نائجیریا میں اراکین پارلیمان کو کپڑے خریدنے کے لیے اربوں دیے جائیں گے

نائجیریا میں اراکین پارلیمان کو کپڑے خریدنے کے لیے اربوں دیے جائیں گے

نائجیریا(خصوصی رپورٹ)پاکستان کی طرح نائجیریا میں بھی بالادست طبقہ عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ وہاں کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے پیش نظر بھی صرف اور صرف اپنا مفاد ہوتا ہے۔ نائجیریا میں اراکین پارلیمان کی تنخواہیں ایک لاکھ 89 ہزار 500 ڈالر سالانہ یعنی عام آدمی کی فی کس آمدنی سے 175 گنا زیادہ ہیں۔ یوں نائجیریا کے اراکین پارلیمان دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہیں پانے والے قانون سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔افریقی ملک کے عوام اپنے حکمرانوں کی عیاشیوں سے پہلے ہی تنگ ہیں، ایسے میں اس خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ اراکین پارلیمان کے لیے ’ وارڈ روب الاؤنس‘ کی مد میں مجموعی طور پر نو ارب نائرا ( ساڑھے چار کروڑ ڈالر ) مختص کردیے گئے ہیں۔ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی، اور لوگوں نے اس پر ردعمل ظاہر کرنا شروع کردیا۔ عوام نے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر کا سہارا لیا۔ آن کی آن میں درجنوں ہیش ٹیگ بنالیے گئے جن پر اب تک لاکھوں ٹویٹس ہوچکی ہیں۔لوگوں کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے نام نہاد عوامی نمائندے لوٹ مار اور کرپشن کے بل پر کھرب پتی بنے ہوئے ہیں۔ اور اب انھیں لباس کی خریداری کے لیے اربوں نائرا مزید دیے جارہے ہیں۔ ملک میں کئی کروڑ نفوس پرانے کپڑے خریدنے کے بھی قابل نہیں، اور یہاں پارلیمان کے ارکان کو اربوں کی رقم وارڈ روب الاؤنس کے نام پر دی جارہی ہے۔عوام میں دوڑتی غصے کی لہر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حکومت نے یہ وضاحت جاری کی کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں، نیز ہر رکن اسمبلی کو وارڈ روب الاؤنس کی مد میں ڈھائی ہزار ڈالر کے مساوی رقم دی جاتی ہے۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...