سید علمدار گیلانی کی روایتی برسی کو قومی کانفرنس میں تبدیل کر دیا گیا

سید علمدار گیلانی کی روایتی برسی کو قومی کانفرنس میں تبدیل کر دیا گیا

ملتان سے شوکت اشفاق:

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور سینیٹر آئین پاکستان میں کی جانے والی 18 ویں ترمیم کے خالق موجودہ چیئر مین سینٹ اور اس وقت قائم مقام صدر مملکت میاں رضا ربانی نے قرار دیا ہے کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دی جانے والی خود مختاری کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وفاق کو شدید خطرات لاحق ہوں گے، انہوں نے مزید واضح کیا تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیک ہولڈرز اس بات کو سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل کیا گیا تو وفاق سخت دباؤ میں آجائے گا اور اگر جمہوریت قائم رہی تو وفاق پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا۔ تاہم انہوں نے وفاق کی مضبوطی کو جمہوریت کی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اب بھی وفاق پاکستان پر سخت خطرات لاحق ہیں تاہم انہوں نے ان خطرات کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے اور کون ایسا کر رہا ہے کیونکہ وہ اس وقت قائم مقام صدر کی حیثیت اور پروٹوکول سے اس تقریب میں شریک تھے اور ان سے توقع بھی تھی کہ وہ پارٹی کے کارکن یا عہدیدار ہونے کے ناطے کوئی بیان نہیں دیں گے اور عوام کو کوئی مثبت پیغام دیں گے کیونکہ اس وقت ملکی حالات اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ ذاتی اور ذاتیات چھوڑ کر قومی تشخص کی بات کی جائے اور کرپٹ لیڈر شپ کا کوئی ساتھ نہ دے عوام بھی یہی توقع کرتے ہیں لیکن میاں رضا ربانی کا یہ بیان پیپلز پارٹی کے ایک سینیٹر سے زیادہ کا نہیں لگتا جس میں وہ اپنی پارٹی کے قائد کو حقائق سے بچانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں ان کے اس بیان کو ملکی سطح پر سیاسی حلقے مثبت انداز میں نہیں لے رہے اور توقع کر رہے ہیں میاں رضا ربانی کے اس بیان کا کوئی رد عمل ضرور آئے گا لیکن وہ کیا ہو گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی میں یہ سیاسی صفت موجود ہے کہ وہ خبر ’’بنانا‘‘اور ’’بنوانا‘‘ جانتے ہیں اب ان کے والد مخدوم سید علمدار حسین گیلانی کی برسی کو ہی لے لیں تین سال سے باقاعدہ 3 رمضان المبارک کو ان کے آبائی گھر میں ہوا کرتی تھی اس کے لئے ضروری نہیں تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی ملتان میں موجود ہوں۔ وہ ملک سے باہر تھے تو یہ برسی اپنے وقت پر ہوتی اور اگر جیل میں بھی تھے تو تب بھی ان کے دوستوں اور عزیزوں نے برسی کا اہتمام اسی جذبے کے ساتھ کیا جو وہ خود کیا کرتے تھے لیکن اس مرتبہ انہوں نے برسی کی تقریب میں ایک بنیادی تبدیلی کر ڈالی کیونکہ اس تقریب میں پہلے ہی ملک کے مختلف علاقوں سے سیاسی اور مذہبی رہنما شرکت کرتے چلے آرہے تھے لیکن اس سال انہوں نے برسی کی تقریب کو قومی کانفرنس میں تبدیل کر دیا اور اس کے لئے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جناح آڈیٹوریم میں تقریب کے انعقاد کا فیصلہ ہوا اور چاروں صوبوں سے مختلف سیاسی اور مذہبی نظریات کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور موجودہ چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی جو اتفاق سے اس وقت قائم مقام صدر بھی ہیں کو صدارت کے لئے دعوت دی گئی جبکہ مخدوم جاوید ہاشمی اہلسنت و الجماعت کے امیر پروفیسر سید مظہر سعید کاظمی اور گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ کو مہمانان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان سمیت اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک، آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم سمیت متعدد دوسرے قومی رہنما کو بھی دعوت دی گئی اور یوں اس قدیمی برسی تقریب کا نام قومی کانفرنس طے پایا لیکن 3 رمضان المبارک کو اس تقریب کے لئے میاں رضا ربانی، مخدوم جاوید ہاشمی، سید مظہر سعید کاظمی، خواجہ عطا اللہ اور سردار محمد کے سوا کوئی قومی رہنماء اس میں شرکت نہ کر سکا ،حالانکہ مولانا فضل الرحمن نے بھی شرکت کی حامی بھری تھی۔ تقریب جب شروع ہوئی تو سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے والے شاکر حسین شاکر نے اعلان کیا کہ یہ ایک خالصتاً قومی تقریب ہے جو سیاسی مقاصد سے ہٹ کر ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سید یوسف رضا گیلانی خود بیان کریں گے جس پر یوسف رضا گیلانی نے بھی اس کا اعادہ کیا اور اس تقریب کو خالصتاً غیر سیاسی اور اپنے والد کے حوالے سے ان کے سیاسی اور سماجی خدمات کا اعتراف قرار دیا لیکن جس تقریب میں سیاستدان ہوں کیا وہ تقریب غیر سیاسی ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں لہذا اس تقریب کا حال بھی وہی ہوا اور لو پروفائل تقریب اس وقت سیاسی رخ اختیار کر گئی جب مخدوم جاوید ہاشمی کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اور اے این پی سمیت متعدد دوسری سیاسی جماعتوں کو وفاق کی اکائی قرار دیا اور کہا کہ ان سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونا چاہیے اور ملکی بقاء کے لئے قائم بھی رہنا چاہیے لیکن انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر سیاسی قائدین پر سخت تنقید کی اور کہا کہ کرپشن کے ذریعے جب بھی جمہوریت کو نقصان ہوا اس سے ملک کو بھی نقصان ہوا تاہم انہوں نے جمہوریت کو ملک کے بقاء کی ضمانت قرار دیا اور کہا کہ قوم نے کبھی کرپٹ لوگوں اور کرپشن کو برداشت نہیں کیا تاہم انہوں نے مخدوم علمدار حسین گیلانی کی سیاسی اور سماجی خدمات کو سراہا اور انہیں اپنا استاد قرار دے دیا قبل ازیں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے رہنما بیرسٹر حیدر زمان قریشی نے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر میاں رضا ربانی کو خوش آمدید کیا اور مخدوم علمدار حسین گیلانی کی سماجی و تعلیمی خدمات کو سراہا اور توقع ظاہر کی سید یوسف رضا گیلانی بھی انہی کے نقش قدم پر چلیں گے۔ تقریب سے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید خواجہ علقمہ نے اپنے خطاب میں سید یوسف رضا گیلانی کی یونیورسٹی کے لئے ان خدمات کو سراہا جو انہوں نے وزارت عظمیٰ کے دور میں کی تھی خصوصاً یونیورسٹی کے لئے ایک سو پی ایچ ڈی سکالر شپ کے لئے رقوم کی فراہمی اور دوسرے منصوبے شامل تھے اور قرار دیا کہ جس وقت یہ سکالر شپ مکمل ہوئے اور 100 سے زیادہ پی ایچ ڈی سکالرز یونیورسٹی میں واپس آئے تو یونیورسٹی ملک بھر میں پہلے نمبر پر آ جائے گی وائس چانسلر نے قائم مقام صدر میاں رضا ربانی کو ان کی کتاب پر یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کرنے کا اعلان بھی کیا۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...