عمران فاروق قتل کیس ‘ برطانوی پولیس کو گرفتار ملزموں سے تفتیش کی اجازت دیدی ‘ چودھری نثار

عمران فاروق قتل کیس ‘ برطانوی پولیس کو گرفتار ملزموں سے تفتیش کی اجازت دیدی ...

 اسلام آباد(اے این این،آ ن لا ئن ،ما نیٹر نگ ڈیسک)حکومت نے برطانوی پولیس کو ایم کیوایم کے سابق رہنماء عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کے ملزم سے تفتیش کی اجازت دے دی جس کیلئے میٹروپولیٹن پولیس کی دورکنی ٹیم اگلے ہفتے اسلام آبادپہنچے گی، اسی مقدمے میں چمن سے گرفتارہونے والے دوملزمان کو بھی اسلام آبادمنتقل کیاجائے گا،برطانیہ کوان ملزمان تک رسائی کیلئے الگ سے درخواست دیناہوگی۔منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے پاکستان برطانیہ کے ساتھ تعاون کا پابند ہے، پاکستان ذمہ دار ملک ہے ، ہم نے اقوام متحدہ اور کئی ممالک کے ساتھ بہت سے معاہدے کررکھے ہیں جن پر عملدرآمد کے ہم بھی پابند ہیں اوردوسرے ممالک بھی پابند ہیں۔ انہوں نے کہاکہ برطانوی حکومت اور پولیس کی طرف سے عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے بہت سی درخواستیں مل چکی ہیں جن میں قانونی مد د کی استدعا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ کی پولیس گرفتار ملزمان سے تفتیش کرنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے برطانیہ کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دو ماہ قبل عمران فاروق قتل کے حوالے سے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا جس کا نام برطانیہ کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے ۔ کراچی سے گرفتار ہونے والا یہ شخص اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس شخص کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ اس شخص سے پوچھ گچھ کے حوالے سے ہماری برطانوی حکومت اور میٹرو پولیٹن پولیس سے بات چیت چل رہی تھی ۔ گزشتہ ہفتے ہم نے برطانیہ کو سفارتی چینل سے اطلاع دی ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اس گرفتار شخص سے پوچھ گچھ کرسکتے ہیں ، تفتیش کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن فی الحال یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ یہ تفتیش براہ راست یا بالواسطہ ہوگی ۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے میں برطانوی پولیس کی ٹیم تفتیش کیلئے پاکستان پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ چمن سے گرفتار ہونے والے دو ملزمان کو بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے ان ملزمان کے حوالے سے میری برطانوی سفیر سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ملزمان کو اسلام آباد لایا گیا ہے یہ دونوں ملزمان کوئٹہ میں ہیں اور ایف سی کی تحویل میں ہیں۔ ان کے حوالے سے برطانیہ کو الگ درخواست کرنا ہوگی اور جوکچھ بھی ہوا کسی دباؤ کے تحت نہیں ہوگا ہمارا برطانیہ سے ویسے بھی اعتماد کا رشتہ اور اچھے تعلقات ہیں ان کے ساتھ جو بھی مدد ہوگی وہ ہماری ذمہ داری ہوگی۔ عمران فاروق قتل کیس میں معاونت اس لئے بھی زیادہ ضروری ہے کہ یہ ایک پاکستانی کا قتل ہے ، ایک اہم شخصیت کو دیار غیر میں بے دردی سے قتل کیا گیا ہے ۔ اس قتل کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانا برطانیہ کی طرح پاکستانی حکومت اور اداروں کی بھی ذمہ داری ہے ، ہم قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کی ذمہ داری ہر صورت میں پوری کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ اس کیس میں تفتیش کو ایم کیو ایم سے نہ جوڑا جائے یہ کیس ایم کیو ایم کے حوالے سے نہیں ہے ، متحدہ اور اس کی اعلیٰ قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ چاہتے ہیں عمران فاروق قتل کیس کے جو بھی ملزمان ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ کیس ابھی تک پاکستان میں درج نہیں ہوا واقعہ لندن کا ہے کیس بھی وہیں چلنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کیس کے اہم ترین ملزمان تحویل میں ہیں اس مقدمے کے کئی بین الاقوامی پہلو، قانونی مسائل اور حساس معاملات ہیں ۔ قومی مفاد سے متعلق کوئی بھی خبر دینے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے ، بریکنگ نیوز کا مقابلہ خود میڈیا اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ قتل کے تینوں ملزمان کو تفتیش کیلئے اسلام آباد لایا جائے گا۔ برطانوی پولیس نے تفتیش اسلام آباد میں ہی کرنی ہے اور کیس کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ چمن سے گرفتار ہونے والے دو ملزمان تک رسائی کے حوالے سے برطانیہ کو الگ سے درخواست کرنا ہوگی جس پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ ہماری جے آئی ٹی جو تفتیش کرے گی وہ بھی برطانوی پولیس کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ کی جانب سے دورکنی ٹیم کی پاکستان آمد کی اطلاع ملی ہے اس ٹیم میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ابھی یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ تفتیش کے دوران ہمارے اہلکار بھی موجود ہوں گے یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ برطانیہ نے ہم سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور نہ کرسکتا ہے ، عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے انٹیلی جنس شیئرنگ کی گئی ہے ، برطانیہ کی حکومت پہلے بھی رابطے کرتی تھی اب بھی رابطے میں ہے ہم نے ایف آئی اے کے ذریعے قانونی امداد دی ہے جس میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ہم مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے نہیں بین الاقوامی معاہدے کے تحت قانونی معاونت دی جارہی ہے۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ ماڈل ایان علی کیس وزارت داخلہ یا ایف آئی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا ، ایان سے ابھی بہت سی تحقیقات باقی ہیں، یہ کیس کسٹم انٹیلی جنس کا ہے لیکن اس کے دیگر پہلوؤ کو دیکھا جارہا ہے کیونکہ یہ ا ہم کیس ہے جس میں یہ بھی پتہ چلانا ہے کہ ایان علی کے ذریعے پیسے کہاں منتقل کیے جارہے تھے اور وہ کس کے تھے، اس کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماڈل ایان علی کیس کی تفتیش کرنے والے کسی کسٹم افسر کو قتل نہیں کیا گیا یہ غلط خبر تھی جو شخص واردات کے دوران نشانہ بنا اس کا ایان کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ایم کیو ایم کے وفد نے عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے مجھ سے بات کی ہے میں نے انہیںیقین دلایا ہے کہ تحقیقات صاف شفاف ہوں گی۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آصف زرداری نے کسی ادارے کاہی نہیں اپنا بھی مذاق اڑایا، پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے پیش کی جانے والی وضاحتیں مضحکہ خیز ہیں،یہ کہا جارہا ہے کہ تقریر سابق آمروں کے خلاف تھی، ایسے ڈکٹیٹر تین سال کیلئے نہیں آئے 10 سے 11 سال رہے، ان میں زیادہ تر قبروں میں جاچکے ہیں ، فوت ہونے والوں کی اینٹ سے اینٹ تو نہیں بجائی جاتی،زرداری مانیں یا نہ مانیں انہیں غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ چوہدری نثارعلی خان نے کہاکہ سابق صدرآصف علی زرداری کو پاک فوج کے خلاف ایسی تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی اس کامہذب طریقہ تھا کہ آصف زرداری خود کہہ دیتے کہ میں نے جذبات میں آکر وہ کچھ کہہ دیا جو کچھ نہیں کہنا چاہیے تھا انہوں نے کہاکہ یہ بات بھی مذاق سے کم نہیں ہے کہ فوج کو کہا گیا ہے کہ کراچی کی زمین اب حاضر ہے، فوج کی جانب سے زمین کے حوالے سے درخواست 2001ء کی تھی اس وقت سند میں بھی پرویز مشرف کی حکومت تھی اور وہ خود آرمی چیف تھے اگر زمین کا مسئلہ ہوتا تو اس میں کیا رکاوٹ تھی وہ تو 2001ء ہی میں حاصل کی جاسکتی تھی ۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...