پنجاب بیت المال میں خلاف ضابط لاکھوں روپے کی امداد دیئے جانیکا انکشاف

پنجاب بیت المال میں خلاف ضابط لاکھوں روپے کی امداد دیئے جانیکا انکشاف

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب بیت المال میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگوں کا انکشاف ہواہے۔متعدد این جی اوز غریب و غربااور طلبا کو خلاف ضابطہ لاکھوں روپے کی امداد دیدی گئی ۔ پنجاب بیت المال کونسل اور ڈسٹرکٹ بیت المال کمیٹیوں کے ممبران نے انسپکشن شروع کردی ہے۔معلوم ہواہے کہ صوبے کے مختلف شہروں میں این جی اوز کو خلاف ضابطہ لاکھوں روپے کی گرانٹ دی گئی ہے۔ پنجاب بیت المال رول 1.7کے مطابق ڈسٹرکٹ بیت المال کمیٹیاں اس امر کی ذمے دار ہیں کہ گرانٹ حاصل کرنیو الی این جی اوز پر نظر رکھیں کہ وہ گرانٹ کے حقیقی معنوں میں استعمال کررہی ہیں یا نہیں اور خلاف ورزی کی حامل این جی اوز وصول کردہ سرکاری گرانٹ واپس کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔اور گرانٹ واپس نہ کرنے والی این جی اوز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔رول 1.21کے مطابق بیت المال کی سکروٹنی کمیٹی کے ممبر ، این جی اوز کے دفاتر میں جاکر گرانٹ کے استعمال کے حوالے سے رپورٹ تیار کرنے اور 30جون تک یہ رپورٹس ارسال کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران پنجاب بیت المال سے فلاحی امور کی خاطر گرانٹ حاصل کرنے والی متعدد این جی اوز نہ تو محکمے کو گرانٹ کے استعمال کے حوالے سے آگاہ کیا۔ نہ ہی ریکارڈ پیش کیا اور نہ ہی محکمے کی ٹیموں نے این جی اوز کی انسپکشن کی۔ پنجاب بیت المال رولز کے باب 7کے رول 5.3کے تحت غریب اور مستحق افراد کو بیٹیوں کی شادی کے لیے مالی امداد دی جاتی ہے۔ اور اس کے لیے شادی کے 90دن کے اندر نکاح نامے کی کاپی کے ہمراہ مالی مد د کی درخواست دینا ہوتی ہے۔لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ بہت سے لوگوں کو نکاح نامے کے بغیر ہی شادی کی گرانٹ دی گئی ہے۔اسی طرح باب چھ کے رول 4.3.6کے مطابق سابقہ امتحانوں میں 50فیصد سے یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلبا ہی کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔یہ بھی شرط ہے کہ طالبعلم کم از کم گیارھویں کا طالبعلم ہو اور اس کا تعلق سرکاری تعلیمی ادارے سے ہو ۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے طلبا کو گرانٹ دی گئی ہے۔ جو 50فیصد سے کم نمبر رکھتے تھے۔ یا پھر چھٹی سے میٹرک تک کے طالبعلم تھے یا ان کا توتعلق پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے تھا۔ذرائع سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ ڈسٹرکٹ بیت المال کمیٹیاں پانچ سے ختی کردی گئی ہیں۔جبکہ گزشتہ برسوں کے دوران خلاف ضابطہ گرانٹ جاری کئے جانے اور گرانٹ کے ناجائز استعمال آڈیٹر جنرل پنجاب کی ٹیمیں بھی رپورٹس پیش کرچکی ہیں۔اور محکمے کی انتظامیہ ان آبزرویشنز کو نمٹانے کی کوشش میں ہے۔اس سلسلے میں گفتگوکرتے ہوئے بیت المال پنجاب کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر شیخ تنویر احمد کا کہنا ہے کہ بیت المال کے فنڈز کا غلط استعمال سامنے آنے پر متعلقہ ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006کے تحت انکوائری جاری ہے۔اور کسی کو بیت المال کا پیسہ کھانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ بیت المال کمیٹیاں پانچ ماہ قبل ختم کردی گئی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر