنیل ہے؟
 وہ کون سا جرنیل ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا ’’ہلچل‘‘ مچا دینے والا بیان بالآخر پانی کے تالاب میں پھینکا ہوا ’’پتھر‘‘ ثابت ہوا۔ حیران کر دینے والی بڑھکوں سے بھرپور بیان کے فوراً بعد پیپلزپارٹًی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں (جیسا کہ بتایا گیا) پارٹی رہنماؤں نے کہا: ’’ڈٹے رہو زرداری صاحب! ہم تمہارے ساتھ ہیں!!‘‘۔۔۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے حامی تجزیہ کاروں نے رائے ظاہر کی تھی کہ بڑھکوں والے بیان سے جیالے ایک عرصے بعد خوش ہوئے ، کیونکہ انہیں آصف علی زرداری کی ’’مفاہمتی پالیسی‘‘ نے بور کر دیا تھا۔ توقع ظاہر کی گئی کہ اب پارٹی میں جان پڑنے سے سیاست کے میدان میں بھی خوب مزہ آئے گا، تاہم اگلے ہی روز صورت حال کچھ یوں تھی کہ افطار ڈنر کے بعد فاضل ترجمان قمرزمان کائرہ اور سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا: ’’ زرداری صاحب کے بیان کو بڑھا چڑھا کر، ہلچل مچا دینے والا بیان بنا دیا گیا، جبکہ پارٹی کے شریک چیئرمین نے سب کچھ جذباتی انداز میں سابق جنرلوں کے حوالے سے کہا تھا۔ افطار ڈنر میں اتحادی پارٹیوں۔۔۔ مسلم لیگ (ق)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، ایم کیو ایم اور اے این پی کی طرف سے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی مفاہمتی پالیسی کو جاری رکھیں‘‘۔ پیپلزپارٹی کے اس ’’یوٹرن‘‘ کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پانی سے بھرے ہوئے تالاب میں بھاری پتھر پھینکنے سے آواز تو پیدا ہوتی ہے، تالاب میں ہلچل بھی مچ جاتی ہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد فضا اور تالاب کا پانی دوبارہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح آصف علی زرداری کے جذباتی اور بھڑکیلے بیان کا بھی فطری انداز میں حشر تمام ہوا۔

کمال معصومیت سے پیپلزپارٹی نے ’’یوٹرن‘‘ لیا، اس پر بے ساختہ ’’داد‘‘ دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ اگر یہی کام کرنا تھا تو پھر آصف علی زرداری نے اتنا جوش کیوں دکھایا۔ انہیں فوج ایسے انتہائی قابل احترام ادارے کے سربراہوں سے اس قدر جذباتی اور پھٹ پڑنے کے انداز میں مخاطب ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ جب قمرزمان کائرہ اور شیری رحمان نے میڈیا کو وضاحتیں پیش کیں، ایک بار تو ہم نے یہ ضرور سوچا کہ جس طرح کراچی میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران آصف علی زرداری نے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی طرف سے مستعفی ہو جانے کی بات پر جذباتی انداز میں کہا تھا کہ حوصلہ رکھو، آپ کیوں استعفا دیں، یہ کام دوسرے لوگ کریں گے کیونکہ۔۔۔!‘‘ اسی طرح یہاں بھی اچانک آصف علی زرداری میڈیا کے سامنے آکر قمرزمان کائرہ اور شیری رحمان کو ایک طرف ہٹا کر کہیں گے: ’’اِدھر اُدھر کی باتیں کیوں کررہے ہو۔ تمہیں کیا پریشانی ہے۔ کوئی ڈر، خوف نہیں ہونا چاہیے۔ میڈیا والے سن لیں کہ مَیں نے وہ بیان سابق جرنیلوں کے بارے میں ہرگز نہیں دیا۔ مَیں اپنے بیان پر قائم ہوں‘‘۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نہایت جذباتی انداز میں الفاظ کو چبا چبا کر ادا کرنے والے جیالے سیاستدان کو میڈیا کے سامنے آکر حقیقت واضح کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔

آصف علی زرداری کے بیان کی حقیقت بیان کرنا ضروری ہے اور یہ کام خود بیان دینے والے کو کرنا چاہیے، ورنہ آگے چل کر جب مطلع صاف ہوگا تو یہ کہا جائے گا(صورت حال کے مطابق) ہم نے تو بیان کی وضاحت ضروری نہیں سمجھی۔ جو بات کہی، وہی حقیقت تھی۔ آصف علی زرداری کا بیان تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، اس پر ابہام ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ سابق جرنیلوں سے بیان کو منسوب کر دینے سے کئی سوال اٹھیں گے۔ سب سے پہلے تو ’’ادارے‘‘ کی بات ہوئی۔ پھر کہا گیا کہ تین سال کے لئے آئے ہو، چلے جاؤ گے تو باقی ہم ہی ہوں گے۔۔۔ ایک سے زیادہ محاذوں پر مصروف ہو، تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے ۔۔۔ ہمیں تنگ نہ کرو۔ کردار کشی برداشت نہیں۔ یہ کام جاری رہا تو پورا ملک بند کر دیں گے، اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔مزید تنگ کیا گیا تو اب تک کے (سابقہ کے علاوہ موجودہ بھی) تمام جرنیلوں کا کچا چٹھا کھول دیں گے۔۔۔ ہمیں معلوم ہے، عدالتوں میں کتنے مقدمے چلنے والے ہیں، ان میں آپ کے کتنے پیٹی بھائی مجرم ہیں۔ مَیں نے فہرست بنائی تو کئی جرنیلوں کے نام آئیں گے۔

اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے ہلچل مچا دینے والے بیان میں پیپلزپارتی کے شریک چیئرمین نے سابق جرنیلوں کو کہاں اور کیسے مخاطب کیا تھا۔ بات واضح کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا ذکر دانت پیستے ہوئے کر دیا تھا۔ لفظ ’’کمانڈووو‘‘ منہ بگاڑ کر ادا کیا گیا۔ پرویز مشرف کا مذاق اڑانا مقصود تھا کہ پرویز مشرف کو ملک کو درپیش خطرے کا کچھ پتہ نہیں، مَیں (آصف زرداری)جانتا ہوں کہ کتنا خطرہ ہے!یہ ایسا معاملہ ہے کہ بحث کی ضرورت نہیں۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ آصف علی زرداری کی توپوں کا رخ کس طرف ہے۔۔۔ اگر روئے سخن سابق جرنیلوں کی طرف تھا تو پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے کس خوشی میں جھومتے ہوئے کہا تھا، قدم بڑھاؤ آصف زرداری ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لڑنا ہے تو ڈٹ جائیں، پوری پارٹی آپ کے ساتھ ہے۔ وہ کون سا سابق جرنیل ہے، جو تین سال تک رہے گا، پھر وہ چلا جائے گا تو آصف علی زرداری باقی رہیں گے؟ ہمارے ہاں سابق جنرل تین سال کے لئے ’’کام‘‘ کرتے ہیں یا حاضر سروس جنرل؟ کتنی عجیب بات ہے کہ جس تقریر نے سیاست میں ہلچل مچا دی، جسے دھواں دھار تقریر قرار دیا گیا، اس کے بارے میں پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے آصف علی زرداری کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے طبل جنگ بجانے کا مشورہ بھی دیا، اسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ چھوڑیئے، رات گئی بات گئی! ذرا سی بات تھی، بلا وجہ فسانہ بنا دیا۔ اس بات کو مزید ڈسکس نہ کریں۔

جل بھی چکے پروانے، ہو بھی چکی رسوائی

اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

سوال یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری کس بات پر سیخ پا اور مشتعل ہوئے؟ مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ ڈی جی رینجرز کی بریفنگ اور بائیس بڑی مچھلیوں کی فہرست کے بعد پانچ افسروں کو کراچی سے گرفتار کرنے پر آصف علی زرداری نے وہ تقریر کی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں حساس اداروں کے سربراہوں سے تلخ کلامی کے بعد مذکورہ تقریر دوسری قسط تھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بلاول ہاؤس کراچی کے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے پر آصف علی زرداری کو غصہ تھا، جو انہوں نے موقع ملتے ہی نکالا۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ سندھ کی انتہائی اہم شخصیت کی نہایت قریبی عزیزہ کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ اُسے بیرون ملک جانے سے روکنا مقصود ہے۔ اس کے علاوہ بلاول کو بہکانے کی باتیں بھی سننے میں آرہی ہیں۔ حقیقت آصف علی زرداری بیان کریں تو بہتر ہوگا۔ خصوصاً ان کی کردار کشی کیسے ہوئی اور کس نے کی؟ انہیں تنگ کون کر رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ یہ ایسی باتیں نہیں کہ جذباتی اور وقتی جوش قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکے۔ آصف علی زرداری کی تقریر بے حد حساس معاملہ ہے۔ اسے محض حادثہ نہیں سمجھا جا سکتا:

حادثہ تھا گزر گیا ہو گا

کس کے جانے کی بات کرتے ہو

انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی ’’تیر‘‘ کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے انتخابی نشان الاٹ کراتی رہی ہے۔ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تیر کی طرح کمان سے نکل تو جاتے ہیں، انہیں واپس لانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کو اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ غلطی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ غلطی نہیں ہوئی تو وہ ابہام دور کر کے آئندہ حکمت عملی تیار کریں۔ دوسری صورت میں وہ غلطی محسوس کریں تو فوراً اس کے ازالے کو ترجیح دیں۔ غصے ،خوف اور نفرت کے عالم میں کوئی منفی بات ہو جائے تو اس کا اعتراف کر کے بات ختم کرنا ہی دانشمندی ہوتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے معاملے کو دبانے سے فساد آگے چل کر خطرناک صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی ایک تاریخ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد اور قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ حالات نے آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی کی قیادت کا موقع فراہم کیا۔ اُن کے بیان سے نہایت حساس اور قابل احترام ادارے کے بارے میں کوئی منفی تاثر قائم نہیں ہونا چاہئے۔

محض آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تعریف (قمر زمان کائرہ اور شیری رحمن کے منہ سے) سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ آصف علی زرداری خود اسے ٹھیک کریں گے تو بات بنے گی۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں! محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سالگرہ کے موقع پر آصف علی زرداری نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے تمام باتیں جنرل (ر) پرویز مشرف کے بارے میں کہی تھیں۔ کاش! وہ یہ بھی بتا دیتے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف پرریٹائرمنٹ کے بعد تین سال کے لئے کون سی ڈیوٹی پر ہیں کہ آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ تین سال کے لئے آئے ہو۔ تین سال بعد چلے جاؤ گے ،ہم یہیں ہوں گے!

مزید : کالم