بیگناہ انسانوں کا خون بہانا اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے،طاہرالقادری

بیگناہ انسانوں کا خون بہانا اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے،طاہرالقادری

لندن(اے این این )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ داعش دہشت گرد اورخارجیوں کی تنظیم ، اسکی تعلیمات کا اسلام اور قرآن سے کوئی تعلق نہیں،بے گناہ انسانوں کا خون بہانا اسلام اور قرآن کی بنیادی آئیڈیالوجی کے خلاف ہے، جہاد کے نام پر فساد کرنے والوں اور نوجوانوں کی برین واشنگ کرنے والوں کے خلاف پوری قوت سے ٹکرانے کا وقت آ گیا، ایسے دہشت گرد اور بے دین عناصر اسلام اور امت مسلمہ کو کمزور کررہے ہیں ،اسلام امن اور محبت کا دین ہے ۔وہ گزشتہ روز لندن میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے حوالے سے تیار کیے گئے امن نصاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب میں برطانیہ کے پاکستانی نژاد اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافی و سماجی تنظیموں اور سرکردہ ممتاز پاکستانی شخصیات نے امن نصاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا نوجوان اور کم عمر احمق اسلام اور میری سنت کا حوالہ دیکر شر انگیزی کرینگے، معصوم خون بہائیں گے، غلبہ حق کی بات کرینگے لیکن ان کا اسلام اور سنت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ یہ قابل گردن زدنی ہونگے، اس فتنے کو پوری طاقت سے کچل دینا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں نوجوانوں کی برین واشنگ کررہی ہیں، انہیں گمراہ کررہی ہیں میں اپنے اسلامی بچوں، بچیوں، طالبعلموں سے کہوں گا اس فتنے سے دور رہیں، ایسی دہشتگرد تنظیموں کیلئے اپنا ملک، اپنے والدین اور اپنی شناخت کو ترک مت کریں۔یہ تنظیمیں جہالت اور گمراہی کے راستے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دہشتگرد گروپس ان ممالک اور معاشروں میں آسانی سے پروان چڑھتے ہیں جہاں سیاسی ،معاشی عدم استحکام ہو،ناانصافی اور استحصال ہو ۔انہوں نے کہا کہ جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور اورتقسیم کررہے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف لڑنے اور حیوانی خواہشات پر غلبہ پانے کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کیلئے یا دفاع کیلئے ہتھیار اٹھانے کی اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اور استحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا نامعلوم تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلیم قرآن اور پیغمبر اسلام ﷺکی ہے اور دین اسلام میں اس سے بڑی اتھارٹیز اور کوئی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام تو ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔اسلام امن، برداشت، بھائی چارہ کا دین ہے۔ امن اور برداشت کے مظاہرے کی مثال فتح مکہ کے واقعات ہیں ،امن اور برداشت کے مظاہرے کی ایسی مثال پوری انسانی تاریخ سے نہیں ملے گی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر امن اور تحفظ مانگنے والے دشمنان اسلام کو امن اور تحفظ دیا اور اپنے سپہ سالاروں کو حکم دیا کہ جو نہ لڑے اس سے نہ لڑو جو مزاحمت نہ کرے اسے قتل مت کرو امن پسندی اور برداشت کے مظاہرے کی اس سے بڑی تاریخ عالم میں کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عراق، شام،افغانستان میں بہت سارے دہشتگرد گروپ معصوم بچوں،بچیوں، خواتین کو ورغلا رہے ہیں ،شر انگیزی کررہے ہیں،ان کا نہ کوئی دین ہے نہ کوئی وطن اور نہ کوئی قانونی شناخت، یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے ۔ یہ نام بدل بدل کر حملہ آور ہورہے ہیں لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...