سراج الحق کے گاؤں سے

سراج الحق کے گاؤں سے
 سراج الحق کے گاؤں سے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں اس وقت دیر میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے آبائی حلقہ میں موجود ہوں۔ وہ اپنے آبائی حلقہ میں دو دن کے لئے آئے ہیں۔ اور مجھے اور امیر العظیم صاحب کوساتھ لے آئے ہیں۔ یہاں ان کے اعزاز میں افطار و سحر کے خصوصی پروگرامز ہیں۔ تمر گرہ ۔ اور منڈہ میں یہ پروگرامز ہیں۔ سراج الحق اس علاقہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اس علاقے میں ایک مرلہ جگہ بھی نہیں۔ جبکہ ان کے مقابلہ میں اے این پی کا جو امیدوار انتخاب لڑتا ہے۔ وہ ایک بڑے قلعہ میں رہتا ہے۔

سراج الحق نے اس سفر کے دوران اپنی زندگی کے مختلف واقعات بتائے۔ لیکن انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں۔ انہیں یہ بتاتے ہوئے بھی کوئی پشیمانی نہیں کہ وہ اپنے تعلیمی دور میں اپنے تعلیمی اخراجات کے لئے محنت مزدوری کرتے رہے ہیں۔ بالخصوص گرمیوں کی چھٹیوں میں جب سب طالبعلم اپنے گھروں کو چلے جاتے۔ امیر بچے سیر و تفریح کو چلے جاتے تو سراج الحق ایک دور دراز علاقہ میں محنت مزدوری کے لئے چلے جاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ تین ماہ ڈبل شفٹ میں محنت مزدوری کرتے جس سے وہ ایک سال کے تعلیمی اخراجات جمع کر لیتے۔ نہ سراج الحق کو یہ بتاتے ہوئے شرم محسوس ہو تی ہے کہ بچپن سے جوانی تک انہوں نے کسی بھی عید پر کبھی کوئی نئے کپڑے نہیں پہنے ہیں۔ کیونکہ ان کے گھر میں نئے کپڑوں کا رواج نہیں تھا۔ جس کی بنیادی وجہ ان کی غربت تھی۔

دوران سفر سراج الحق مجھے اپنے بچپن اور جوانی کے واقعات بتاتے رہے۔ جو ایک غریب خاندان کی کہانی تھی۔ ہر غریب خاندان کے ہر بچے کی یہی کہانی ہے جو سراج الحق کی کہانی ہے۔ اس میں نیا اتنا ہی کہ سراج الحق نے اس غربت میں سے اپنا راستہ بنا لیا ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ کتنے غریب بچے سراج الحق جیسی قسمت لکھوا کر آتے ہیں۔ اور کتنے بچے کامیابی کا منہ دیکھتے ہیں۔ ان گنت ہزارو ں ۔ نہیں لاکھوں انہی غربت کے اندھیروں میں غربت سے جنگ ہار جاتے ہیں۔ مجھے سراج الحق کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایسا لگا جیسے یہاں کے ہر گھر میں ایک سراج الحق رہتا ہے۔ اور اس کو موقع نہیں ملا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو منوا سکے۔ سارا دن خبروں سے بھی دور رہا ۔ کچھ معلوم نہ ہو سکا ۔ کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ صرف اتنا پتہ لگا کہ سابق صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور اچانک دبئی روانہ ہو گئی ہیں۔ مجھے خبروں میں اچانک سن کر اور پڑھ کر شدید حیرانگی ہوئی۔ اس میں اچانک والی کونسی بات ہے۔ اول تو سندھ میں بہت گرمی پڑ رہی ہے۔ لوگ گرمی سے مر رہے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ بھی اپنے عروج پر ہے۔ کراچی میں تو سینکڑوں لوگ مر گئے ہیں۔ لیکن نہ تو سندھ حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت سے کوئی ان کی مدد کے لئے پہہنچا۔ اس کے بعد اب دبئی جانا تو بنتا تھا۔ مظفر ٹپی پہلے ہی جا چکے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ حکومت کی چوری کھانے والے طوطے ایک ایک کر کے اڑ رہے ہیں۔

رینجرز سمجھداری کامظاہرہ کر رہے ہیں کہ ان چوری کھانے والے طوطوں کو اڑنے دے رہی ہے۔ اگر وہ انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیتی تو سندھ میں بڑا سیاسی بحران پیدا ہو جاتا۔ جو ملک و قوم کے لئے خطرناک ہو سکتا تھا۔ اگر فریال تالپور یا مظفر ٹپی ملک سے باہر گئے ہیں تو جب حالاے ٹھیک ہونگے واپس بھی آجائیں گے۔ وہ نہ تو سیاسی پناہ لیں گے اور نہ ہی کہیں مستقل ٹھہریں گے۔پاکستان کی بہاریں انہیں واپس لے آئیں گے۔

میں بات سراج الحق کی کر رہا تھا اور پہنچ فریال تالپور پر گیا۔ میں نے سراج الحق سے پوچھا کہ اب آپ ایک مرکزی جماعت کے قائد ہیں۔ سب آپ کو ملتے ہیں ۔ کیسا لگتا ہے ان بڑے بڑے لیڈروں کے درمیان۔ وہ میرا سوال سن کر خاموش ہو گئے۔ کہنے لگے یہ سب بڑے بڑے مغل شہزادے ہیں۔ ان کی بڑی بڑی گاڑیاں۔ بڑے بڑے گھر۔ جاگیریں۔ دیکھ کر میں پریشان ہو جا تا ہوں۔ آپ یقین کریں میرے پاس تو نہ اپنا گھر ہے اور نہ ہی اپنی سائیکل۔ میں تو اپنے علاقہ میں بھی کرائے پر رہتا ہوں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان لیڈروں کے نوکر بھی میرسے سے زیادہ امیر ہیں۔ ان کے نوکروں کے کپڑے میرے سے اچھے ہیں۔ میں ان کی محفل میں ہمیشہ خود کو اجنبی ہی محسوس کرتا ہوں۔ میں نے کبھی خود کو ان جیسا محسوس نہیں کیا۔

لوڈ شیڈنگ اس علاقہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ جس طرح پنجاب اور سندھ میں لوگ لوڈ شیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بالکل اسی طرح ان پہاڑوں میں بھی لوگ لوڈ شیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔سراج الحق جس بھی محفل میں گئے۔ جن وفود کو ملے ہیں۔ سب نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ میں نے کہا کہ کے پی کے کے لوگ بل نہیں دیتے۔ جس پر مجھے بتا یا گیا کہ دیر اور مالاکنڈ میں بجلی کے بلوں کی وصولی کی شرح سب سے اچھی ہے۔ لیکن پھر بھی کئی کئی گھنٹے اس علاقہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ کے پی کے میں بھی لوڈ شیڈنگ پر وہی شور ہے جو باقی ملک ہے میں شائد نیوز چینلز کی ڈی ایس این جی ان علاقوں میں نہیں پہنچتی۔ اس لئے یہاں کا شور باقی ملک میں نہیں پہنچتا۔ ورنہ یہاں کے لوگ بھی اتنی ہی اونچی چیخ رہے ہیں جیسے باقی ملک کے لوگ چیخ رہے ہیں۔

مزید : کالم