لینڈ ریونیو ایکٹ اور بورڈ آف ریونیو کی ہدایات نظر انداز

لینڈ ریونیو ایکٹ اور بورڈ آف ریونیو کی ہدایات نظر انداز

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ ریونیو کے کمشنر لاہور ڈویژن کی حدود میں آنے والے ریونیو آفیسرز کی کثیر تعداد نے لاقانونیت کی مثالیں قائم کردیں ،لینڈ ریونیو ایکٹ اور بورڈ آف ریونیو کی ہدائتیں نظر انداز کر دی گئیں ،کمشنر آفس کی سیٹلمنٹ برانچ اورمخصوص لابی ماہانہ اکٹھے کرنے میں مگن،کمشنر لاہور کو بھی ریونیو افسران کی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل رکھا جارہا ہے جبکہ کمشنر لاہور آفس کے ذمہ داران افسران بھی ریونیو افسران کی مانیٹرنگ کرنے سے قاصر ہیں ،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ ریونیو کے کمشنر لاہور ڈویژن آفس میں تعینات ذمہ داران افسران کی عدم توجہ اور اضافی ذمہ داریوں کے باعث ریونیو کے بنیادی کام کے فرائض سنبھالنے والے نائب تحصیلداروں کی مانیٹرنگ کا سسٹم فعال نہ کیا جاسکتا ہے بلکہ کمشنر لاہور ڈویژن کے آفس کے چند شعبہ جات جن میں سیٹلنٹ برانچ،کمشنر ،پی اے آفس اور اسسٹنٹ کمشنر آفس میں تعینات مخصوص لابی کے ساتھ ملی بھگت کے باعث لاہور ڈویژن کی حدود میں لاقانونیت کی متعدد مثالیں قائم کی جارہی ہیں جن میں تحصیلداران صاحبان کی بھی کثیر تعداد شامل ہے ،مزید معلوم ہوا ہے کہ لاہور ڈویژن میں متعدد ریونیو افسران بورڈ آف ریونیو کے قوانین اور ہدائت کے مطابق دورہ پروگرام مقرر نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی شہریوں کی جائیدادوں سے منسوب انتقالات کو بروقت ٹائم میں تصدیق کیاجارہا ہے اس ضمن میں تاخیر ی حربوں کا استعمال کیا جارہا ہے جس کا مقصد رشوت وصولی بتایا جارہا ہے اس کے علاوہ پرت سرکار انتقالات بھی مذکورہ ریونیو افسرا ن اپنے قبضے میں لئے ہوئے کئی کئی ماہ تک دفتر قانگو آفس میں جمع کروا رہے ہیں ، محکمہ اینٹی کرپشن اور پولیس میں متعدد انکوائریوں اور مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود یہ بااثر ریونیو افسران ا پنے سرکاری عہدوں پر تعینات ہیں جو کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں دوسری جانب نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر متعدد ریونیو افسران نے بتایا ہے کہ ریونیو افسران کے خلاف کسی قسم کی شکایات ،اخبارات کی کٹنگ اور احتسابی اداروں میں کی جانے والی انکوائریوں اور درخواستوں کی بابت اطلاع ملنے پر کمشنر آفس کے سیٹلمنٹ برانچ ،پی اے آفس اور اسسٹنٹ کمشنر آفس متحرک ہو جاتے ہیں ،اور ریونیو افسران کو بلیک میل بھی کیا جاتا ہے جو الزامات ہم پر لگائے جارہے ہیں اس کے بنیادی ذمہ دار یہ تینوں آفس ہیں جن کی پھٹیکیں اور احکامات پر عمل درآمد کی صورت میں اختیارات کا وسیع تر استعمال کیا جاتا ہے میڈیا یکطرفہ خبر اور ہمارے کاموں کی اس طرح کی تصویر دکھا رہا ہے جس سے ہمیں قصوار ٹھہرایا جاتا ہے ہماری اضافی ڈیوٹیاں کسی کو نظر نہیں آتی ہیں ہمارے میرٹ پر پرموشن کیس نظرانداز کئے جارہے ہیں پچیس پچیس سالوں سے ایک ہی سکیل پر کام لیا جارہا ہے کیا یہ قوانین میں کرپشن نہیں ہے ہم پر لگائے گئے الزامات کی اگر تحقیقات کروانی ہے تو ضرور کروائی جائے مگر ان تینوں آفس میں تعینات اہلکاران کا بھی تعین کیا جائے جن کے ماہانہ درجنوں کام کرنا ہماری ذمہ داری بن چکا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1