کراچی میں بکھرے لاشے، زندہ لاشیں۔۔۔!

کراچی میں بکھرے لاشے، زندہ لاشیں۔۔۔!
کراچی میں بکھرے لاشے، زندہ لاشیں۔۔۔!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مَیں صدمے میں ہوں، مَیں کیا؟ پوری قوم صدمے میں ہے، غم و غصے کی انتہا نے دل و دماغ پر سکتہ طاری کر دیا ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کہا جائے، کیا لکھا جائے، رحمت و برکات کا مژدہ لئے رمضان کریم کی پُرکیف ساعتیں، ماتم زندگی میں کیوں بدلی بدلی دکھائی دے ری ہیں؟ واحسرتا! اس قوم کی کم نصیبی کا باعث کیا ہے؟ کیوں رحمت کی گھڑیاں، اندوہ گیں ٹھہری ہیں؟

مبارک مہینے کے لمحات، موت کے جام کیوں چھلکانے لگے۔۔۔؟

روشنیوں کا شہر، کراچی، کیوں موت کے اندھیروں میں ڈوبتا جا رہا ہے؟

وہ کراچی، جو پورے مُلک کے باسیوں کے لئے خوشیاں بانٹا کرتا تھا، جہاں زیست کے بیش بہا سامان اور تفریحِ قلب و نظر کے بے شمار امکان تھے۔۔۔۔ وطن کے دور دراز علاقوں کے رہنے والے جہاں آ کر اپنی زندگی سنوارتے اور خود کو نکھارتے تھے۔۔۔ جہاں، غریب سے غریب بھی ’’امیرانہ سوچ‘‘ سے جیتا اور قہقہے لگاتا تھا۔۔۔ آج وہاں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔۔۔ وہ شہر جہاں زندگی کے نغمے گونجتے تھے، آج موت کی ارزانی پر، ہر طرف بین ہی بین سنائی دے رہے ہیں۔

زندگی کی تمام تر رنگینی اور پُرکیف رونقیں ماتم آگیں ماحول میں ڈھل گئی ہیں۔

اگرچہ، کراچی گزشتہ کچھ عرصے سے قتل و غارت کی سازشوں سے کرچی کرچی ہے، وہاں کے کوچہ و بازار میں روز لاشیں گرتی تھیں، مگر جس کثرت و تواتر سے گزشتہ روز ’مرگ انبوہ‘‘ کا ’’تماشا‘‘ ہوا ہے، اور جس بڑی تعداد میں لوگ مرے ہیں، کراچی نے کبھی اس کثرت میں اکٹھے اتنی لاشوں کو نہ دیکھا تھا، نہ کبھی سُنا تھا۔

کراچی ہی کیا، پاکستان کہ دہشت گردی کے بڑے بڑے سانحات جھیل چکا ہے، پھر بھی، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں پاکستان نے کبھی نہیں دیکھیں۔

کیا کہا جائے؟ کیا لکھا جائے۔۔۔؟

موت کے اس ننگے ناچ نے زندگی کو اور زیادہ بے اعتبار کر دیا ہے۔۔۔ حقیقت میں ’’قیامتِ صغریٰ‘‘ برپا ہو گئی ہے، لوگ اس طرح مر رہے ہیں جیسے ’’بے جان‘‘ ہونے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ جیسے لوگ، ایک دوسرے کو باور کروا رہے ہوں کہ چھوڑو،زندگی کی گہما گہمی میں کچھ نہیں رکھا، آؤ مرگِ انبوہ کا جشن منائیں۔۔۔

شوخ دل، تفریحِ نظر، اب زیست کا ساماں، کوئی نہیں

شیری لب خوشبو دھن، اب درد کا درماں، کوئی نہیں

اب جینے کی باتیں رہنے دو، اب جی کر کیا لیں گے

اک موت کا دھندہ باقی ہے، جب چاہیں گے نپٹا لیں گے

یہ تیرا کفن، وہ میرا کفن، یہ تیری لحد وہ میری ہے۔۔۔

کراچی میں گزشتہ ایک دن میں جس طرح لوگ مرے ہیں، ہر ایک غمگیں ہے، ہر کوئی رو رہا ہے، کوئی شقی القلب ہی ہو گا، جس کے کلیجے کو ہاتھ نہ پڑا ہوا!

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اس پاکستان کا جس کو دُنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت ہونے کا ’’گھمنڈ‘‘ ہے، جو ایشیا کا ٹائیگر کہلانا چاہتا ہے، جہاں کے حکمرانوں کی دُنیا بھر کے ممالک میں جائیدادیں ہیں، جہاں کے سیاست دانوں کی اربوں ڈالرز کی ہنڈی کی کہانیاں اور بیگمات کے جوئے میں یکبارگی 60لاکھ پونڈ ہارنے کے قصے، دُنیا بھر میں پھیلے ہیں۔۔۔

اس پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں آج کے ترقی یافتہ اور سہولت آمیز دور میں ہزاروں لوگ پانی کو ترستے، گرمی کے ہاتھوں، موت کا جام پینے پر مجبور ہو گئے۔۔۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں سمندر کنارے پانی پانی بلکتے، اتنے لوگ مرے کہ بے شمار ہسپتال اور مردہ خانے، لاشیں سنبھالنے سے قاصر ہو گئے، قبرستانوں میں جگہ ملنا، مشکل ہو گیا۔۔۔

