پنجاب کے بڑے شہروں میں 5 سو اور ہزار کے جعلی نوٹ بڑی تعداد میں آگئے

پنجاب کے بڑے شہروں میں 5 سو اور ہزار کے جعلی نوٹ بڑی تعداد میں آگئے

گوجرانوالہ(بیورورپورٹ)شہر میں جعلی کرنسی کا دھندہ کرنے والے بااثرگروہوں کاکاروبار عروج پرپہنچ گیا ، متعدد ’’بظاہری معززین ‘‘ اور سر کا ر ی مہربان اس مکروہ دھندے کی پشت پناہی میں بتائے جاتے ہیں جبکہ علاقہ غیر سے بڑے پیمانے پرجعلی کرنسی لوڈڈ ٹرکوں اوربسوں کے خفیہ خانوں کے علاوہ ذاتی گاڑیوں میں بھی چھپا کرلائی جاتی ہے، ماہ رمضان میں بازار ‘مارکیٹوں ‘پلازوں دکانوں اورمنڈیوں میں ’’رش بے محال‘‘ہونے کافائدہ اٹھا کرجعلی نوٹ چلائے جاتے ہیں ذرائع کے مطابق ماہ رمضان میں چونکہ مارکیٹوں ‘بازاروں ‘شاپنگ مال اوردکانوں پرخریدوفروخت کارش بہت زیادہ ہوتا ہے اورخریدوفروخت کے بیوپاری دھڑا دھڑا اپنا مال فروخت کرکے کرنسی بغیر چیک کیے گن کرنوٹ اپنی جیبوں وغیرہ میں ڈال لیتے ہیں اوربعدازاں فرصت ملنے پر دوران پڑتال متعدد نوٹ جعلی ہونے کاانکشاف ہوتا ہے ان نوٹوں میں زیادہ تعداد پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کی ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جعلی کرنسی کا دھندہ کرنے والوں میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی شامل ہیں جوکہ تھوڑی رقم خرچ کرکے بڑامارجن ملنے کے لالچ میں اس کا لین دین کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جعلی کرنسی کے دھندے میں متعدد بنک ملازمین ‘کرنسی کاکاروبارکرنے اوربانڈز کا کام کرنے والے بھی ملوث بتائے جاتے ہیں جوکہ مبینہ طورپر نوٹوں کے بنڈل ترتیب دیتے وقت بڑی آسانی سے جعلی نوٹ بھی اس میں شامل کردیتے ہیں ذرائع کے مطابق جعلی کرنسی کے دھندے میں ایک ہزاروالے نوٹ کی خریدوفروخت میں زیادہ دلچسپی کامظاہرہ کیا جاتا ہے ،جعلی کرنسی کی سرکولیشن میں تیزی 14ویں روزے کے بعد دیکھنے میں آتی ہے ،ان ایام میں مارکیٹوں میں خریداروں کا رش بڑھ جاتا ہے اوراسی کافائدہ اٹھاتے ہوئے نوسربازاپنا ہاتھ دکھاجاتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر ایف آئی اے حکام کاکہناتھا کہ انہوں نے متعدد جعلسازوں کوپکڑ کران کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں اورآئندہ بھی کسی شکایت یااطلاع پرفوری کارروائی ہوگی۔

جعلی نوٹ

مزید : علاقائی