آصف زرداری کا یوٹرن، نئی چال کیا ہوگی؟

آصف زرداری کا یوٹرن، نئی چال کیا ہوگی؟

کراچی سے نصیر احمد سلیمی:

کراچی کا موسم ہمیشہ سے جون جولائی میں معتدل اور خوشگوار ہوا کرتا ہے۔ مگر اس بار ریکارڈ توڑ گرم موسم کی شدت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ چار سو سے زائد شہریوں کو لقمہ اجل بنا چکی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب تو اپنی جگہ ہے تاہم زیادہ تر شہری ’’ہیٹ اسٹروک‘‘ سے متاثر ہوئے۔ کور کمانڈر فائیو، کور لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے حکم پر فوج اور رینجرز نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے 14’’ہیٹ اسٹروک‘‘ سینٹر قائم کر دیئے ہیں۔ خدا کرے ابر رحمت برس جائے تاکہ ہلاکتوں کا یہ سلسلہ رک پائے۔کراچی میں موسم کی شدت کا عالم یہ ہے کہ دن ہی گرم نہیں ہے۔ رات کو بھی کھلے میدانوں میں پتہ تک نہیں ہلتا ۔ فرض نمازوں اور نماز تراویح میں حبس کے باعث مساجد میں نمازیوں کا حال بُرا ہے۔ مکانوں کے صحن اور کھلی جگہوں پر ہونے والی نماز تراویح میں جہاں جنریٹر کے ذریعہ بجلی کی سہولت حاصل ہو وہاں پنکھوں سے نکلنے والی گرم ہوا ’’لُو‘‘ کی طرح جسم کو جھلسا رہی ہوتی ہے۔ بلاشبہ موسم کی شدت پر تو کسی کا بس نہیں ہے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ خراب حکمرانی لوڈشیڈنگ کے عذاب اور ہیٹ اسٹروک سے ہونے والے متاثرین کو بروقت طبی امداد پہنچانے اور صورت حال سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھی فعال نہ کر سکی۔ کرتی بھی تو کیسے، اس کی تو ساری توجہ جناب آصف علی زرداری کے بیان کی وضاحتوں اور توجیحات پر لگی ہوئی ہے، اگرچہ جناب زرداری نے اپنے بیان پر 180ڈگری کایوٹرن لے لیا مگر ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جناب زرداری اپنے اس یوٹرن کے سیاسی اثرات سے نکلنے کے لئے نئی کیا چال چلیں گے اور کیا فوج اور رینجرز کو مزید دباؤ میں لانے کے لئے سندھ حکومت کو آگے بڑھائیں گے؟ اور کوئی نیا بیان جاری کریں گے؟ اور کیا کراچی آپریشن میں حاصل ہونے والے رینجرز کے اختیارات میں کمی کرنے کی قانونی کارروائی کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کرائیں گے؟ یہ ہیں وہ سوالات جن کے جواب سامنے آنے کے بعد ہی یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آنے والے دنوں میں سندھ کا سیاسی منطر نامہ کیا نقشہ پیش کر رہا ہوگا۔ بعض حلقے جناب زرداری کے بیان کے منظر اور پس منظر کو داخلی حالات کے ساتھ ساتھ ’’عالمی فیصلہ سازوں‘‘ کی ضروریات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں کمی کرکے اپنی خراب حکمرانی پر قابو پانے کی پوزیشن میں اگر نہیں ہے تو اختیارات میں کمی کرنے کی دھمکی کیونکر کارگر ہوگی؟ اتوار کے دن ’’نوڈیرو کے زرداری ہاوس‘‘ میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو سالگرہ کی تقریب میں جناب زرداری نے پانچ چھ سو پیپلزپارٹی کے منتخب افراد سے خطاب کیا۔ اس کی کوریج کے لئے کسی فرد کو تقریب میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ میڈیا میں ان کے خطاب کے حوالہ سے جتنا کچھ بھی آیا ہے، وہ پارٹی کے میڈیا سیل کا فراہم کردہ ہے۔ خطاب کی تصویری فوٹیج بھی پارٹی کے میڈیا سیل کے کیمرہ مین کی فراہم کردہ ہے ایسا پہلی بار ہوا ہے جس کی وجہ سے نوڈیرو ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی اندرونی کہانیاں مختلف حلقے اپنے اپنے ’’سورس‘‘ کی بنیاد پر اپنی اپنی خواہشات، ترجیحات، تعصبات کے تناظر میں نجی مجلسوں میں سنا رہے ہیں۔ ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ ان کو نقل کرنے سے احتراز کیا جائے اور اس پر اکتفا کیا جائے جو پارٹی کے میڈیا سیل نے ذرائع ابلاغ کو فراہم کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زرداری صاحب کو اپنے اندازے کی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ان کو اندازہ تو اسلام آباد کے افطار ڈنر میں بھی ہو گیا تھا، تب ہی تو نوڈیرو ہاؤس کے اجلاس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے سوا پنجاب ،خیبرپختون خوا ،بلوچستان اور گلگت بلتستان کے کسی رہنما کو مدعو نہیں کیا یا انہوں نے از خود آنے سے اجتناب برتا۔ رینجرز نے جناب آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر کے دوست محمد علی شیخ کی گرفتاری کے بعد ان کے کارناموں کے حوالے سے کوئی بڑا انکشاف کیا ہے؟ اور کیا اسی طرح فشریز سوسائٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی کی گرفتاری کے بعد بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے جو ہوش ربا انکشافات میڈیا میں آ رہے ہیں، وہ کوئی ایسی بات ہے جس کا پہلے سے کسی کو علم نہ تھا؟ ایسا ہر گز نہیں ہے کراچی اور سندھ کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ دونوں حضرات کسی ’’طاقت ور‘‘ کی پشت پناہی میں اور فرنٹ مین بنکر سرکش گھوڑے کی طرح کرپشن اور جرائم کی تمام رکاوٹیں پھلانگ رہے تھے۔اور ایسابھی نہیں ہے کہ رینجرز نے سندھ حکومت کو اندھیرے میں رکھ کر سندھ کی سب سے ’’طاقت ور‘‘ اور اصل حکمران شخصیت کے گرد گھیرا تنگ کیا ہے، اس کا بھی سب کو علم تھا، ایکشن پلان کمیٹی (ایپکس) میں تو یہ معاملات فروری 2015ء سے زیر غور آ رہے تھے۔ فشریز سوسائٹی کے حوالے سے سلطان قمر صدیقی اور ان کے دیگر حواریوں کے حوالے سے وہاں کام کرنے والے سابق اور حاضر سروس حضرات میڈیا سے آف دی ریکارڈ گفتگو ایک عرصہ سے کررہے تھے مگر ان کے ’’طاقت ور‘‘ سرپرستوں کی وجہ سے کسی نے توجہ نہیں دی تھی۔ اب رینجرز نے ’’بھڑ‘‘ کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے تو قانون کی عدالتوں میں ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس اہل اور قابل اعتماد تفتیش کاروں کی کوئی ٹیم ہے؟ جو ناقابل تردید ٹھوس دستاویزی ثبوت کے ساتھ قانون کی عدالتوں میں ملزموں کی طرف سے پیش ہونے والے ماہر وکلاء کی ٹیم کی موجودگی میں کرپشن، بھتہ خوری اور سنگین جرائم میں ملوث ہونے کو ثابت کر سکے۔ اگر رینجرز کے پاس ایسا کوئی انتظام موجود نہیں ہے تو میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر قانون کی کسی عدالت میں کسی بھی ملزم کو مجرم ثابت کرنا ممکن نہیں ہوگا اور یہ پہلے ملزموں کی طرح فشریز سوسائٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی کے ساتھ شریک جرم ایک ڈائریکٹر محمد خان چاچڑ کو کون نہیں جانتا کہ وہ اسٹیل ملز کے چیئرمین سجاد حسین کے قتل میں گرفتار ہوا تھا، مگر ’’طاقت وروں‘‘ کی طاقت ور وکلاء ٹیم نے اسے عدالت سے عدم ثبوت کی بناء پر رہا کرا لیا تھا۔ واضح رہے اسٹیل ملز کے چیئرمین سجاد حسین نے اسٹیل ملز میں ہونے والی کرپشن کی رقم آصف علی زرداری کو پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ سجاد حسین کی بیوہ نے اس قتل میں ان کا نام لیا تھا، کون نہیں جانتا، ڈاکٹر نثار مورانی سلطان قمر صدیقی اور محمد خان چاچڑ کِس ’’طاقت ور‘‘ کی پشت پناہی کی وجہ سے ان مناصب پر فائز ہوئے اصل سوال قانون کی عدالت میں قانونی طریقہ کار کے مطابق ٹھوس دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ان بااثر ملزموں کو مجرم قرار دلوا کر قرار واقعی سزائیں دلانا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو سندھ کے لوگوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئے گی۔