سیاست دان، تجزیہ کار، اپنی اپنی ہانک رہے ہیں، کوئی کچھ کہہ رہا ہے، کوئی کچھ اور، لکھنے والوں کے قلم خشک ہوتے جا رہے ہیں عجب ہاہا کار مچی ہے، کسی کی انگلی کسی کی طرف ہے تو اس کی کسی اور کی طرف۔۔۔

عوام و خواص، حکمرانوں کے لتے لے رہے ہیں، اُن کو، ان کے وعدے اور دعوے یاد کرا رہے ہیں۔۔۔ پوچھ رہے ہیں،’’ وہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کیا ہوئے؟‘‘

وہ مینارِ پاکستان پر بیٹھ کر ہیرکی طرح پنکھی ہلا ہلا کر لوڈشیڈنگ پر احتجاج کرتے ہوئے کہنا کہ ’’ اگر ہمیں حکومت ملی تو چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ کی تو نام بدل دینا‘‘۔۔۔

لوگ پوچھ رہے ہیں ’’سائیں! تم تو عوام کے نعرے لگا لگا کر بوڑھے ہو گئے، تمہارے ہوتے ہوئے، شہرِ قائد کا پانی اور بجلی کہاں چلی گئی۔۔۔؟

حکمران، اپنی طرف اٹھی انگلیوں کو اپنے سے پہلے حکمرانوں کی طرف گھمانے کی فکر میں ہیں۔۔۔ سبھی ایک دوسرے کو گھورنے میں لگے ہیں، حکمرانوں سے مایوس عوام، ایک بار پھر، پاک فوج کی طرف،جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھیوں کی طرف دیکھنے میں لگے ہیں وہ فوج کے سالاروں سے پوچھنا چاہتے ہیں، کہ پشاور کے بچوں کی شہادت پر جس تاریخِ ساز اقدام کا مظاہرہ کیا تھا، اسی طرح کا اقدام، کراچی مرنے والوں کی ہلاکت پر کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟

دہشت گردی کے خلاف’’ضربِ عضب‘‘ ضروری تھی تو پانی و بجلی کی کمی کے باعث ہلاکت خیزی کے خلاف’’ کالا باغ ڈیم آپریشن‘‘کیوں نہیں؟ جتنے لوگ، ایک ہی دن میں، پانی و بجلی کی کمی سے مرے ہیں، کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ میں شہید نہیں ہوئے، پھر ’’کالا باغ ڈیم‘‘ اور دیگر ڈیم کیوں نہیں بنائے جاتے؟ فوج یہ انقلابی قدم کیوں نہیں اٹھاتی۔۔۔؟

کراچی، سندھ اور مُلک بھر کی ہلاکتوں پر غم گیں بھی ہوں اور لوگوں کی ایک دوسرے کی طرف اُٹھی انگلیوں پر حیران بھی ہوں، مَیں نم آنکھوں سے، ان بے بصیرت لوگوں کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں، اس طوفاں انگیز و ہلاکت خیز ماحول نے عقلیں اس قدرکند کر دی ہیں کہ ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھانے والے، اوپر عرش والے کی طرف کیوں نہیں دیکھتے۔۔۔؟

انہیں کیا ہوا ہے کہ یہ قادرِ مطلق کو بالکل بھول گئے ہیں۔۔۔یہ جون جولائی پہلے بھی تو آتے تھے، لوڈشیڈنگ پہلے بھی تو ہوتی تھی،۔۔۔ پھر کیا ہوا، کہ لوگ اس کثرت سے مرنے لگے۔۔۔؟ کراچی میں، اس شدت کی گرمی پڑنے لگی۔۔۔؟ سمندر تک بھی اپنے کنارے بسنے والوں کو شبنم تک مہیا کرنے کو تیار نہیں۔۔۔؟

اے کاش! لوگ اپنے مالک کی طرف رجوع کریں، اس سے لو لگائیں، رمضان میں خوب گڑ گڑا کر، اسے مبارک بنوا لیں، دِلوں کو دست بددعا بنا لیں۔۔۔

حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بجائے اس کی طرف دیکھیں جو مسبب الاسباب ہے اور جس کے ہاتھ میں سب کے دِل ہیں، جو آج بھی استسقاء کی دُعا کرنے والوں کی سُن کر بارش برسا دیتا ہے، آسمانوں سے حیات بخش، ٹھنڈا پانی نازل کر دیتا۔۔۔ اے کاش! اے کاش۔۔۔ اے کاش۔۔۔!

گرمی سے مرنے والوں کے بکھرے لاشوں کی جگہ ان بے حس، بے بصیرت زندہ لاشوں کو بھی ٹھکانہ مل جائے کہ جوزندگی کے مقاصد کو،زندگی دینے والے کے تعلق کو اور زندہ رہ جانے والوں کے حقوق کو نظر انداز کر کے عیاشی کرتے اور گھومتے پھرتے ہیں، اے کاش! اے کاش! اے کاش۔۔۔!

مزید : کالم