فیشن کی وہ اشیاء جو مرد و خواتین روز استعمال کرتے ہیں ،انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں

فیشن کی وہ اشیاء جو مرد و خواتین روز استعمال کرتے ہیں ،انتہائی خطرناک ثابت ہو ...
فیشن کی وہ اشیاء جو مرد و خواتین روز استعمال کرتے ہیں ،انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ملبوسات، ان کے لوازمات اور جوتے بعض اوقات بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کا گھر بن جاتے ہیں لیکن ہم ان کی طرف سے لاعلم رہتے ہیں۔بعض چیزیں جو سختی کے ساتھ ہمارے جسم کو کَس لیتی ہیں ، جن میں ٹائٹ جینز، بیلٹ وغیرہ شامل ہیں،ایسی چیزیں بھی دورانِ خون سے لے کر دماغی بیماریوں تک کا باعث بنتی ہیں۔

جو لوگ بیلٹ زیادہ کَس کے باندھتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے ان کی ٹانگوں میں درد ہو سکتا ہے حتیٰ کہ ان کی ٹانگیں سکتے کا شکار بھی ہوسکتی ہیں۔ اس سے نظام دورانِ خون متاثر ہوتا ہے۔ دماغی امراض کے ماہرین کہتے ہیں کہ بیلٹ سختی سے باندھنا دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے، اس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جو براہِ راست دماغ پربھی اثرانداز ہوتی ہے۔

بیلٹ کی طرح شرٹ کے کالر کا بٹن سختی سے بند کرنا یا کَس کر ٹائی پہننا بھی بہت خطرناک ہے۔ اگر آپ دفتر میں دوران کام آپ کے سرمیں درد ہو، کانوں میں آواز کی لرزش یا دھندلا دکھائی دے تو آپ کو جان لینا چاہیے کہ یہ سب آپ کے سخت کالر یا کَس کر پہنی گئی ٹائی کی وجہ سے ہے۔ فوری طور پر اپنے کالر اور ٹائی کی گرفت نرم کیجیے اور اسے ہمیشہ نرم ہی رکھیے۔

فاسٹ فیشن کے شوقین افراد کو بھی محتاط ہو جانا چاہیے کیونکہ گرین پیس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سستی ٹی شرٹس بھی صحت کے لیے مضر ہیں۔ انہوں نے دنیا کے 20بڑے ریٹیلرز کی 141شرٹس کا تجزیہ کیاجس سے انہیں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ان میں سے 66فیصد شرٹس میں این پی ایز نامی کیمیکل بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو انسانوں اور جانوروں میں ہارمونز میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ بعض میں ایسا کیمیکل موجود تھا جو کینسر کا باعث بنتا ہے۔

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ کھیلوں میں پہنے جانے والے یا روزانہ کی بنیاد پر پہنے جانے والے جوتوں میں ٹوائلٹ سے 75گنا زیادہ جراثیم ہوتے ہیںجو پیروں میں خطرناک قسم کے انفیکشن کا باعث بنتے ہیں ۔ ہمیں جوتوں کو مناسب ہوا دینی چاہیے اور کوشش کریں کہ اگر آپ کے پاس جوتوں کے دو جوڑے ہیں تو باری باری دونوں پہنیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس