دال کی بجائے مرغی کھائیں!

دال کی بجائے مرغی کھائیں!
 دال کی بجائے مرغی کھائیں!

  

ایوب خان کے زمانے کی بات ہے جب کہیں کہیں تندور وں پر ایک بورڈ پر لکھا ہوتا تھا: ’’روٹی ایک آنہ دال مفت‘‘۔ مزدوراور غریب لوگ صرف روٹیوں کے پیسے دیتے اور ساتھ انہیں چنے کی پکی ہوئی دال مفت مل جاتی۔ پھر ایسے ہوا کہ ایوب خان کے زمانے ہی میں چینی چار آنے مہنگی ہوگئی تو لوگوں نے احتجاج شروع کردیا جو اتنا بڑھاکہ وزیر تجارت عبدالغفور ہوتی کو استعفیٰ دینا پڑا۔ یہی احتجاج ایوب خان کے زوال کا آغاز بھی بنا۔بات دال سے شروع ہوکر چینی تک پہنچی ،واپس دال ہی کی بات کرتے ہیں۔ہمارے بہت ہی پیارے رہنما محترم اسحاق ڈار نے ہم غریب غربا کو مفت مشورہ عنایت کیا ہے کہ ’’دال اگر مہنگی ہے تو عوام مرغی کھائیں‘‘۔۔۔ اپنے راہنما کی ہدایت پر عمل کرنا ہم نے اپنا فرض جانا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کالم لکھنے والے اس خاکسار نے وطن عزیز میں اس پہلے فرد کا اعزاز حاصل کیا ہے، جس نے نیا راستہ دکھانے والے اپنے راہنما کی ہدایت پر من و عن عمل کیا ہے۔شایدکوئی اﷲکا نیک بندہ ہمارا کالم پڑھ کر گینز بک والوں کو اطلاع کردے یا اسحاق ڈار ہی ہمارا نام تمغہ حسن کارکردگی کے لئے تجویز کردیں۔ تفصیل ہماری ’’حسن کارکردگی‘‘ کی اس طرح ہے کہ جیسے ہی ہم نے اپنے ممدوح کے منہ سے پھول جھڑتے سنے یعنی ’’ اگر ماش کی دال دو سو بیس روپے فی کلوہوگئی ہے تو اس کی بجائے مرغی کھائیں، اﷲ اﷲ خیر سلا‘‘۔

ہماری موٹی عقل میں فوراً یہ بات آگئی کہ وزیر خزانہ کے خصوصی حکم کے باعث مرغی شاید پچاس روپے کلو ہوگئی ہے۔ہم جس سے مرغی خریدتے ہیں، بھاگے بھاگے اس کے پاس گئے کہ مرغی کے گوشت کاکیا بھاؤ ہے،بولا دوسو ستر روپے فی کلو، ہم نے اسے اسحاق ڈار کا ’’قول زریں‘‘ سنایا اور سوالیہ انداز میں کہا، کیا وزیر خزانہ کا گوشت سستا کرنے کا کوئی آرڈر نہیں آیا؟ بولا آپ وہ سامنے ’’تھڑے‘‘ پر تشریف رکھیں جس کے نیچے کتا سویا ہوا ہے، سرکاری اہلکار نقد سبسڈی کے ساتھ آتا ہی ہوگا، جیسے ہی وہ آئے گا، آپ کو آواز دے کر بلا لیں گے۔آدھ گھنٹہ انتظار کے باوجود جب کوئی نہ آیا تو ہم نے سمجھا کہ ہو نہ ہو ، اسحاق ڈار نے دیسی مرغی کی بات کی ہے۔ ہم دیسی مرغ فروش کے پاس گئے کہ کیا بھاؤ ہے، بولا زندہ آٹھ سو اور گوشت گیارہ سوروپے فی کلو۔ گئے ہم سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تھے اور واپسی رفتار ہماری ایک کلو میٹر فی گھنٹہ تھی ۔ہم اسی ادھیڑ بن میں چلے آرہے تھے کہ ہمارے لیڈر کی بات کا مطلب کیاہے کہ اچانک ہمیں ٹھوکر لگی اور ہمارا سر ایک پتھر سے جاٹکرایا۔ جس طرح ہیرو کی یادداشت اس قسم کی ٹھوکر سے جاتی ہے یاگئی ہوئی واپس آتی ہے، اسی طرح ہماری گئی ہوئی سمجھ واپس آگئی اور ہم زیر لب مسکراتے اور یہ سوچتے ہوئے واپس آگئے کہ اسحاق ڈار نے بڑی گہری بات کی ہے جو کہ کروڑوں میں سے ایک آدھ ہی کی سمجھ میں آتی ہے اور ماشا ء اﷲ وہ ’’ایک‘‘ ہم ہی ہیں اور ’’آدھ‘‘ کا بھی ظہور کبھی نہ کبھی ہو ہی جائے گا۔

