کشمیر پر مذاکرات۔۔۔ لیکن کیسے؟

کشمیر پر مذاکرات۔۔۔ لیکن کیسے؟

  

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے،لیکن وہ بھارت سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگ رہا مسئلہ کشمیر عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہئے، مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال توجہ طلب ہے مسئلے کے حل کے لئے بات چیت کی ضرورت ہے مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ تاہم اگر بھارت نے پیشگی شرائط کی رٹ جاری رکھی تو بات چیت آگے نہیں بڑھ سکے گی۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار ایک کشمیری جریدے کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتح کا جشن منانے والے کشمیریوں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے،ان کی رہائی ہونی چاہئے۔ نفیس زکریا نے کہا کہ رواں ہفتے مقبوضہ کشمیر میں درجنوں کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قابض افواج کی جانب سے مسلسل پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں کشمیری جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں بینائی سے محروم ہو چکے ہیں عالمی برادری کو اِس صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہئے۔ جمعرات کو بھی مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا، دو دن میں شہدا کی تعداد چھ تک پہنچ گئی ہے، بھارتی افواج تلاشی کے دوران مکانات کو بارود سے اڑا رہی ہیں جن سے جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ ہی بھارت کے ساتھ تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے اور اِس مقصد کے لئے کوششیں بھی کی ہیں،لیکن بھارت کا رویہ یہ ہے کہ ہمیشہ حیلوں بہانوں سے مذاکرات سے دامن چھڑانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے، جامع مذاکرات کا سلسلہ بھی اسی طرح ختم کر دیا گیا تھا جس کی بحالی کا بھارتی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں بیٹھ کر اعلان کیا،لیکن پھر بھی آج تک مذاکرات شروع نہیں ہو سکے، اِس دوران کئی عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک کو مذاکرات کے مشورے بھی دیئے اور بعض نے ثالثی کی پیشکش بھی کی،لیکن بھارتی رہنما اس لفظ سے اتنا بدکتے ہیں کہ جونہی کسی جانب سے یہ تجویز آتی ہے بغیر سوچے سمجھے اسے مسترد کر دیا جاتا ہے ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیسٹرس نے بھی اپنی خدمات پیش کی تھیں، بھارت نے یہ پیشکش بھی مسترد کر دی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو باہمی مذاکرات کرنے چاہئیں، لیکن باہمی مذاکرات اول تو ہوتے نہیں اور اگر ہو جائیں تو ان میں مسئلہ کشمیر پس منظر میں رکھا جاتا ہے۔ ایسے مذاکرات سے کیا حاصل؟

باہمی مذاکرات کا جہاں تک تعلق ہے بھارت کی جانب سے زبانی جمع خرچ تو بہت ہوتا ہے لیکن شملہ معاہدے کے بعد سے آج تک کئی عشروں پر محیط عرصے میں کشمیر پر باہمی مذاکرات کی نوبت بھی نہیں آئی، جامع مذاکرات کا سلسلہ جب شروع ہوتا ہے تو بھارت کشمیر پر مذاکرات یا تو شروع ہی نہیں ہونے دیتا اور چالاکی سے ملتوی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اگر شروع ہو جائیں تو اس موضوع کو جلد سے جلد سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسرے موضوعات پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ چالیس سال کے عرصے میں اس اہم ترین مسئلے پر حقیقی معنوں میں کبھی غور و خوض ہوا ہی نہیں اِس دوران کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ ہر اہم موقع پر کشمیری عوام یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کے دِل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان نے کرکٹ کی چیمپئنز ٹرافی جیتی تو کشمیریوں نے جشن منایا جن کو گرفتار کر کے حوالۂ زندان کر دیا گیا ہے، پاکستان کی فتح پر تو کشمیریوں کے علاوہ بھی کرکٹ کے شائقین خوش ہیں،جنہیں بڑے طویل عرصے کے بعد اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی، پاکستانی ٹیم کی اس کے کھیل کے حوالے سے تعریف تو دوسرے علاقوں میں بھی کی جا رہی ہے اور یہی سپورٹس مین سپرٹ کا اچھا مظاہرہ ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ کھیل کے جن شائقین نے اچھا میچ دیکھا وہ اس کی تعریف ہی کریں گے،لیکن ایسے لگتا ہے کہ بھارت کو کھیل کے حق میں شائقین کا یہ جذبہ بھی گوارا نہیں ہے اور وہ جشن منانے یا مسرت کے معمولی سے اظہار کے موقع کو بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں اور لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ غداری کے مقدمے بھی بنا رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کے کھیل کی تعریف تو بھارت کے ہارنے والے کپتان ویرات کوہلی نے بھی کر دی ہے کیا اب اُنہیں بھی جیل میں ڈالا جائے گا؟

مقبوضہ کشمیر کے حالات دُنیا کے رہنماؤں کی توجہ کے مستحق ہیں جو یہ تو کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں، لیکن جب تک اِس سلسلے میں اُن کا کوئی عملی کردار سامنے نہیں آتا مذاکرات کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ امریکہ نے بھی چند ہفتے قبل اِس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں،لیکن اگر ان کا انعقاد ہی ناممکن العمل ہو تو پھر آغاز کیسے ہو سکتا ہے؟ اقوامِ متحدہ کے ادارے کا تو بنیادی فرض ہی یہ ہے کہ وہ ممالک کے درمیان ایسے تنازعات طے کرائے جو کشیدگی یا جنگ کا باعث بن رہے ہوں، مسئلہ کشمیر تو اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر قدیم ترین حل طلب مسئلہ ہے اِس لئے اگر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں تو یہ ان کے فرائضِ منصبی کا عین تقاضا ہے، بھارت اگر عالمی ادارے کی ثالثی بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں، جہاں کشمیر کا مسئلہ اس کے پہلے وزیراعظم خود لے کر گئے تھے تو پھر آخر مذاکرات کے انعقاد کی کیا صورت پیدا ہو سکتی ہے؟

مقبوضہ کشمیر کے حالات عالمی برادری کی توجہ کے محتاج ہیں، ریاستی ظلم و ستم کا یہ سلسلہ بند کرانے کی فوری ضرورت ہے کشمیری عوام کی جدوجہد پُرامن ہے اور بھارتی آرمی چیف خود تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیری عوام اپنے مظاہروں میں زیادہ سے زیادہ پتھروں کا استعمال کرتے ہیں اب ایسے مظاہرین پر فائرنگ اور پیلٹ گنوں کا استعمال ظلم و ستم کی انتہا ہے جسے روکنے کے لئے عالمی طاقتوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -