پنجاب اسمبلی کی حزب اختلاف نے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کیا.

پنجاب اسمبلی کی حزب اختلاف نے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کیا.

لاہور سے چودھری خادم حسین:

اللہ رحیم و کریم ہے، اسے اپنی مخلوق پر رحم ہی آتا ہے۔ گزشتہ صبح ٹھنڈی ہوا کے بعد یہاں موسلا دھار بارش ہوئی۔ گرمی کی شدت میں یکایک کمی آ گئی روزہ داروں نے شکر ادا کیا کہ پچھلے چند روز سے گرمی نے پھر زور پکڑ لیا، پیر کا دن توحبس آلود بھی تھا، بارش نے حبس کا بھی خاتمہ کیا ہے، اللہ تو بہرحال مہربان ہے لیکن اللہ کی یہ مخلوق جس کے لئے احکام موجود ہیں۔ انسانوں پر ترس نہیں کھاتی۔ مہنگائی میں کوئی کمی نہیں ہوئی، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی پوری توجہ اور وزراء کے ساتھ ضلعی انتظامیہ والوں کے دوروں کے باوجود شکایات موجود ہیں۔ معیار بھی ٹھیک نہیں اورچینی، آٹا کے بعد گھی میں رعائت ہے کہ سرکار نے سبسڈی دی ہے تاہم آٹا لینے میں بعض لوگوں کو دشواری ہوئی کہ سٹال والے ان سے شناختی کارڈ طلب کررہے تھے جووہ ساتھ لے کر نہیں آئے۔ اس کے لئے مناسب تشہیر نہیں کی گئی، یا پھر رمضان بازار والوں اور ضلعی انتظامیہ کا یہ اپنا فیصلہ ہے کہ دکان داروں کے سیلز مین ہی نہ آکر تھیلے لے جائیں، بہرحال وزیراعلیٰ خود نگرانی کررہے ہیں۔

لاہور میں رمضان المبارک کا استقبال روائتی لحاظ سے دینی جذبے کے ساتھ کیا گیا، روزہ داروں کی تعداد زیادہ ہے تو مساجد بھی بھری ہوئی ہیں، لوگ عبادت میں بھی وقت گزار رہے ہیں، تاہم مغرب سے پہلے گھروں کو راونگی کے وقت صبر کم ہوتا ہے اور ٹریفک کی ہڑبونگ مسائل پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سموسے، کچوریاں فروخت کرنے والے بھی سڑکوں پر کاروبار کرتے ہیں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ ٹریفک وارڈنز نظر نہیں آتے۔ سارا دن دھوپ سے بچے رہتے ہیں۔ عصراور مغرب کے درمیان ٹریفک کنٹرول کرنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت خال خال نظر آتے ہیں، اب تو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس طرف بھی وزیراعلیٰ ہی کو دھیان دینا پڑے گا۔

لوڈشیڈنگ، ایک دم بڑھ گئی، وزیراعظم نے کم کرنے کے لئے کہا، یہ ممکن نہیں،پیداوار کم اور مانگ زیادہ ہو تو اسے پورا کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ جو نجی پاور سٹیشن کام نہیں کررہے، ان کو آمادہ کیا جائے اور جو خود حکومت کے تھرمل ہیں ان کو بھی استعمال کیا جائے۔ بجلی کی پیداوار بڑھا کر ہی سپلائی کا بہتر انتظام کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس علاقے میں لوڈ بڑھایا جاتا ہے کسی دوسرے کی قربانی کے عوض ہوتا ہے اور پھر ٹرانسفارمروں نے بھی جواب دینا شروع کر دیا، چھوٹا عملہ کم ہونے اور ٹرانسفارمروں کی کمی کے باعث بجلی کی بحالی میں تاخیر ہوتی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ جہاں جہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہوتی اور بجلی زیادہ وقت کے لئے خراب ہوتی ہے وہاں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، اس ساری صورت حال کو پیش نظر رکھنے کے بعد ہی بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ حالت برقرار رہے گی۔

پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے۔ منی اپوزیشن اپنا حق ادا کررہی ہے۔ گزشتہ روز میاں محمود الرشید کی قیادت میں اپوزیشن نے لوڈشیڈنگ کے خلاف بات کرنے کی کوشش کی۔ اجازت نہ ملنے پر اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا اور اسمبلی ہال کی مرکزی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی کی۔ ان لوگوں کے پاس پلے کارڈ بھی تھے۔ اس سے ایسا احساس ہوتا ہے کہ پہلے سے تیاریاں موجود تھیں، بہرحال بھاری اکثریت کے بل پر مطالبات زر منظور ہوتے چلے جا رہے ہیں، بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

سرکاری ملازمین مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ ایپکا کے زیر اہتمام مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین فیصل چوک آ کر ٹریفک بند کر دیتے ہیں، اس سے اردگرد ٹریفک جام ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ منظر جیل روڈ پر سروسز ہسپتال کے باہر پیرا میڈیکل سٹاف کے احتجاج سے نظر آتا ہے اور یہ بھی مرکزی سڑک ہے اس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔

لاہور صرف اسی طرح تپا ہوا نہیں، یہاں سیاسی ہلچل بھی ہے۔ آصف علی زرداری کے بیان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ فاصلے بڑھے۔ یہاں ان کے بیان پر لے دے بھی ہو رہی ہے۔ اس عرصہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم پیدائش بھی آ گیا۔ جیالوں کو موقع ملا، لاہور کے سابق صدر الحاج عزیز الرحمن چن اور صوبائی رہنما غلام محی الدین دیوان نے الگ الگ سالگرہ کے اجتماعات کئے۔ عزیز الرحمن چن نے اپنی فیکٹری میں اہتمام کیا تو لاہور اور صوبے کی قیادت کو مدعو کر لیا، میاں منظور وٹو اور بیگم ثمینہ گھرکی سمیت سبھی تھے چنانچہ سالگرہ کا کیک کاٹا گیا، یہاں طعام کا بھی انتظام تھا، اس کے لئے ہمیشہ کی طرح بدانتظامی کا مظاہرہ ہو، بہرحال تقریب میں پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور بلاول بھٹو کی آمد کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں کہ ان سب کو انتظار ہے۔

ایک اور سیاسی تقریب پاکستان عوامی تحریک کی ہوئی۔ اس میں صاحبزادہ حسن محی الدین نے صدارت کی۔ اس میں بتایا گیا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی صحت بحال ہوگئی ہے اور وہ 29جون کو لاہور آئیں گے تو ان کا استقبال کیا جائے گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری ان دنوں لندن میں ہیں۔

باراں رحمت، روزہ داروں نے سکھ کا سانس لیا، موسم بہتر!

وزیراعلیٰ کی انتھک کوشش، مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آیا،غیر معیاری اور مہنگی اشیاء کی فروخت

مساجد بھر گئیں، منافع خوروں کی لوٹ مار جاری، ٹریفک کی ہڑبونگ وارڈنز غائب ہو گئے

لوڈشیڈنگ زیادہ، گرمی سے بُرا حال، احتجاج جاری

پنجاب اسمبلی کی حزب اختلاف نے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کیا,

بے نظیربھٹو کی سالگرہ ، کیک کاٹے گئے، لاہور، پنجاب کی قیادت، ایک جگہڈاکٹر طاہر القادری کی لاہور آمد پر پرجوش استقبال کیا جائے گا.

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...