ہم اگر روزہ نہ بھی رکھیں تو افطاری بڑے ’’خضوع و خشوح‘‘ سے کرتے ہیں، تاکہ کم از کم افطاری کے ثواب سے تو محروم نہ رہیں ۔ دوسرے دن یہ ’’خضوح وخشوح‘‘ کچھ زیادہ ہوگئی اور ہمیں نماز کے لئے مسجد جانے میں کچھ دیر ہوگئی ۔ مسجد جانے کے لئے نکلے تو اندھیرا ہوگیا اور سناٹا بھی ۔ ہمارے سامنے ایک بیوہ مائی رہتی ہے، جس نے کچھ دیسی مرغیاں پال رکھی ہیں،جن کے انڈے بیچ کر وہ گزارا کرتی ہے۔ نہ جانے کیسے اس کا ایک موٹا تازہ مرغا کہیں سے پھلانگتا ہوا ہمارے سامنے نمودار ہوا۔ ہم نے دائیں بائیں دیکھا تو کوئی نہ تھا۔ سر پر ڈھانپنے والے رومال سے مرغ کو ڈھانپا اور فوراً واپس ہوئے کہ بڑی ناشکری ہوگی کہ اگر ان قیمتی لمحات کو ضائع کیا گیا۔ نماز بھی موخر کردی کہ قضا پڑھ لیں گے۔ اﷲتعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔ اس کا شکر اداکیا، جس نے ہمیں ذہین و فطین وزیر خزانہ عطاء کیا اور ہمیں بھی اتنی سمجھ عطاء کی کہ اسحاق ڈار کے’’ قول زریں‘‘ میں چھپی رمزوں کو جان سکے۔ گھر آکر تکبیر پڑھ کر مرغ کو ذبح کیا۔ صاف کرکے بیگم کی خدمت اقدس میں پیش کیا کہ فوراً ہی چولہے پر چڑھا دیا جائے۔ بیگم نے بھاؤ پوچھتے ہوئے کہاکہ دیسی مرغ تو اچھا خاصا مہنگا ہوتا ہے۔ہم نے جوب دیا کہ بالکل مفت، دراصل یہ اسحاق ڈار نے تحفہ بھیجا ہے، انہوں نے ہمیں دال کھانے سے منع کر دیا ہے۔

