دورِ طالب علمی اور ملازمت کی آشنائیاں (1)

دورِ طالب علمی اور ملازمت کی آشنائیاں (1)
 دورِ طالب علمی اور ملازمت کی آشنائیاں (1)

  

یہ میری خوش قسمتی تھی کہ پنجاب یونیورسٹی تک پہنچنے کا موقع ملا۔ پنجاب یونیورسٹی 70 کی دہائی میں پاکستان میں نمبر ون پوزیشن کی حامل تھی لہٰذا یہاں تین چار سال کا قیام آئندہ زندگی کی بنیاد بنا۔ اُس وقت پشاور اور رحیم یار خان تک کے لوگ ادھر ہی کا رُخ کرتے تھے لہٰذا ذہنی اُفق میں وسعت پیدا ہوئی اور وہیں کے تعلقات آج تک زندگی کے سفر میں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ پھر یہیں سے پی ٹی وی کے ساتھ طویل رفاقت کا آغاز ہوا۔

ہوا یوں کہ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاست میں ایم اے کر لیا۔ اِس دوران جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے کئی لوگوں سے میری دوستی ہو گئی۔ انہوں نے مجھ پر زور دیا کہ جب تک مجھے جاب نہیں ملتا جرنلزم میں داخلہ لے لوں اور اس طرح مصروفیت بھی رہے گی اور ہوسٹل میں قیام بھی، مجھے یہ آئیڈیا پسند آیا اور یوں میرے مستقبل کا رُخ صحافت کی طرف مڑ گیا۔ایم اے جرنلزم کے دوران جاب کیلئے پی ٹی وی کو ایک درخواست دے دی۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے لاہور سنٹر میں انٹرویو کیلئے بلا لیا۔ پی ٹی وی کے کنٹرولر نیوز مصلح الدین (بعد میں ڈائریکٹر بنے اور دوران ملازمت اُن کا انتقال ہو گیا) نے انٹرویو کیا اور کچھ دنوں بعدٹرینی نیوز پروڈیوسرکی جاب کی آفر آ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ چھوڑنے سے پہلے ہمارے ایک ٹیچر اور مہربان وارث میر ایک دن مجھے کہنے لگے کہ آپ ایم اے جرنلزم کی ڈگری ضرور حاصل کریں۔ یہ آپ کے کام آئے گی میں نے کہا میر صاحب امتحان میں ابھی چھ ماہ باقی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہو گا۔ انہوں نے صورتحال کا حل بتایا اور عملی مدد بھی کی اور اس طرح میں نے دوران سروس ایم اے کا امتحان دیا اور ڈگری حاصل کر لی۔ میر صاحب میرے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔ ایک دفعہ میں لاہور سے اسلام آباد آ رہا تھا فضل الرحمن ملک (سابق سیکرٹری انفارمیشن اورایم ڈی شالیمار ریکارنگ کمپنی) بھی میرے ساتھ تھے، میر صاحب بھی ساتھ چل پڑے۔ گوجرانوالہ میں میری کار میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی جو گھنٹے ڈیڑھ میں ٹھیک کر لی گئی لیکن میر صاحب بددل ہو گئے اور یہاں سے واپس چلے گئے بعد میں ایک دفعہ اسلام آباد آئے تو ہمارے کنٹرولر مصلح الدین سے ملے اور جاتے ہوئے مجھے ساتھ لے جانے کی فرمائش کی۔ جولائی 1987ء کو میں اپنی فیملی کے ساتھ برطانیہ پہنچا، وہیں میں نے جنگ اخبار میں میر صاحب کی وفات کی خبر پڑھی۔

جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں اوروں کے علاوہ یوسف رضا گیلانی (سابق وزیراعظم) میاں ثناء اللہ ، فوزیہ ثناء، عطیہ محمود، مخدوم صدیق اکبر، احسان قادر ہاشمی، صالح ظافر اور ڈاکٹر مجاہد منصوری میرے کلاس فیلو تھے۔ شاہین فاروق پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ایک سال سینئر تھے،جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ بھی ایک سال آگے پیچھے تھے۔ ڈاکٹر قیصر عباس رضوی، (امریکہ) اور سید جاوید علی غالباً دو سال سینئر تھے، انور شہزاد، قمر محی الدین، اشرف تنویر اور سلطان احمد خان (سلطان سرخا) تین سال سینئر تھے، میاں ثناء اللہ، فوزیہ اور عطیہ محمود فارن سروس میں آ گئے اور اب ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں، سلیم بھٹی (سابق آئی جی موٹروے پولیس اور ممبر وزیراعظم انسپکشن کمیشن) حسن نواز تارڑ سابق وفاقی سیکرٹری اور شعیب بن عزیز(پریس سیکرٹری ٹو چیف منسٹر پنجاب) جرنلزم میں میرے جونیئر تھے۔ اُن دنوں ڈاکٹر عبدالسلام خورشید صدر شعبہ تھے دوسرے اساتذہ میں ڈاکٹر مسکین علی حجازی ، وارث میر، شفیق جالندھری ، اے آر خالد اور مہدی حسن شامل تھے۔

اس سے پہلے پولیٹیکل سائنس میں اختر بلند رانا (سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان) شوکت نواز طاہر (سابق ایڈیشنل سیکرٹری) سرور منیر راؤ (سابق ڈائریکٹر نیوز پی ٹی وی) چوہدری یعقوب (سابق آئی جی پولیس) ملک اعجاز (سابق ڈی آئی جی پولیس) ملک غلام رسول (سابق ایڈیشنل کمشنر انکم ٹیکس) خالد صدیقی (سابق ممبر انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل) ڈاکٹر رسول بخش رئیس (پروفیسرلمز) چوہدری تصدق حسین (سابق ڈی آئی جی پولیس) قاضی آفاق حسین (ممبر سروسز ٹریبونل اور سابق وفاقی سیکرٹری) اور خوشنود لاشاری سابق پرنسل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر میرے کلاس فیلو تھے۔ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین اور بعد میں وائس چانسلر ڈاکٹر منیر الدین چغتائی سے میرے فیملی ریلیشنز تھے۔ میں زیادہ عرصہ ہوسٹل نمبر 7 میں رہا، جہاں اکرم شہیدی (سابق سیکرٹری اطلاعات) نعیم خان (سابق ڈائریکٹر آئی ایس آئی) پرویز راٹھور (چیئرمین وزیراعظم معائنہ کمیشن اور سابق آئی جی پولیس) منور عباس شاہ (سابق سیپشل سیکرٹری قومی اسمبلی) حاجی احمد (ہیڈ آف ٹیکس محتسب آفس فیصل آباد) سلطان احمد خان (وکیل) اور رانا فاروق (سابق وفاقی وزیر) میرے ساتھ تھے۔ بعد میں میں ہوسٹل نمبر 1 میں منتقل ہو گیا جہاں چوہدری شفیق (سابق ایڈیشنل سیشن جج) رؤف چوہدری (فیڈرل ٹیکس محتسب) اور میکن برادران سے ملاقات رہی۔

پی ٹی وی میں پہلی پوسٹنگ راولپنڈی میں ہوئی لہٰذا لاہور اور پنجاب یونیورسٹی چھوڑنا پڑی۔ پی ٹی وی چکلالہ میں ایک فوجی بیرک میں قائم تھا۔ اس کے سامنے والی بلڈنگ جس میں اب جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین بیٹھتے ہیں ، وزارت اطلاعات کا ریسرچ اینڈ ریفرنس سیکشن تھا۔ میری وہاں انفارمیشن سروس کے افسروں ملک فضل الرحمن اور اقبال سکندر (صدر حلقہ ارباب ذوق پشاور) سے گپ شپ رہتی تھی جو دوستی کی بنیاد بنی۔ 2 فروری 1976ء کو پی ٹی وی میں رپورٹ کیا تو پتہ چلا کہ ہم 9 پروڈیوسروں کے بیج کا حصہ ہیں میرے ساتھ شاہین فاروق، خالد وڑائچ، محمد سلیم، شاہدہ نسرین، ثمینہ ملک، جاوید علی ، قمر محی الدین اور ایم اے سہیل نے بھی جائن کیا۔ پورے بیچ میں دو کے سوا باقی سب نے پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹر کیا ہوا تھا۔ ایم اے سہیل نے قائداعظم یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کیا تھا اور خالد وڑائچ گریجوایٹ تھے۔ ہم سب نے تقریباً چھ ماہ آن دی جاب تربیت حاصل کی، اُس کے بعد لاہور سے تعلق رکھنے والوں کوجن میں شاہین فاروق ، ثمینہ ملک، شاہدہ نسرین اور محمد سلیم شامل تھے لاہور ٹرانسفر کر دیا گیا، اسلام آباد راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے یہیں رہے البتہ مجھے اور قمر محی الدین کو کراچی ٹرانسفر کر دیا گیا۔ بھرتی کے اس عمل کے لئے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا اور پورے بیج کا تعلق پنجاب سے تھا۔ جاوید علی اگرچہ خالص پنجابی تو نہیں لیکن وہ بھی راولپنڈی میں سیٹل تھے۔ کوئی پٹھان ، بلوچ اور سندھی شامل نہیں تھا۔

