ہمسائے ملک سے سمگل کئے جانے والے گوشت کے یہ پیکٹ کتنے سال پرانے ہیں ؟جان کر آپ گوشت کھانےسے ہی گھبرائیں گے

ہمسائے ملک سے سمگل کئے جانے والے گوشت کے یہ پیکٹ کتنے سال پرانے ہیں ؟جان کر ...
ہمسائے ملک سے سمگل کئے جانے والے گوشت کے یہ پیکٹ کتنے سال پرانے ہیں ؟جان کر آپ گوشت کھانےسے ہی گھبرائیں گے

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) صارفین کو زائدالمعیاد اور مضر صحت اشیاءفروخت کرنے والے تاجروں کے بارے میں تو آپ نے ضرور سن رکھا ہو گا لیکن 40 سال پرانی کھانے کی اشیاءبیچنے والوں کا کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔

چینی کسٹمز حکام نے حال ہی میں جب کچھ مشکوک سامان کو تحویل میں لیا تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ اس میں 40 سال پرانا گوشت بھی شامل تھا جس کی مالیت تین ارب یوان (تقریباً 49 ارب پاکستانی روپے) سے زائد بتائی گئی ہے۔ حکام نے ہنان صوبے کے علاقے چانگشا میں حالیہ دنوں میں گوشت سمگل کرنے والے دو گینگ پکڑے ہیں اور ان کے تقریباً 20 افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔ ان گینگز کے قبضے سے 800 ٹن فروزن بیف، مرغیوں کے پنجے اور بطخوں کی گردنیں برآمد کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گوشت ہانگ کانگ سے ویت نام کی ایک شمالی بندرگاہ لایا گیا جہاں اسے چھوٹے پیکٹوں میں بند کیا گیا، جس کے بعد اسے چین لایا گیا اور سارے ملک کے بازاروں اور ریستورانوں میں بیچا گیا۔ گوشت کے تجزیے سے معلوم ہو کہ اس میں سے بڑی مقدار 1970 کی دہائی میں فریز کی گئی تھی۔ گوشت تحویل میں لینے والے اہلکاروں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس میں سے شدید بو آ رہی تھی اور یہ بری طرح خراب ہو رہا تھا کیونکہ سمگلنگ کے دوران اسے مناسب طور پر محفوظ نہیں رکھا جا سکا تھا۔ ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ جو گوشت تا حال جما ہوا تھا اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اسے چار دہائیاں پہلے فریز کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کل ایک لاکھ ٹن زائدالمعیاد گوشت پکڑا جا چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس