سکولوں میں سولر پینل!

سکولوں میں سولر پینل!

معاصر کی خبر کے مطابق صوبائی حکومت نے صوبے کے پانچ ہزار سکولوں میں بجلی مہیا کرنے کے لئے شمسی توانائی سے استفادہ کا فیصلہ کیا، ان میں زیادہ تر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اضلاع شامل کئے گئے ہیں، شمسی توانائی، بجلی کے حصول کا ایک قدرتی ذریعہ ہے، انسان نے سورج کی گرمی اور شعاؤں کو برقی رو میں تبدیل کرنے کا فن سیکھ لیا اور اسے استعمال بھی کیا جا رہا ہے جو روز بروز مقبول ہو رہا ہے یہ ایک اچھا منصوبہ ہے۔اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ سولر پینل لگا کر بجلی حاصل کرنے کے ہرمنصوبے کے لئے یہ ضمانت حاصل کرنا ضروری ہے کہ نہ صرف پینل اچھے اور معیاری ہوں، بلکہ جو نظام نصب کیا جائے اس کی بھی گارنٹی ہو، کیونکہ پنجاب میں اب تک سولر انرجی سے بجلی پیدا کرنے کا ہر منصوبہ وہ نتائج نہیں دے سکا جو مطلوب ہیں اور جن کی امید کی جا رہی تھی۔ مریدکے سے کامونکے تک اور لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن سے ٹریفک سگنلز تک کئے جانے والے سب تجربے ناکام ہو گئے ہیں اس کے علاوہ بھی جہاں جہاں سرکاری سطح پر پینل لگائے گئے وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ لاہور کے ٹریفک سگنلز کو سولر پینل سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا اور کسی نے فالو اَپ بھی نہیں کیا۔ جیل روڈلاہور پر اب بھی پینل مختلف پولز پر نصب ہیں ان کا مصرف کیا ہے شاید کچھ بھی نہیں قومی خزانے کے یہ اخراجات یوں ضائع ہو گئے ہیں۔بہتر عمل یہ ہے کہ ایسا نظام ہو جس کے تحت اچھے پینل لگیں، پوری بجلی پیدا ہو اور ان کو عوامی دستبرد سے بھی بچایا جا سکے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...