ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی ڈیڈ لائن بڑھنے کا امکان

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی ڈیڈ لائن بڑھنے کا امکان

واشنگٹن( اظہر زمان، بیوروچیف) ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر مذاکرات کو طویل عرصے سے مانیٹرنگ کرنے والے واشنگٹن کے سیکیورٹی ماہرین اب یقین ظاہر کر رہے ہیں کہ30 جون کی ڈیڈ لائن میں توسیع ہو جائے گی۔ اس آخری ہفتے میں کسی بھی وقت اس اعلان کی توقع ہے۔ اوبامہ انتظامیہ پر اس کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے اس سلسلے میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن کی توسیع کی صورت میں صدر اوبامہ کے کانگریس کے ساتھ تعلقات میں مزید پیچیدگی آ جائے گی۔ یہ ڈیڈ لائن امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے خود ہی مقرر کی تھی اس لئے اس میں توسیع کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے اس میں توسیع کے مطالبے سے یہ شک و شبہات ضرور پیدا ہو رہے ہیں کہ وہ اس معاہدے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ اس موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کی طرف سے ہے غیر ایٹمی فوجی مقامات کے معائنے پر پابندی کو بھی مبصرین بہت معنی خیز قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ایرانی پارلیمنٹ نے ایٹمی سائنس دانوں اور ان کی دستاویزات تک رسائی کو معاہدے ہے بار ہر رکھنے کی شرط رکھ دی ہے۔ واشنگٹن کے سرکاری ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ خاص طور پر برطانیہ اور فرانس نے امریکہ کو تاریخ بڑھانے کے لئے کہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی کا ایک تاہم میڈیا بریفنگ میں یہ اشارہ بہت واضح ہے کہ ڈیڈ لائن سے زیادہ ایٹمی مماہدے کا ہوتا زیادہ اہم ہے تاہم اس کا کہنا تھا کہ اوبامہ انتظامیہ 30 جون کی ڈیڈ لائن کے مطابق ہی آگے بڑھ رہی ہے ایرانی پارلیمنٹ کے کچھ ارکان نے اس قانون پر ووٹ دینے کے دوران ’’ امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ امریک ترجمان نے اس سلسلے میں کئے جانے والے سوال کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ان سے معاہدہ کرنا ہے تو زیادہ مطالبے نہ کئے جائیں۔ مبصرین اس سے یہ مطلب کہتے ہیں کہ ایرانی پارلیمنٹ کی طرف سے فوجی تنصیبات کے معائنے پر پابندی کو حکومت کی تائید حاصل ہے۔ معائنے کے حوالے سے مزید رعائتیں دینے کو تیار نہیں ہے۔ ایران کا مغرب سے ایک عشرے سے زیادہ تنازعہ چل رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے جبکہ مغرب ایٹمی ہتھیار بنانے کی آپشن کو ختم کرنے کے ئے اس کو ایک معاہدے کے ذریعے پابند کرن چاہتا ہے

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...