معذوراورنابینا چینی دوستوں کا 10 ہزار سے زائد درخت لگانے کا کارنامہ

معذوراورنابینا چینی دوستوں کا 10 ہزار سے زائد درخت لگانے کا کارنامہ
 معذوراورنابینا چینی دوستوں کا 10 ہزار سے زائد درخت لگانے کا کارنامہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ)خصوصی رپورٹ)چین میں دریائے ای یے کے بنجر کناروں پر 2 ایسے دوستوں نے 10 ہزار درخت لگائے جن میں سے ایک دونوں بازؤوں اور ایک بینائی سے محروم ہے۔چین کے ان باہمت 2 دوستوں نے گزشتہ 13 برس سے ہیبائی صوبے میں اپنے گاؤں میں ماحول کو بہتر بنانے اور آلودگی کے خاتمے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے، بازؤں سے محروم جیا وینگجائی کی عمر53 اور نابینا دوست جیا ہیکشیا کی عمر 54 سال ہے، ہیکشیا روز اپنے دوست وینگجائی کی بازوؤں سے خالی آستین پکڑے اسے جھیل کنارے لے جاتا ہے اور اس کا دوست اسے اپنی پیٹھ پر سوار کراکے دوسری کنارے پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔وینگجائی 3 سال کی عمر میں اس وقت بازؤں سے محروم ہوگیا جب اسے شدید کرنٹ لگا جب کہ ہیکشیا سال 2000 میں ایک کان میں کام کرتے ہوئے حادثے میں اندھے ہوگئے تھے۔وینگجائی کا کہنا تھا کہ بنجر اور مشکل جگہ پر پودے لگانا عام افراد کے بس کی بات نہیں تھی لیکن اگر دل میں عزم ہوتو سب کچھ ممکن ہے اورہم معذورافراد میں یہی حوصلہ پایا جاتا ہے۔سال 2002 سے ہرروز ہیکشیا نامی یہ شخص درخت پرچڑھتا ہے اوردرختوں کی افزائش کے لیے ان کی قلمیں توڑتا ہے جب کہ وینگجائی اپنے پیروں کی مدد سے پودوں کو پانی دیتا ہے تاکہ نئے پودے کے افزائش کی جاسکے اور ہرسال وہ 800 درخت اگاتے ہیں۔ اس ضمن میں جب حکومت سے امداد ملی تو دونوں نے اسے دوسرے معذور افراد کے حوالے کردیا جب کہ یہ دونوں اب تک 12 ہزار سے زائد درخت لگا چکے ہیں۔واضح رہے کہ ان دونوں افراد کا گاؤں چین کے تیسرے آلودہ ترین شہرشائی جیازوانگ کے قریب واقع ہے اوراسی لیے وہ اپنے گاؤں کو بھی آلودگی سے پاک رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید : علاقائی