شاہین فاروق کا تعلق لاہور سے ہے انہیں 1988ء میں فیصل آباد بیورو ٹرانسفر کر دیا گیا وہاں سے دو سال بعد وہ واپس لاہور آ گئے لیکن 1997ء میں اُن کا تبادلہ کوئٹہ ہو گیا۔ اس تبادلے کا تعلق ایک مخصوص واقعے سے تھا۔ وزیراعظم نوازشریف کی ایک فلم سنٹر پر آئی جسے شاہین فاروق اور انوار غوری نے ایڈٹ کیا۔ ایڈیٹنگ کے دوران کیمرہ مین اورنگزیب آ پہنچے انہوں نے فلم میں کچھ مخصوص شارٹ لگانے کا کہا۔ انہوں نے ہی یہ فلم شوٹ کی تھی۔ شاہین فاروق صاحب نے پوچھا کہ یہ کس کی ہدایت ہے، کیمرہ مین نے یہ بتانے سے انکار کر دیا لہٰذا وہ شارٹ نہیں لگائے گئے۔ اسلام آباد جاتے ہوئے اورنگزیب نے جہاز میں ہی وزیراعظم سے ان کی شکایت کر دی اور اگلے دن دونوں کا کوئٹہ ٹرانسفر کر دیا گیا۔ فاروق شاہین صاحب تقریباً اڑھائی سال کوئٹہ رہے اور وہیں انہیں نیوز ایڈیٹر کا چارج مل گیا۔ کوئٹہ سے وہ پھر لاہور آ گئے لیکن 2007ء میں اُن کا تبادلہ اسلام آباد کر دیا گیا۔ دو سال کے بعد وہ پھر واپس لاہور پہنچ گئے اور وہیں سینئر نیوز ایڈیٹر کے طور پر ریٹائر ہو گئے۔ شاہین فاروق صاحب ایک سلجھے ہوئے اور متوازن شخصیت کے مالک ہیں مطالعے کااعلیٰ ذوق رکھتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ انہیں باہر جانے کا بھی مناسب موقع ملا۔ اُن کی اہلیہ ثمینہ ملک بھی ہمارے ساتھ تھیں ، ثمینہ ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے ایک قدآور خاتون تھیں لیکن افسوس کہ 1984ء میں وہ کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔ شاہدہ نسرین جو اب شاہدہ احمد ہیں نے بھی جرنلزم میں ماسٹر کیا ہوا تھاوہ بھی ایک باصلاحیت خاتون تھیں لیکن وہ چھ سات سال بعد پی ٹی وی چھوڑ کر امریکہ چلی گئیں۔ (جاری ہے)

