اشیاء خوردنی میں زہر، فوڈ اتھارٹی کی کارروائی!

اشیاء خوردنی میں زہر، فوڈ اتھارٹی کی کارروائی!

  

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ناقص اور مضر صحت خوراک کے خلاف جو مہم شروع کی تھی اس کے تنائج بھی برآمد ہوئے اور بڑے شہروں میں ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کی دکانوں والے خبردار ہوئے تاہم شہری شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں۔گزشتہ دِنوں اتھارٹی کے ارکان نے غیر ملکی مشروبات کی جعلی بوتلیں بنانے والی فیکٹری پکڑی جہاں مضر صحت کیمیکلز سے اچھے برانڈ کے مشروبات کے نام سے جعلی بوتلیں بنائی جا رہی تھیں۔ اس سے قبل بڑے بڑے ہوٹل، اعلیٰ اور مہنگے ریستوران بھی زد میں آئے جن کے کچن اور برتن بھی صاف نہیں تھے۔ اتھارٹی کی طرف سے جرمانے کئے گئے اور بعض ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں کے کچن بھی سربمہر کر دیئے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے اتھارٹی کی طرف سے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا گیا کہ اس بار عید پر شہری بے خوف ہو کر مٹھائی کھائیں ان کو صحت مند اورخالص مٹھائی ملے گی۔ مراد یہ تھی کہ اتھارٹی کی طرف سے مٹھائی بنانے والوں کو خبردار کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ روز اِسی اتھارٹی کے گروپ نے راولپنڈی اور لاہور میں چھاپے مارے تو مٹھائی فروشوں کی مٹھائی تیار کرنے والی تین فیکٹریاں سربمہر کر دیں، راولپنڈی کی دو اور لاہور کی ایک فیکٹری سر بمہر کی گئی کہ یہاں مٹھائی میں کاکروچ اور کیڑے پائے گئے تھے اور صفائی کی حالت ابتر تھی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ان کاوشوں کو سراہا جانا چاہئے،لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ سب کارروائی چند بڑے شہروں میں ہو رہی ہے جو پنجاب میں ہیں کہ اتھارٹی پنجاب حکومت نے قائم کی ہے،لیکن اسی صوبے کے قصبے اور چھوٹے شہر ابھی تک زد میں نہیں آئے کہ زیادہ خرابی یہاں ہوتی ہے اور جعلی مال یہیں فروخت کر کے گاہکوں کو کھلایا جاتا ہے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ اس طرف بھی توجہ دی جائے گی، اتھارٹی کی کارکردگی کے پیش نظر یہ تجویز غیر مناسب نہیں کہ اس میں توسیع کی جائے، زیادہ فنڈز اور زیادہ افرادی قوت کے ساتھ ماہرین بھی دیئے جائیں۔ لیبارٹریوں کا قیام بھی ضروری ہے، بلکہ موبائل لیبارٹریاں بھی ہوں تو موقع پر نمونوں کی پڑتال ہو سکے گی، حکومت کو اس پر توجہ دینا چاہئے۔اتھارٹی کی مسلسل محنت سے جو مظاہر سامنے آئے ان سے ہر شہری کو دُکھ ہوا کہ ان کے ساتھ خود انہی کے بھائی بند کیا کر رہے ہیں اور لالچ کے باعث کس قدر خوفناک بیماریاں بانٹ رہے ہیں حتیٰ کہ کینسر کے بڑھتے ہوئے مریضوں کے پس پردہ ناقص اور ملاوٹ والی خوراک اور اشیاء خوردنی بھی ہیں یہ بھی ضروری ہے کہ فوڈ ایکٹ میں ترامیم کر کے سزاؤں کو بڑھایا جائے کہ سخت سزائیں بھی خرابی دور کرنے میں ممد ہو سکتی ہیں۔

مزید :

اداریہ -