سوال یہ ہے کہ اگر رینجرز نہیں تو کیا پولیس سڑکوں پر متحارب سیاسی گروپوں کے تصادم کو روکنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہے؟ کیا اس نے پولیس فورس کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ کسی سیاسی مداخلت کو خاطر میں نہ لا کر امن و امان کو خراب کرنے والی قوتوں کو نکیل ڈال دے، اگر اس الزام کو بھی تسلیم کر لیا جائے کہ فوج سیاسی حکومتوں کو پولیس فورس کو مضبوط کرنے ہی نہیں دیتی۔ تو سوال یہ ہے کہ سیاسی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ پولیس فورس کو سیاست زدہ نہ کرتے۔ آج بھی بیورو کریسی اور پولیس فورس میں اہل اور دیانت دار افسر موجود ہیں مگر کوئی انہیں سیاست سے بالا تر ہو کر کام کرنے کی آزادی بھی تو دے۔ یہ محض سندھ کا مسئلہ نہیں ہے کم و بیش چاروں صوبوں میں سیاست نے ساری انتظامی مشینری کو تباہ و برباد اور ناکارہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ مگر سندھ کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں 1988ء سے اب تک حکومت سول ہو یا فوج کی وزیراعلیٰ از خود اپنی آزاد مرضی سے آئین کے تحت حامل اختیارات استعمال کرنے میں دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی طرح آزاد نہیں ہوتا ۔سندھ میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر کرانے کا نیا فارمولا یہ ہے کہ جب تک اس پوسٹ پر رہو گے، جو کماؤ گے 50%پوسٹنگ ٹرانسفر کرانے والے کے پاس جائے گا۔1989ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں سندھ میں رینجرز کو پیپلزپارٹی کی حکومت نے کیوں بلایا تھا؟شائد اب کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا۔

1989ء میں سندھ میں رینجرز محترمہ بے نظیر بھٹو کی درخواست پر آئی تھی اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ اور الطاف حسین کی درخواست پر دونوں جماعتوں کے ایک دوسرے کے ساتھیوں کے اغوا ہونے والے نوجوان قیدیوں کو ڈی جی رینجرز کے توسط سے بازیاب کرایا تھا۔ قیدیوں کا تبادلہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ذمہ داران نے فائیو کور کراچی کے ہیڈکوارٹر میں ڈی جی رینجرز کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس وقت جبکہ ابھی بیورو کریسی اور پولیس فورس آج کی طرح سیاست زدہ نہیں ہوئی تھی۔ سندھ حکومت رینجرز کے بغیر اپنے اپنے اغوا ہونے والے کارکنوں کو بازیاب تک کرانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو آج جب دونوں جماعتوں کی اصل طاقت ہی (بیک بون) سول بیورو کریسی اور پولیس فورس ہے۔ ایک دن بھی رینجرز کے بغیر متحارب گروہوں کے تصادم پر قابو پانے یا معمول کی زندگی کو برقرار رکھنے کی ضمانت نہیں دے سکتی تو کس بل بوتے پر رینجرز کے اختیارات کم کرنے کے لئے قانونی معاونت کر رہی ہے؟

کیا سندھ حکومت رینجرز کے بغیر کراچی میں امن قائم رکھ سکتی ہے؟

آصف زرداری کا یوٹرن، نئی چال کیا ہوگی؟

رینجرز نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا، عدالتوں میں ثابت بھی کرنا ہوگا,

اب سیاست کو جرم سے اور جرم سے سیاست کو پاک کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ سیاست دانوں کے پاس ہے اور نہ ہی آئین کی بالادستی تسلیم کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ کسی دوسرے نجات دھندہ کے پاس ہوگا.

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...