وفاقی حکومت کی کوششیں رائیگاں چلی گئیں، روزہ کیلئے چاند ایک روز کیوں نہیں؟

وفاقی حکومت کی کوششیں رائیگاں چلی گئیں، روزہ کیلئے چاند ایک روز کیوں نہیں؟

پشاور سے باباگل:

وفاقی حکومت نے رمضان المبارک سے چند روزقبل بڑے پیمانے پر کوششیں کیں کہ اس مرتبہ پورے پاکستان میں روزہ اورعید ایک ہی دن ممکن ہو سکے، مگر بدقسمتی وفاقی حکومت کی تمام تر کوششیں اس وقت رائیگان چلی گئیں جب پشاورکی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی نے مرکزی کمیٹی کے فیصلے کی نفی کرتے ہوئے ایک روز قبل یعنی جمعرات کے دن ماہ صیام کے آغاز کااعلان کردیا خیبر پختونخوا میں نہ صرف ایک روز قبل روزہ اورعید کرنے کی روایت بہت پرانی ہے بلکہ کئی مرتبہ خیبر پختونخوا میں بھی مرکزی رویت کے فیصلے سے دو روز قبل دو عیدیں منائی گئیں، جبکہ مرکزی رویت کے فیصلے کے مطابق تیسر ے روز بھی درجنوں مساجد میں نماز عید کے اجتماعات ہوتے رہے ہیں یہ ایک انتہائی حساس اور نازک دینی مذہبی مسئلہ ہے جس سے بیک وقت لاکھوں مسلمان متاثرہوتے ہیں ا ور قومی وحدت بھی پارہ پارہ ہوتی ہے گزشتہ کئی دہائیوں میں صرف دو یا تین مرتبہ ایسے موقع آئے جب پورے ملک میں ایک ہی دن روزہ رکھا گیا یہ قسمت کی بات ہے کہ ماضی میں جب خیبر پختونخوا کی نجی رویت ہلال کمیٹی نے مرکز کے ساتھ روزہ رکھنے کااعلان کیا تب بھی اضلاع اورایجنسیوں کی سطح پر کئی مقاقی علماء کرام نے از خود ایک دن پہلے روزئے کااعلان کیا کی اصل اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بسنے والے لاکھوں افغان مہاجرین اور پاکستان کے قبائلی علاقے ہمیشہ سعودی عرب کے اعلان کے مطابق روزہ اور عید کرتے ہیں، چنانچہ ان لاکھوں افراد پر پاکستان کی صوبائی ومرکزی ا ور نجی سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑتا ان کی دیکھادیکھی بندوبستی علاقوں کے لوگ بھی ایک روز قبل روزے کااعلان کربیٹھتے ہیں۔