صبح سویرے گلی میں شور سے آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ سامنے والی مائی پورے محلے سمیت ہمارے دروازے پر گولہ باری کررہی ہے۔ غلطی ہم ہی سے ہوئی کہ مرغ پکڑتے وقت دائیں بائیں تو دیکھا،لیکن اوپر نیچے نہیں دیکھا، کسی نے ہماری مخبری کردی۔بہرحال جیسے ہمارے رہنما ڈھیٹ ہیں، ویسے ہی ہم بھی، ان کے چیلے جو ہوئے۔ سینہ تان کر مائی کے سامنے آکر بولے۔ ہمارا ’’میڈیا ٹرائل‘‘ کیوں کررہی ہو، عدالت میں جاکر ثابت کروکہ ہم نے تمہارا مرغ چرایا ہے۔مخبری والا بابا بولا کہ میں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے تمہارے قبضے میں مائی کا مرغ دیکھا ہے۔ ہم بولے، اسی لئے بابا تمہاری آنکھیں گنہگار ہیں، پاک صاف ہوتیں تو دیکھتے وہ مرغ اسحاق ڈار کے دکھائے سیدھے راستے کے وسیلے سے ہمیں ملا ہے۔ تم لوگ براہ راست سیکرٹری خزانہ سے رجوع کرو، شاید وہ تمہاری ملاقات اسحاق ڈار سے کرادے، وہیں اپنا مقدمہ پیش کرنا۔ مائی بولی ، پتر تمہیں ایک بیوہ عورت کا مرغ ہضم کرتے شرم نہیں آئی۔ ہم بولے کہ شرم والی سب اخباری اور کاغذی باتیں ہیں۔ ہم جن لیڈروں کو ووٹ دیتے ہیں اور جو منتخب ہوکر ہمارے سر پر سوار ہو جاتے ہیں،وہ سب ’’شرم پروف‘‘ ہیں۔جو لوگ حاجیوں کو معاف نہ کریں، سر پر عمامہ باندھ کر ان کی رقوم کھا جائیں۔ زکوٰۃ اور فطرانے کی رقوم ان کی شراب نوشی اور عیاشیوں کی نذر ہوجائیں، جب ان کو شرم نہیں آتی تو ہم کو کیوں آئے جو ان کے پیچھے پیچھے بھیڑوں کی طرح چلتے ہیں۔ مائی جاتے ہوئے کہنے لگی کہ اچھا پتر، اس دنیا کی عدالت تمہارا اور تیرے لیڈروں کا کچھ نہیں کرے گی تو ایک عدالت اوپر تو ہے جہاں کوئی عینی شاہد اور گواہ مکر نہیں سکتا، وہیں تم لوگوں کا ’’اصل ٹرائل‘‘ ہوگا۔

مائی تو چلی گئی، لیکن پاک سرزمین پارٹی والوں کی طرح’’ضمیر صاحب‘‘ کو بھی ہلا گئی ۔ غور کیا کہ اسحاق ڈار نے جو کہا ہے، اسی طرح کا جملہ تاریخ میں دو شخصیات سے منسوب ہے۔ایک تو چودہ سو سال پہلے چین کا بادشاہ ہوا۔۔۔ جب اسے بتایا گیا کہ رعایا کے پاس کھانے کو چاول نہیں تو وہ بولا کہ’’یہ لوگ گوشت کیوں نہیں کھاتے‘‘۔عوام سے لاتعلق بادشاہ عوام ہی کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنا۔دوسری شخصیت آسٹریا کی شہزادی جو بعد میں فرانس کی ملکہ بنی،’’ملکہ میری انطونیا‘‘ جو فرانس کے بادشاہ لوئی چودہ کی بیوی تھی۔ ہیرے جواہرات کی شوقین، پُرتعیش اخراجات کے لئے سرکاری خزانے میں دخیل،غربت اور بھوک کے ستائے عوام جن میں زیادہ عورتیں تھیں، بادشاہ لوئی کے محل کے سامنے مظاہرہ کررہے تھے۔ ملکہ شور سن کر بالکونی میں آئی تو پاس کھڑے محافظوں سے پوچھاکہ یہ لوگ کیوں شور مچا رہے ہیں۔ قحط زدہ ملک کے محافظ نے ملکہ کو آگاہ کیاکہ ان لوگوں کو کھانے کے لئے روٹی نہیں مل رہی، یہ روٹی مانگ رہے ہیں۔غریب عوام اور ان کے مسائل سے بالکل لاتعلق ملکہ نے سادگی سے کہاکہ ’’اگر ان کو کھانے کو روٹی نہیں مل رہی تو یہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے، کیک کھائیں‘‘۔۔۔(بالکل عوام کے مسائل سے لاتعلق ہمارے محترم کی طرح کہ دال مہنگی ہے تو مرغی کھائیں)۔

