ماتحت عدالتوں کا تقدس ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا ،چیف جسٹس نے شیخوپورہ میں عدالت کو تالا لگانے کا سخت نوٹس لے لیا

ماتحت عدالتوں کا تقدس ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا ،چیف جسٹس نے شیخوپورہ میں ...
 ماتحت عدالتوں کا تقدس ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا ،چیف جسٹس نے شیخوپورہ میں عدالت کو تالا لگانے کا سخت نوٹس لے لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہو ر(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے شیخوپورہ میں وکلاءکی طرف سے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو تالا لگانے کے معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ماتحت عدالتوں کے تقدس کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور کسی کو عدالتی احترام کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ تالا بندی کی اطلاع ملتے ہی چیف جسٹس خود سیشن کورٹ شیخوپورہ پہنچ گئے ۔

فاضل چیف جسٹس نے اپنی نگرانی میں عدالت کا تالا کھلوایا اور تالا لگانے والے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لئے ریفرنس ہائی کورٹ کو بھجوانے کی ہدایت کی ،اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وکلاءکا رویہ یہ ہی رہا تو شیخوپورہ کی عدالتیں کسی دوسرے ضلع میں منتقل کردی جائیں گی ۔عدالتوں کو تالے لگانے کے واقعات ناقابل برداشت ہیں ۔تالا کھلوانے کے بعد چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج خضر حیات گوندل کی عدالت میں اپنی نگرانی میں مقدمات کی سماعت بھی کروائی ۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج خضر حیات گوندل شیخوپورہ کی عدالت نے ایک مقامی وکیل کی ضمانت 20جون کو خارج کردی تھی جس پر مذکورہ وکیل نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے مذکورہ عدالت کو تالا لگا دیا۔ چیف جسٹس نے مذکورہ واقعہ کا نوٹس لیا اور فوری طور پر ڈسٹرکٹ کورٹس شیخوپورہ تشریف لائے۔اس موقع پر عدالت عالیہ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود،مسٹر جسٹس سیدمنصور علی شاہ اوررجسٹرارحبیب اللہ عامر بھی فاضل چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔ چیف جسٹس نے سیشن جج شیخوپورہ اور سینئر وکلاءکے ہمراہ عدالت میں گئے اور ایڈیشنل سیشن جج خضر حیات گوندل کو عدالتی کاروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ بعدا ازاں چیف جسٹس نے بار عہدیداروں اور سینئر وکلاءسے ملاقات کی، ملاقات میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخوپورہ عظمیٰ چغتائی اور سینئر سول جج بھی شریک تھے۔چیف جسٹس مسٹر منظور احمد ملک نے کہا کہ شیخوپورہ کی بار تاریخی مقام اور اہمیت کی حامل ہے اس کے اراکین سنجیدہ اور انصاف کے علمبردار ہیں۔انہوں نے کہا وکلاءکی اکثریت مثبت سوچ اور رویہ کے حامل افراد پر مشتمل ہے تا ہم 2یا 3فیصد منفی عناصر کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ایسے عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا شیخوپورہ کے سینئر وکلاءقابل تعریف ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی مذمت کی۔ شیخوپورہ بار کے عہدیداروں نے بھی مذکورہ افسوس ناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ واقعہ میں ملوث وکیل کے خلاف 24گھنٹے میں کارروائی کی جائے گی۔

مزید : لاہور