پنجاب اسمبلی ‘ 12کھرب 74سے زائد مالیت کے 43مطالبات زر منظور

پنجاب اسمبلی ‘ 12کھرب 74سے زائد مالیت کے 43مطالبات زر منظور

 لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی نے 12کھرب74ارب سے زائد مالیت کے43 مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے اور اپوزیشن کی تین کٹوتی کی تحریکیں کثرت رائے سے مسترد جبکہ تین تحریکیں رولز144گلوٹنگ کے تحت فارغ کردی گئیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں گذشتہ رو42مطالبات زر کی منظوری دی گئی جن میں افیون کی مد میں 76لاکھ33ہزار،مالیہ اراضی ی مد میں4ارب24کروڑ71لاکھروپے،صوبائی آبکاری کی مد میں 8کروڑ67لاکھ72ہزار روپے،ٹکٹ یا اسٹام کی مد میں64کروڑ9لاکھ55ہزار روپے،محکمہ جنگلات کی مد میں2ارب34روڑ8لاکھ93ہزار روپے، رجسٹریشن کی مد میں 7کروڑ 61 لاکھ 18 ہزار، اخراجات برائے قانون موٹر گاڑیاں کی مد میں12کروڑ 79 لاکھ88 ہزار،ٹیکس و محصولات کی مد میں 85کروڑ 74لاکھ37ہزار، محکمہ آبپاشی و بحالی اراضی کی مد میں 15ارب46کروڑ79لاکھ51ہزار،بسلسلہ انتظام عمومی کی مد میں 26ارب93کروڑ46لاکھ5ہزار، بسلسلہ نظام عدل کی مد میں 12ارب 74کروڑ 48لاکھ 23 ہزارروپے،اخراجات برائیجیل خانہ جات سزایافتگان کی بستیوں کی مد7ارب 52کروڑ41لاکھ33ہزار روپے، پولیس کی مد میں87ارب 8کروڑ 53 لاکھ47 ہزار، عجائب گھر کی مد میں14کروڑ43لاکھ70ہزار روپے، تعلیم کی مد میں56ارب33کروڑ72لاکھ25ہزار روپے،بسلسلہ میں خدمات صحت کی مد میں 63 ارب 6کروڑ11 لاکھ65ہزار وپے،بسلسلہ صحت عامہ کی مد میں 12ارب59کروڑ53لاکھ73ہزار روپے، بسلسلہ زراعت کی مد میں 8 ارب27 کروڑ74لاکھ65ہزار روپے،بسلسلہ یں ماہی پروری کی مد میں61کروڑ76لاکھ81ہزار،بسلسلہ ویٹرنری کی مد میں 4ارب32کروڑ96لاکھ70ہزار روپے،بسلسلہ امداد باہمی کی مد میں 18کروڑ51لاکھ43ہزار روپے، بسلسلہ صنعیت کی مد میں 2ارب 76 کروڑ69 لاکھ35 ہزار،بسلسلہ سول ورکس کی مد میں 3ارب 94کروڑ 20 لاکھ1 ہزار،بسلسلہ موصلات کی مد میں 7 ارب32کروڑ27لاکھ61ہزارو ،بسلسلہ محکمہ ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کی مد میں 34 کروڑ20 لاکھ 47 ہزار، بسلسلہ ریلیف کی مد میں 1ارب 49کروڑ 18لاکھ81ہزار روپے،بسلسلہ پنشن کی مد میں1کھر4ارب،بسلسلہ اسٹشنری اینڈ پرنٹنگ کی مد میں 21کروڑ71لاکھ65ہزارروپے،بسلسلہ سبسڈیز کی مد میں53ارب54کروڑ58لاکھ54ہزار روپے، بسلسلہ متفرق اخراجات 2 کھرب 79 ارب 27کروڑ6 لاکھ16ہزار ،بسلسلہ شہری دفاع کی مد میں 6کروڑ 45لاکھ44ہزار روپے،بسلسلہ چینی کی سرکاری تجارت کی مد میں 1کھرب 23ارب 28کروڑ 78 لاکھ 47 ہزار روپے، بسلسلہ میڈیکل سٹورز و کوئلے کی سرکاری تجارت کی مد میں 3کروڑ67لاکھ10ہزار روپے، بسلسلہ قرضہ جات برائے سرکاری ملازمین1ہزار روپے،بسلسلہ سرمایہ کاری کی مد میں 6ارب,بسلسلہ ترقیات کی مد میں 2کھرب 20ارب 71کروڑ 54 لاکھ 67ہزار روپے،بسلسلہ تعمیرات آبپاشی کی مد میں 48 ارب68کروڑ14لاکھ93ہزار روپے،بسلسلہ زرعی ترقی وتحقیق کی مد میں5کروڑ51لاکھ50ہزار روپے، بسلسلہ ٹاؤن ڈویلپمنٹ50کروڑ روپے،بسلسلہ شاہرات و پل69ارب49کروڑ17لاکھ7ہزار روپے، بسلسلہ سرکاری عمارات کی مد میں60 ارب55 کروڑ31 لاکھ83ہزار روپے ،بسلسلہ قرضی جات برائے میونسپلیٹیز11ارب35کروڑ5لاکھ90ہزار روپے کے مطالبات زر کی منظوری دی گئی۔اپوزیشن کی طرف سے6محکموں صحت ،تعلیم، آبپاشی، زراعت،پولیس اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے محکموں کے بجٹ کے خلاف کٹوتی کی تحریکیں جمع کرائی گئی تھیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ ان محکوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں اس لئے ان کا بجٹ ایک روپیہ مقرر کیا جائے ۔اپوزیشن کی تینوں کٹوتی کی تحریکیں کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں جبکہ تین تحریکیں144گلوٹین کے تحت نمٹا دی گئیں۔

