پنجاب میں تقریباً24لاکھ ایکڑ رقبہ پر چنے کی کاشت کی گئی

پنجاب میں تقریباً24لاکھ ایکڑ رقبہ پر چنے کی کاشت کی گئی

فیصل آباد (آن لائن)پنجاب میں تقریباً24لاکھ ایکڑ رقبہ پر چنے کی کاشت ہوتی ہے جس میں سے 92فیصد رقبہ بارانی علاقوں پر مشتمل ہے اوران بارانی علاقوں میں تھل کے اضلاع بھکر، خوشاب، لیہ، میانوالی اور جھنگ شامل ہیں۔ دالوں کے زیر کاشت رقبہ اورپیداوار میں اضافہ کے لیے کاشتکاروں کو گزشتہ سال رعائتی قیمت پرسیڈ ڈرل فراہم کی گئی ہیں ۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ دالوں اور ایرڈزون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھکر کے زرعی سائنسدانوں نے دیسی اور کابلی چنے کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام متعارف کرائی ہیں۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی لائبریری کے کمیٹی روم میں مسعود قادر وقار ڈائریکٹر آڈاپیٹو ریسرچ پنجاب کی زیر صدارت زرعی سائنسدانوں اور ماہرین کا دیسی اور کابلی چنے کی متعارف کردہ نئی اقسام اور ان کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کی کاشت کاروں تک منتقلی کے لیے پیداواری منصوبہ چنا 2015-16کی منظوری بارے 24جون 2015کو اجلاس منعقد ہوگا۔اس اجلاس میں بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال، اگرانومی ، دالیں، انٹومالوجی اور پتھالوجی شعبہ جات کے ڈائریکٹرز کے علاوہ ڈائریکٹر کراپ رپورٹنگ ، ڈائریکٹر ٹیکنالوجی ٹرانسفر انسٹی ٹیوٹ پی اے آر سی چیف سائنٹیفک آفیسر نیاب ،چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف اگرانومی زرعی یونیورسٹی فیصل آباداورڈائریکٹر ایگری کلچرل انفارمیشن پنجاب کے نمائندہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں چنے کی زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں جب کہ ہمارے ملک میں کابلی چنے کی کھپت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔پاکستان میں کابلی چنے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایران ، آسٹریلیا اور ترکی سے کابلی چنے کی د رآمد کی جاتی ہے ۔کابلی چنے کی ستمبر کاشتہ کماد اور دھان کے بعد آبپاش علاقوں میں کاشت کو فروغ دے کر اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے#/s#

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...