عوام کے مسائل سے ناآشنابادشاہ اور ملکہ کا رویہ انقلاب فرانس کا محرک بنا۔ پہلے بادشاہ کا سر قلم کیا گیا اور16 اکتوبر1793 ء کو روٹی کی بجائے کیک کھانے کا مشورہ دینے والی ملکہ میری بھی عوام کے ہتھے چڑھ گئی ۔ صرف اڑتیس سال عمر رکھنے والی اس ملکہ کو سرعام پھانسی دے کر اس کا سر کاٹ کر الگ کردیا گیا اور پھر عوام کا ہجوم اس سر کو فٹ بال بنا کر گلیوں میں لئے پھرتا رہا۔انقلاب کے دوران اس ملکہ نے بھی ہیرے جواہرات سے بھرا ایک بیگ تیار کیا،تاکہ بھاگتے وقت ساتھ رکھا جائے۔ اس وقت نہ کوئی منی لانڈرنگ کی سہولت تھی ،نہ آف شور کمپنیوں کا مخمصہ۔راستے مسدود پاکر اس نے یہ بیگ برطانوی خاتون سفیرسدرلینڈ کو بطور امانت دیا۔ملکہ کی پھانسی کے بعد سدر لینڈ یہ بیگ برطانیہ لانے میں کامیاب ہوگئی ۔ ہیرے جواہرات اور قیمتی موتیوں سے بھرے اس بیگ میں سے صرف ایک گلوبند،جس میں ہیرے اور موتی جڑے ہوئے تھے، دسمبر 2007 ء کو لندن میں فروخت کے لئے نیلامی میں پیش کیا گیا جس کی بولی چھ کروڑچورانوے لاکھ ڈالرلگی ،چونکہ سرکاری بولی سات کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی، اس لئے یہ فروخت نہیں کیا گیا۔شاید ہمارے لیڈروں کو اس نیلامی کا علم نہیں ہوسکا،وگرنہ بعید نہیں تھا کہ آج اس گلوبند کے مالک آصف علی زرداری، ڈاکٹر عاصم ،مشتاق رئیسانی یا اسحاق ڈار ہوتے، بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔

حرف آخر۔۔۔ ہماری اپنے محترم اسحاق ڈار سے گزارش ہے کہ ہمارے کالم کے انقلاب فرانس والے حصے کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ اول تو یہ دو سو سال پرانی بات ہے، لوگ اونٹو ں اور گھوڑوں پر سفر کرتے تھے۔ بیرون ملک جائیدادیں اورکھربوں ڈالر والے اکاؤنٹ نہیں تھے۔ انقلاب فرانس کا محرک روسو، والٹیئر، مونٹیسکیواور ڈیڈوٹ جیسے دانشور تھے ۔ ہمارے پاس حبیب جالب تھے وہ اگلے جہان سدھار گئے، اب پیچھے ’’چھان بورا‘‘ ہی ہے۔اپوزیشن موجود ہے جس سے جناب مولانا ۔۔۔ کی وساطت سے مک مکا کیا جاسکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ کبھی اس بدقسمت قوم کا اجتماعی ضمیر جاگ گیااورکسی انقلاب نامی چیز کا خطرہ ہوا تو پھر بھی کاہے کی فکر، آپ کے پاس ذاتی جہاز ہیں، اڑن چھو ہوجائیں۔ آپ کے کاروبار، جائیداد، اولاد سب بیرون ملک محفوظ ہیں۔ ہماری فکر نہ کریں، جس نے آپ جیسے ہیروں کی قدر نہ کی۔ ہمارا اﷲمالک ہے۔ پہلے ہم نے پیپلز پارٹی کے سو جوتے کھائے، آج کل مسلم لیگ(ن) کے سو پیاز کھا رہے ہیں۔ کل مولانا طاہر القادری اور عمران خان جوتوں اور پیازوں پر مشتمل کوئی نئی ’’مکس پلیٹ‘‘ قوم کی خدمت میں پیش کریں گے، کیونکہ جو امیدیں عمران خان سے وابستہ تھیں، وہ فواد چودھری اور راجہ ریاض کے تحریک انصاف میں شامل ہونے سے دم توڑ گئی ہیں،جن لوگوں سے قوم جان چھڑانا چاہتی ہے،عمران خان ان کو اپنی گود میں بٹھا کر پھر قوم کے سر پر سوار کررہے ہیں، شاید یہی اصل ’’تبدیلی‘‘ ہے!!!

مزید :

کالم -