کرائے دار خاتون اور اس کے بچوں پرمالک مکان کا تشدد معمول بن گیا

کرائے دار خاتون اور اس کے بچوں پرمالک مکان کا تشدد معمول بن گیا
کرائے دار خاتون اور اس کے بچوں پرمالک مکان کا تشدد معمول بن گیا

  

لاہور(کرائم سیل)شالیمار کے علاقہ میں دو سال قبل دو لاکھ روپے ایڈوانس پر کرائے پر مکان حاصل کرنے والے خاندان کو مالک مکان نے پولیس کے ذریعے بے گھر کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔محنت کش محمد رفیق کی بیوی شاہدہ بی بی اور بچوں کو گھر میں گھس کر تشد د کا نشانہ بنایا۔شالیمار پولیس نے صرف خاتون کے کپڑے پھاڑنے کی دفعہ 354ت پ کا مقدمہ درج کر کے ٹال دیا۔انویسٹی گیشن پولیس نے بھی کوئی بات نہ سنی۔متاثرہ خاندان فریاد لے کرروزنامہ’’ پاکستان‘‘ پہنچ گیا۔متاثرہ خاتون شاہدہ بی بی نے اپنے کم سن بچوں کے ہمراہ بتایا کہ اس نے القادر سکیم شالیمار میں دو سال قبل قاری محمد یٰسین سے دو لاکھ روپے ایڈوانس پر کرائے پر مکان حاصل کیاجس کاہر ماہ باقاعدگی سے کرایہ بھی اداکیا جا رہا ہے۔ بجلی کی موٹر زیادہ چلانے پر قاری محمد یسین اور اس کے بیٹوں شعیب اور زوہیب وغیرہ نے 19اپریل کو گھر میں داخل ہو کر مارا پیٹا،پھر 20اپریل کو دوبارہ گھر میں داخل ہو کر مار پیٹ کی۔دونوں مرتبہ پولیس کو 15پر اطلاع دی،مگر پولیس نے کوئی کاروائی نہ کی۔28 مئی کو دوبارہ مارپیٹ کی اور زبر دستی گھر کا سامان اٹھا کر باہر پھنکنے کی کوشش کی۔پولیس نے تیسری مرتبہ مار پیٹ پر صرف 354ت پ کی دفعہ کا مقدمہ درج کیا،چادر اور چار دیواری کے پامال ہونے اور گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ کرنے کی دفعات نہ لگائیں۔خاتون شاہدہ بی بی کے مطابق سی سی پی او لاہوراور ایس ایس پی انوسٹی گیشن کے حکم کے باوجود انوسٹی گیشن پولیس نے ایک نہ سنی۔مورخہ بارہ جون کو تھانہ جانے پر مخالف پارٹی کے افراد قاری محمد یٰسین،اس کے بھائی محمد نعیم،بیٹوں شعیب اور قیصر وغیرہ نے تھانیدار محمد نذیر کی موجودگی میں سر سے دوپٹہ اتار کر بد تمیزی کی،گالی گلوچ اور دھکے دئے اور تھانے کے سامنے بھی مارپیٹ کی۔واقعہ پر ایس ایچ او کو فوری طور پر اطلاع دی۔اگلے روز ایس پی سول لائن(آپریشن)کو بھی تحریری درخواست دی۔ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔خاتون شاہدہ بی بی کے مطابق مالک مکان ایڈوانس کی دو لاکھ روپے رقم واپس کرنے کی بجائے الٹا غنڈوں کو گھر پر لا کر تشدد کرتا ہے اور پولیس کے پاس جانے پر وہ بھی کوئی مدد نہیں کرتی۔وزیر اعلیٰ پنجاب،آئی جی پولیس،سی سی پی او نوٹس لے کر انصاف دلائیں۔اس حوالے سے ایس ایچ او شالیمار رانا محمد اصغر نے بتایا کہ خاتون کی ایک درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے،باقی درخواستوں پر کاروائی کی جا رہی ہے۔

مزید : علاقائی