اس مرتبہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمدیوسف نے ایک دن روزہ اورعید کرنے کی غرض سے بڑے جوش وخروش کے ساتھ مخلصانہ کوششیں کیں انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر مذہبی امور کے ساتھ متعدد بار رابطہ کیا وفاقی حکومت کی طرف سے مسجد قاسم کی نجی رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ بھی متعدد رابطے کئے گئے وفاقی حکومت کی طرف سے مسجد قاسم علی خان رویت کمیٹی کو مرکزی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی ان تمام کاوشوں کے پیش نظر یہ قومی امید پیدا ہوچکی تھی کہ اس مرتبہ پورئے ملک میں ایک دن روزئے کا آغاز ہوسکے گا، مگر یہ بدقسمتی سے ا ن تمام کاوشوں کابھی وہی حشر ہوا جو اس سے پہلے ہوتارہا ہے اور ہر سال کی طرح عوامی حلقوں میں ایک ایسی بحث چھڑ گئی جس نے تلخیوں کو ضرور جنم دیا مگر آج تک کوئی بھی نہ تو اس مسئلے کی اصل وجہ جان سکا اور نہ ہی اس مسئلے کا کوئی مستقل حل پیش کر سکا خیبر پختونخوا کے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت اس بات پر پریشان ہے کہ وہ دونو ں میں سے کس کو درست اور کس کو غلط قرار دیں کیونکہ دونوں طرف جید علماء کرام بیٹھے ہیں اور دونوں طرف ٹھوس شواہد ملنے یا نہ ملنے کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں لہذا خیبرپختونخوا کی عوام کی قسمت میں یہ بات لکھ دی گئی کہ وہ سال میں صرف دومرتبہ مخمے کا شکار ہوں گے۔ ایک روزہ اور دوسرا عید کے موقع پر چنانچہ برسوں سے ایسا ہوتا چلا آرہا ہے اور معلوم نہیں کہ کب تک ایسا ہوتا چلا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے ایک طرف رویت کمیٹیاں اپنے اپنے فیصلے سنارہی تھیں دوسری طرف گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام پاگلوں کی طرح چیختے چلاتے سڑکوں پرنکل آئے مشتعل مظاہرین بے قابو اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہر اس چیز پر چڑھ دوڑئے جو ان کی راہ میں آتی پشاور چارسدہ مردان نوشہرہ لکی مروت کرک صوابی ڈیرہ اسماعیل خان درگئی اورملاکنڈ ایجنسی سمیت وبیش کم تمام علاقوں کے عوام دن رات ہر وقت لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے رہے سٹرکیں بلاک ہوتی رہیں اور واپڈا سمیت سرکاری املاک پر حملے کرکے توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کرتے رہے حتی کہ صوابی کی عوام نے واپڈا دفاتر سمیت ایک عدالت کو بھی آگ لگادی یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

خیبرپختونخوا میں پیسکو نے ایک پالیسی ترتیب دی ہے اس پالیسی کے تحت جن فیڈر سے بجلی چوری (لائین لاسز) کی شکایات اوررپورٹس زیادہ آتی ہیں اس فیڈر پر لوڈشیڈنگ کادورانیہ بھی اسی شرح سے بڑھا جاتا ہے جن فیڈر پر بجلی چوری صفر ہے ان فیڈرز کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی شرح بھی صفر ہے جس کی بہترین مثال پشاورشہر کے اندورانی اور کنٹونمنٹ کے مخصوص علاقے ہیں جہاں ہفتوں لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی پیسکونے بجلی چوری کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ سے بڑھ کرایک اورقدم اٹھانا شروع کر دیا ہے جس کے تحت 90 فیصد سے زائد بجلی چوری والے علاقوں کی بجلی منقطع کردی جاتی ہے پیسکو کو حکام اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں درجنوں دیہات کی بجلی منقطع کرچکے ہیں اور مزید کارروائیاں جاری ہیں پیسکو کے اس اقدام کی تعریف کرنے والے واضع اکثریت میں بھی یعنی جو بل دے گا اسے بجلی ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں عوام کے شدید رد عمل کے پیش نظر پیسکو کیخلاف ایک مرتبہ پھر سخت رویہ اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرایک ہفتے کے اندر خیبرپختونخوا کو اس کے حصے کی پوری بجلی نہ دی گئی تو عوام کا حق حاصل کرنے کے لئے دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔ پیر کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک پیسکو چیف پربرس پڑے اور کہا کہ پیسکو چیف کی نالائقی کے باعث خیبرپختونخوا کی 500 میگاواٹ بجلی دوسرے صوبے استعمال کررہے ہیں پیسکو اپنی بجلی چوری کے باعث پورے صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے ہمارے حصے کی بجلی دوسرے صوبوں کو دے کر خیبرپختونخوا کی عوام کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، جس پرخیبرپختونخوا کی حکومت خاموش نہیں بیٹھ سکتی صوبائی حکومت کے ہر سخت در عمل کے بعد پیسکو کا یہی جواب آتا ہے کہ بل دو بجلی لو جن علاقوں میں جتنی چوری ہوئی وہاں اتنی لوڈشیڈنگ ہوگی۔

مزید : ایڈیشن 1