کھانا منہ میں ہو اور فجر کی اذان ہوجائے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟اماراتی گرینڈ مفتی نے جواب دے دیا

کھانا منہ میں ہو اور فجر کی اذان ہوجائے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے ...
کھانا منہ میں ہو اور فجر کی اذان ہوجائے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟اماراتی گرینڈ مفتی نے جواب دے دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) سحر کے وقت کھانا تاخیر سے شروع کرنے کی صورت میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ کھانے کے دوران ہی اذان شروع ہو جاتی ہے، اور ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ اذان شروع ہونے کے وقت نوالہ منہ میں ہو تو اس کے بارے میں کیا احکا مات ہیں۔

اکثر یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ اذان کے دوران کھانا پینا مکمل کرنے میں حرج نہیں لیکن دبئی کے گرینڈ مفتی ڈاکٹر علی احمد مشائل نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ فجر کے بعد یا دوران کھانے سے روزہ قائم نہیں رہتا لہٰذا اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اذان سے قبل کھانا پینا ختم کر دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اذان شروع ہو جانے کے بعد منہ میں موجود نوالہ ارادتاً نگل لیا تو روزہ دوبارہ رکھنا ہو گا جبکہ کفارہ بھی ادا کرنا ہو گا، البتہ اگر نوالہ غیر ارادی طور پر نگلا جائے تو کفارہ نہیں ہو گا لیکن روزہ دوبارہ رکھنا ہوگا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس