الطاف حسین نے پارٹی قیادت کسی صحیح ہاتھ میں نہ سونپی تو پارٹی پر دباؤ آئے گا : ندیم ملک

الطاف حسین نے پارٹی قیادت کسی صحیح ہاتھ میں نہ سونپی تو پارٹی پر دباؤ آئے ...
الطاف حسین نے پارٹی قیادت کسی صحیح ہاتھ میں نہ سونپی تو پارٹی پر دباؤ آئے گا : ندیم ملک

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) متحدہ قومی موومنٹ پر برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد سینئر صحافی ندیم ملک نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی ) نے اپنی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی رپورٹ معتبر ہے اور ان کی تحقیق میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔نجی ٹی وی چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے ندیم ملک نے انکشاف کیا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ پارٹی رہنماﺅں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پارٹی قائد الطاف حسین کا استعفیٰ لے لیں لیکن یہ بات کہنے کسی میں ہمت نہیں ہوئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 جولائی کو الطاف حسین کی ضمانت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد پارٹی پر بہت زیادہ پریشر آئے گا ۔ ندیم ملک کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی صحیح ہاتھوں میں سونپ دی گئی تو پارٹی میں اتحاد قائم رہے گا ورنہ پارٹی پر اتنا دباﺅ آئے گا کہ پارٹی ختم ہونے کا بھی خطرہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار انہوں نے استعفیٰ اس لئے بھی واپس نہیں لیا کہ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ پارٹی مشکل میں پھنس سکتی ہے۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ جب اس رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنماﺅں سے سوال کرنا چاہا تو انہوں نے ’نو کمنٹس ‘ بول دیا اور کوئی موقف دینے سے گریز کیا ۔ ندیم ملک نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سمیت سیکٹر دفاتر پر بھی چھاپہ مارا گیا اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز بھی بتا چکے ہیں کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف ڈی جی رینجرز نے یہ بات کی دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی ’را‘ سے فنڈنگ اور مدد کے حوالے سے ذکر کیا ۔ ندیم ملک نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے رہنماءڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزمان گرفتار ہیں اور دوسری جانب ایم کیو ایم کے دو رہنماﺅں نے ’را‘ سے فنڈنگ کا اعتراف بھی کیا ہے اور یہ ایم کیو ایم کے لیے خطرے کی بات ہے ۔

مزید : اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...