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے انکشاف کیا ہے کہ جب زمبابوے کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے دورے کامنصوبہ بنایا تو بہت سے ممالک نے زور لگایا کہ زمبابوین ٹیم پاکستان نہ جائے مگر جب زمبابوے کی ٹیم نے سفر کا آغاز کیا تو کراچی کا واقعہ ہو گیا جس سے وہ رک گئی تاہم انہیں یقین دہانی کرائی کہ انہیں فول پروف سکیورٹی مہیا کریں گے ۔ مہمان ٹیم کے کھلاڑی ابھی دبئی پہنچے تھے کہ ان کے مینیجر کو موبائل پر میسج دیا گیا کہ آپ پاکستان جارہے ہیں لیکن آپ کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو داعش کرتی ہے اور آپ کی ٹیم مر جائے گی۔پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ارکان کو آگاہ کرتے ہوئے کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے کہا کہ جب اس موبائل پیغام کا سراغ لگایا گیا تو یہ نئی دہلی سے چلا تھا اور اس کی منصوبہ بندی ’’ را‘‘ نے کی تھی تاہم پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دن رات محنت کی اور زمبابوے کی ٹیم نے لاہور میں پانچ میچز کھیلے۔اجلاس میں اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریک پر کی گئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کی طرح حکومت بھی چاہتی ہے کہ پولیس فرینڈلی فورس ہے اور اس کے لئے کوشاں ہیں ۔ ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ غریب کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تھانہ کلچر بدلا جائے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تھانوں کی عمارتیں تبدیل ہوں گی بلکہ اسکے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے جس پر حکومت نے عملی اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ پنجاب حکومت چاہتی ہے کہ ہمارے پولیس تھانے بھی ترکی میں قائم پولیس تھانوں کے معیار پر آ جائیں ۔ انہوں نے ایوان میں کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے90فیصد واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ ملوث تھی جبکہ دس فیصد میں باقی ملک دشمن عناصر ملوث تھے ۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پوری قوم جاگی ۔تمام سیاسی جماعتوں اور قوم نے فیصلہ کیا کہ ہم نے مل کر دہشتگردی کو ختم کرنا ہے اور عملی اقدامات کے نتیجے میں دہشتگردی کا گراف نیچے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی اپیکس کمیٹی کی کارکردگی کو صرف فوج ہی نہیں بلکہ بیرونی ادارے بھی سرا رہے ہیں ۔ یہاں سنگین کرائم میں 28سے 38فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔ آرمی ، رینجرز ،پولیس ، لاء انفورسمنٹ فورسز، سی ٹی ڈی مل کر آپریشن کر رہے ہیں اور پیشرفت جاری رکھے ہوئے ہیں اور انشا اللہ خطے سے دہشتگردی ختم ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوتاہیوں سے سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا جسکے بعد آئی سی سی نے انٹر نیشنل کرکٹ ٹیموں کے پاکستان آنے پر پابندی لگا دی ۔ انہوں نے کہا کہ ۔انہوں نے کہا کہ چارپانچ سال پہلے جب وزیر اعلیٰ نے تھانہ کلچر کی تبدیلی بارے غور شروع کیا تو کہا گیا کہ تنخواہیں بڑھائی جائیں انکی کارکردگی بہتر ہو جائے گی لیکن ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی۔ ہم نے تھانہ کلچر کو مکمل تبدیل کرنا ہے اس کے لئے غور شروع کر کے اصلاحات لا رہے ہیں ۔ ہم استعداد کار کے مطابق اصلاحات کا نفاذ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے ایوان میں تسلیم کیا کہ ماضی میں پولیس کے محکمے میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے بھی معاملات خراب ہوئے لیکن اب ہم نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بھرتیاں کر رہے ہیں ۔سی ٹی دی میں 1500بھرتیاں کی گئی ہیں جنہیں انٹیلی جنس کی جدید تربیت دی جارہی ہے ۔ پوری دنیا میں آئی ٹی کا استعمال کیا جاتاہے لیکن ہمارے ہاں اس کا استعمال صفر تھا۔ سیف سٹی پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں جس پر اسی فیصد کام ہو گیا ہے ۔ سات بین الاقوامی آئی ٹی کی کمپنیاں ایک ماہ کے اندر اپنا کام مکمل کر کیدیں گی جن میں سے ایک کو ذمہ داری سونپی جائے گی 800پوائنٹ پر 18ہزار کیمرے لگائے جائیں گے ۔سیف سٹی پراجیکٹ کی اتھارٹی بن گئی ہے باقی شہروں میں بھی اس منصوبے کو شروع کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پولیس جو پہلے جو بیمار ہوتے تھے اور ڈیوٹی سر انجام نہیں دے سکتے تھے انہیں سپیشل برانچ میں بھجوا دیا جاتا تھا لیکن اب اسے مکمل سویلین کر رہے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ جب لیڈر شپ محفوظ نہ ہو تو قوم کیا محفوظ ہو گی اس لئے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایلیٹ کو مختلف مقامات سے واپس بلایا گیا ہے اب یہ فیلڈ میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈ ور کے تحت چینی باشندے پاکستان آرہے ہیں جن کی حفاظت کے لئے سپیشل پروٹیکشن یونٹ بنایا گیا ہے ان کے دو ہزار فیلڈ میں آ چکے ہیں اس کے لئے فورس دس بٹالین پر مشتمل ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتاکہ سب اچھا ہے لیکن ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 23ہزار سے زائد لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشتگردی میں ملوث ہیں انہیں مالی معاونت کرتے ہیں ان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے اور 77کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی کچھ روپوش ہو گئے ہیں یا وزیرستان بھاگ گئے ہیں لیکن انہیں چھوڑنا نہیں انہیں پکڑیں گے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...