سوپور ہلاکتوں میں ملوث عسکریت پسندوں کا سراغ ملنے کا دعوی

سوپور ہلاکتوں میں ملوث عسکریت پسندوں کا سراغ ملنے کا دعوی

سرینگر ( کے پی آئی ) مقبوضہ کشمیر پولیس نے سوپور ہلاکتوں میں ملوث عسکریت پسندوں کا سراغ ملنے کا دعوی کرتے ہوئے ایک دکاندار کی تصویر پر مبنی پوسٹر شائع کر دیا پولیس نے سوپور میں ہوئی حالیہ ہلاکتوں کے حوالے سے دو شدت عسکریت پسندوں کے پوسٹر جاری کردیے اور انھیں قتل کی ان وارداتوں میں ملوث قرار دے کر ان کے سر پر 20 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ لیکن اشتہار پر جو تصویر حزب المجاہدین کے قیوم نجار کے طور پر شائع کی گئی تھی ، وہ اب کپوارہ کے دکاندار عرفان شاہ کی ثابت ہوئی ہے۔ عرفان نے پولیس افسروں کے پاس جاکر فریاد کی تو پولیس نے غلطی تسلیم کر لی ۔

کپوارہ جامع مسجد سڑک پر ایک دکاندار عرفان احمد شاہ ساکن بمہامہ اس وقت حیران ہوکر رہ گیا جب اس کو سوپور سے کئی رشتہ دارو ں نے اطلاع دی کہ پوسٹر پر اس کی تصویر شائع کی گئی ہے ۔ ادھر عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے ریاستی پولیس سربراہ کے راجندرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بمہامہ کپوارہ کے تاجر عرفان احمد سے فورا نہ صرف معافی طلب کریں بلکہ انہیں اس ذہنی کوفت اور بے عزتی کے لئے بھاری ہر جانہ ادا کریں جو انہیں پولیس کی طرف سے ان کی تصویر اخبارات میں شایع کروائی اور جس میں ان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپیہ مقرر کی گئی تھی ۔ انجینئر رشید نے کہا پولیس کی حرکت نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ناقابل برداشت بھی ۔ انجینئر رشید نے کہا مذکورہ شہری کی تصویر اور اس کے سر پر انعام مقرر کرنا ثابت کرتا ہے کہ مقامی پولیس کس طرح اپنی اعتباریت کھو چکی ہے ۔نیز ثابت ہوتا ہے کہ پولیس کے نزدیک کسی انسان کا نہ ہی وقار کی کوئی قدر ہے اور نہ اس کی جان کی ۔ اگر ایسے حساس واقعات کو لیکر پولیس کے اعلی افسران انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کا برتاو4 کریں تو عام آدمی کی عزت اور مال و جان کے تحفظ کی ذمہ داری کون دے گا ۔پولیس سربراہ کو فوری طور حرکت میں آکر اس واقعے میں ملوث پولیس افسروں کے خلاف سخت کاراوائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ واقعے سے آئے روز پولیس کی طرف سے ملیٹنسی کی مختلف وارداتوں کے متعلق پولیس کے سارے دعوے شک کے دائرے میں آتے ہیں ۔

مزید : عالمی منظر