ترک خاتون اول کا ہار گیلانی کے گلے کا ہار بن گیا

ترک خاتون اول کا ہار گیلانی کے گلے کا ہار بن گیا

تجزیہ:چودھری خادم حسین

ترکی کی خاتون اول کا قیمتی ہار معمہ بن گیا اور اب اس کے لئے باقاعدہ کارروائی شروع ہو گئی ہے ملتان ہی کے ایڈیشنل سیشن جج نے ہدایت کی ہے کہ ہار کے حوالے سے رپورٹ درج کر کے تفتیش کی جائے۔ دوسری طرف ایف۔ آئی۔ اے کی طرف سے یوسف رضا گیلانی کے نام نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے کہ وہ ترکی کی خاتون اول کا قیمتی ہار واپس حکومتی تحویل میں دیں جو نادرا نے خریدا اور اس وقت وزیر اعظم کی حیثیت سے محترم یوسف رضا گیلانی نے رکھ لیا۔ گیلانی صاحب کے بقول ان کو ابھی نوٹس نہیں ملا مل گیا تو جواب دیں گے۔ ویسے وہ ہار کی تحویل کا اقرار تو کر چکے ہوئے ہیں۔

یہ بات چل نکلی ہے تو اسے دور تک جانا چاہئے۔ صرف ہار اور یوسف رضا گیلانی تک کیوں محدود رکھا جائے۔ نہ جانے کتنے وزراء اعظم اور سربراہان ہیں جو قومی تحائف خود لے گئے ہوئے ہیں۔ یہ روایت ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے معزز مہمان تحائف لاتے اور ہمارے میزبانوں کو پیش کرتے ہیں، یہ قومی ملکیت تصور ہوتے ہیں۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا جسے آپ عجائب گھر بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو تحائف بالکل ذاتی نہ ہوتے وہ اس میں رکھے جاتے تھے اور ایسا ہوتا رہا ہے۔ اب بھی وزیر اعظم ہاؤس میں بہت تحائف ہوں گے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے تحائف وزیر اعظم ہاؤس یا ایوان صدر کے مکین لے گئے ہوئے ہیں۔

ترک خاتون اول کے ہار کی یہ تفصیل بتائی گئی ہے کہ یہ ہار سیلاب زدگان کی امداد کے لئے تھا اور دو مرتبہ دیا گیا۔ ترک خاتون اول نے پہلی بار دیا اور اسے نیلام کر کے اس کی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دی گئی۔ خاتون اول کو یہ ہار واپس کیا گیا کہ مقصد امداد تھا پورا ہوا تو انہوں نے پھر سے یہ ہار امدادی فنڈ میں دے دیا اب کہا جاتا ہے کہ یہ ہار نادرا نے خریدا اور نادرا سے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لے لیا اور پھر واپس نہیں کیا۔ اب اچانک یہ ہار یاد آیا تو کارروائی شروع کر دی گئی۔ یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ یہ ہار خاتون اول (ترکی) کو واپس کرنے کے لئے لیا گیا اور کر دیا جائے گا۔ ایف۔ آئی۔ اے نے کارروائی شروع کر دی اور اب ایک ایڈیشنل سیشن جج نے یہ ہدایت کی ہے۔

ہار کی برآمدگی یا واپسی کے لئے جو بھی کارروائی ہو وہ ایک کھلی مثال ہے اس کو مثال ہی بنانا چاہئے۔ تاہم اب یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ اب تک ملنے والے تمام تحائف کا حساب ضروری ہے اور اگر کوئی عجائب گھر بنایا گیا یا کمرہ مختص ہوا تو اس کی باقاعدہ تشہیر ہونا چاہئے۔ ایوان وزیر اعظم ہو یا ایوان صدر ہر دو جگہ تحائف کی موجودگی کی تصدیق اور جو تحائف چلے گئے ان کی تلاش لازمی ہے۔ اسے یوسف رضا گیلانی اور ہار تک محدود نہ رکھا جائے۔

یہ شاید ہار اور ایسے ہی دوسرے معاملات کی وجہ سے ہے کہ پیپلزپارٹی کے حلقوں میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے بارے میں بحث جاری ہے کہ ہر دو نے آصف علی زرداری کی تقریر کو اپنے لئے غنیمت جانا اور ایسٹیبشمنٹ کی کھلی حمایت کر دی ہے، شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات، نیب کے ذرائع کے مطابق ریفرنس تو ہر دو کے خلاف دائر ہوں گے۔ بہر حال عبدالرحمن ملک سے شیری رحمن تک میدان میں ہیں۔ آصف علی زرداری کی تقریر کے مطالب نکالے جا رہے ہیں اور مخالف اسے یو ٹرن کہہ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ خان کے مطابق مصالحت ہو گئی۔ بیان واپس لیا گیا ہے۔ اب کوئی بحران نہیں۔

اِدھر لاہور میں بلاول بھٹو زرداری کا انتظار شروع ہو گیا ہے۔ مختلف گروپوں نے تنظیمی امور کے حوالے سے اپنے اپنے تحفظات مرتب کرنا شروع کر دیئے ہیں اگر وہ لاہور میں رکے تو پھر ان کو متحارب حضرات کی داستانیں سن کر فیصلے بھی کرنا ہوں گے۔

مزید : تجزیہ