افسروں کی موجودگی کے باوجود ناپ تول کے پیمانوں میں کمی کا سلسلہ جاری

افسروں کی موجودگی کے باوجود ناپ تول کے پیمانوں میں کمی کا سلسلہ جاری

 لاہور (لیاقت کھرل) شہر کے 22 رمضان بازروں میں 22 لیبر افسروں اور محکمہ انڈسٹریز کے 18 افسروں کی تعیناتی کے باوجود ناپ تول کے پیمانوں میں گڑبڑ کا۔ سلسلہ نہ رک سکا، ڈی سی او کی سپیشل ٹیم نے رمضان بازاروں میں ناپ تول کے پیمانوں کی خود مانیٹرنگ شروع کر دی، ڈی سی او کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جانے لگی۔ تفصیلات کے مطابق رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ کے لئے محکمہ لیبر سے اختیارات واپس لے کر محکمہ انڈسٹریز کو دیئے گئے۔ تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر ڈی سی او لاہور نے لاہور میں قائم رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ کا کام محکمہ لیبر اور محکمہ انڈسٹریز دونوں کے سپرد کر رکھا ہے۔ اس میں محکمہ لیبر کے 22 سے زائد لیبر افسر رمضان بازاروں میں تعینات ہیں اور اسی طرح محکمہ انڈسٹریز کے 22 سے زائد افسران اور اہلکار رمضان بازاروں میں ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں ناپ تول کے پیمانوں میں گڑ بڑ کا سلسلہ نہیں رک سکا ہے اور بالخصوص رمضان بازاروں میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لے رکھا ہے اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس لینے سے ڈی سی او لاہور محمد عثمان نے ناپ تول کے پیمانوں کی چیکنگ پر مامور افسران کی مانیٹرنگ کو سخت کر دیا ہے اور اس مقصد کے لئے ڈی سی او نے سینئر پرائس مجسٹریٹ اور سپیشل کوآرڈی نیٹر ٹو ڈی سیا و محمد طارق زمان کی نگرانی میں ایک سپیشل سکواڈ قائم کر دیا ہے جو کہ رمضان بازاروں میں اچانک چھاپے مارے گا اس حوالے سے ڈسٹرکٹ آفیسر لیبر (ڈی او) سید حسنات جاوید نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ رمضان بازاروں میں محکمہ لیبر اور محکمہ انڈسٹریز کی ٹیمیں چکنگ کر رہی ہیں، اور اس میں رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں ناپ تول کے پیمانوں میں گڑ بڑ کرنے والے دکانداروں اور سٹال ہولڈروں کو موقع پر جرمانے کئے جا رہے ہیں اس میں شہر کے چار سے چھ رمضان بازاروں میں شکایات زیادہ ہیں، اس پر جرمانوں پر ساتھ مقدمات بھی درج کروائے جا رہے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1