محکمہ معدنیات کی تنظیم نو بارے مشاورت جاری ہے، چوہدری شیر علی

محکمہ معدنیات کی تنظیم نو بارے مشاورت جاری ہے، چوہدری شیر علی

لاہور(کامرس رپورٹر) صوبائی وزیر معدنیات و کان کنی چوہدری شیر علی خان نے کہا ہے کہ محکمہ معدنیات و کان کنی کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی، معدنی وسائل کی مارکیٹنگ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ مائننگ کے شعبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کیلئے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے محکمے کی تنظیم نوکا فیصلہ کیا گیاہے تاکہ ادارے اور ملازمین کی استعداد کار بہتر بنا کر مائننگ میں مخصوص لوگوں کی اجارا داری ختم کر کے لیز مینجمنٹ کے حوالے سے صحت مند مقابلے کا رجحان پیدا کیا جاسکے۔ چوہدری شیر علی نے کہا کہ نئے معدنی وسائل کی تلاس اور سرمایہ کاری کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے جس کیلئے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پنجاب میں زیرزمین معدنی خزانوں کی تلاش کیلئے روایتی طریقہ کار کو ترک کرکے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، دریافت شدہ معدنیات کی بہترین مارکیٹنگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنے کیلئے محکمہ معدنیات کی ری سٹرکچرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر معدنیات نے کہاکہ محکمہ معدنیات و کان کنی جلد ہی ایک بین الصوبائی ورکشاپس منعقد کرے گا جس میں پنجاب کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی ماہرین کان کنی اور لیزہولڈرز سمیت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو مدعو کرکے ان سے تبادلہ خیال کے بعد حاصل ہونے والی تجاویز کی روشنی میں رپورٹ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بات اس حوالے سے قائم کردہ سٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔سیکرٹری معدنیات ڈاکٹر ارشد محمود نے کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پنجاب سے نکالے جانے والے35سے زائد معدنیات ملکی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہی ہے جبکہ خام، کوئلے، آئرن، سیمنٹ، کنسٹریشن میٹریل، گلاس اور جپسم سے متعلقہ 2300صنعت کار محکمہ معدنیات سے وابستہ ہے۔

مزید : کامرس