خالد وڑائچ نے پورے کیریئر میں کبھی مین سٹریم میں کام نہیں کیا۔ وہ زیادہ وقت ریفرنس سیکشن کے انچارج رہے ، لیکن ایک دفعہ سیکشن کے تمام ملازمین نے ان کی تحریری شکایت کر دی اس پر ڈائریکٹر نیوز سرور منیر راؤ نے انہیں ’’سزا‘‘ کے طور پر کنٹرولر رپورٹنگ لگا دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ انہیں کوئی پروفیشنل اسائمنٹ ملی۔ سرور منیر راؤ کو عہدے سے ہٹایا گیا تو مجھے ڈائریکٹر نیوز لگا دیا گیا اور وڑائچ صاحب کو نظرانداز کر دیا گیا اس پر انہوں نے میری ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے پہلے ہائیکورٹ میں ایک رٹ بھی دائر کی تھی تاہم میرے بعد جاوید علی کو چارج دیا گیا پانچ ماہ بعد وہ ریٹائر ہوئے تو خالد وڑائچ ڈائریکٹر نیوز بن گئے۔ جاوید علی صاحب پانچ ماہ قائم مقائم ڈائریکٹر نیوز رہے تاہم اُن کی کنفرمیشن نہیں ہو سکی۔ جاوید علی صاحب کا سٹرانگ پوائنٹ اگرچہ سپورٹس تھا لیکن پھر انہوں نے ہر فیلڈ میں اپنے جوہر دکھائے۔ وہ علم و ادب کا بڑا اچھا ذوق رکھتے ہیں دھیمی طبیعت کے مالک جاوید علی صاحب نے دفتر کی اندرونی سیاست میں اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیلے اور اس کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ ہمارے پورے بیج میں وہ شاید واحد آدمی ہیں جن کی کبھی ٹرانسفر نہیں ہوئی۔ ایم اے سہیل چند سال بعد ہی اعلیٰ تعلیم کے لئے پی ٹی وی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے پھر ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ قمر محی الدین یونیورسٹی کے زمانے سے ہی میرے قریبی دوست تھے۔ لیکن زندگی کے نشیب و فراز اور کھینچا تانی میں توازن قائم نہ رکھ سکے اور مفادات کی تلاش میں دوسری طرف نکل گئے وہ میرے ساتھ ہی کراچی اور پھر کوئٹہ ٹرانسفر ہوئے پھر وہ مظفرآباد بیورو میں چلے گئے وہاں ان پر مذہب کا شدید غلبہ ہو گیا ۔ واپسی پر کافی عرصہ نیشنل نیوز بیورومیں کام کیا اور سینئر نیوز ایڈیٹر بن کر ریٹائر ہو گئے آجکل اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔ محمد سلیم لاہور سے فیصل آباد بیورو گئے وہاں سے مظفرآباد بیورو چلے گئے اور پھر پشاور سنٹر میں طویل عرصہ گزار کر وہیں سنیئر نیوز ایڈیٹر بن کر ریٹائر ہو گئے وہ مین سٹریم میں کبھی نہیں آئے۔ پشاور میں یونین کی ایک خبر دینے پر اُن کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا تھا لیکن پھر بحال ہو گئے ، آجکل لاہور میں ہیں۔

اسلام آباد راولپنڈی سنٹر پر ہماری آن دی جاب ٹریننگ شروع ہو گئی اس دوران ہمارا تعارف ڈائریکٹر نیوز سید زبیر علی سے کرایا گیا۔ انہوں نے جرنلزم کے کچھ عمومی اصول بتائے اورکہا کہ آپ کا جنرل نالج وسیع ہونا چاہئے کہنے لگے کہ مثال کے طور پر آپ نے باہر سے آنے والے ایک Entomologist کا انٹرویو کرنا ہے تو یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ اس موضوع کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہوں، یہاں انہوں نے براہ راست سوال کر دیا کہ بتائیں Entomology کیا ہوتی ہے۔ شرکاء پر خاموشی طاری ہو گئی، میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور بتایا کہ Entomology is Science of Insects ۔ بہت خوش ہوئے انہی دنوں ذوالفقار علی بھٹو نے آئین میں عدلیہ سے متعلق شقوں میں ترمیم کی تھی ، انہوں نے شاہین فاروق صاحب سے پوچھا کہ اس ترمیم کی کچھ تفصیل بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات محدود کئے گئے ہیں جواب شاید صحیح تھا لیکن زبیر علی صاحب کو حاکم وقت کے خلاف بات پسند نہیں آئی انہوں نے کہا کہ آپ پروپیگنڈے کا شکار ہوئے ہیں۔

ٹریننگ کے دوران میرا اور قمر محی الدین کا تبادلہ کراچی کر دیاگیا جس کا کوئی جواز مجھے سمجھ نہیں آیا۔ شاید ہمارا قصور یہی ہو کہ ہمارا تعلق اسلام آباد یا لاہور سے نہیں بلکہ چھوٹی جگہوں سے تھا۔ بہرحال کراچی جا کر کافی مسائل سے واسطہ پڑا کیونکہ تنخواہ ساڑھے چھ سو تھی، تاہم بہت کچھ سیکھا بھی۔ کراچی سنٹر پر اُس وقت پروڈیوسرز کا جھرمٹ تھا، شاید آج تک وہاں ایک وقت میں اتنے لوگ اکٹھے نہیں ہوئے حالانکہ وقت کے ساتھ کام کئی گنا بڑھ گیا ہے شاہدہ مرزا نیوز ایڈیٹر تھیں بعد میں وہ پی ٹی وی چھوڑ کر کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغیات سے منسلک ہو گئی تھیں۔ پروڈیوسروں میں میرے علاوہ قمر محی الدین، طارق فتح، نجم الحسن جعفر بلگرامی، نقی عباس، عزیز ناریجو، تنویر احمد، نذیر چنّا، عبدالحمید، قیصر عباس اور شمیم الرحمن شامل تھے۔ طارق فتح کراچی یونیورسٹی میں لیفٹ کے سٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ ہم لوگ کوئٹہ ٹرانسفر ہو گئے تو ایک دفعہ وہ بیگم کے ہمراہ کوئٹہ بھی ملنے آئے تھے۔ وہ پی ٹی وی چھوڑ کر کینیڈا شفٹ ہو گئے اور ٹورنٹو کی صحافتی اور سوشل لائف میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہاں وہ ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں بھی حصہ لیتے رہے ، کئی کتابیں لکھیں، آجکل وہ زی ٹی وی پر ’’فتح کا فتویٰ‘‘ کے نام سے پروگرام کر رہے ہیں اور اسلام اور پاکستان کے بارے میں اپنے منفی خیالات کی وجہ سے کافی Controversial ہو چکے ہیں۔ نجم الحسن پی ٹی وی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے ،وہاں ٹی وی پروگرام کرتے رہے آجکل ٹورنٹو میں ہیں۔1987 ء میں میں امریکہ گیا تو اُن کے پاس قیام رہا، عزیز ناریجو بھی سروس چھوڑ کر امریکہ چلے گئے آجکل ٹیکساس کے ایک شہر Christie میں قیام پذیر ہیں وہ درمیان میں پاکستان آئے تھے اور انہوں نے اسلام آباد سے شام کا انگریزی اخبار ’’دی کرانیکل‘‘ نکالا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے اور پھر واپس چلے گئے۔ قیصر عباس بھی امریکہ چلے گئے اور آجکل بھی وہیں ہیں۔ نقی عباس صاحب واشنگٹن ڈی سی میں قیام پذیر ہیں۔ ہمارے ایک اور سینئر رضی احمد رضوی واشنگٹن ڈی سی میں وائس آف امریکہ کی اُردو سروس کے ایم ڈی ہیں۔ جعفر بلگرامی صاحب نے کنٹرولر کی پوسٹ سے استعفیٰ دے دیا اور وزیراعظم شوکت عزیز کے میڈیا ایڈوائزر بن گئے۔ آجکل بنکاک میں ہیں جہاں اُن کی بیگم یو این ڈی پی کی کنٹری ہیڈ ہیں۔ تنویر احمد صاحب مارننگ نیوز کے ایڈیٹر رہے اور پھر ڈان میں اسسٹنٹ ایڈیٹر آجکل ریٹائر ڈلائف بسر کر رہے ہیں۔ نذیر چنّا ایک سندھی کامریڈ تھے وہ مہینے کے آخر میں صرف تنخواہ لینے آتے تھے بعد میں اُن کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ عبدالحمید صاحب نے بھی پی ٹی وی چھوڑ کر بزنس کر لیا تھا۔ شمیم الرحمن پی ٹی وی چھوڑ کر ڈان میں چلے گئے تھے وہیں اُن کا انتقال ہو گیا۔

زبیر الدین، ماہرہ شفیع، معراج الدین ، نسرین پرویز اُردو خبریں پڑھتی تھیں(نسرین پرویز بعد میں الیکشن کمیشن میں ملازمت کرتی رہیں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔) انگریزی خبروں میں چشتی مجاہداور نعیم سلطان نمایاں نام تھے ۔ زمان خان اور مصّور علی خان نائب قاصد تھے جو نیوز روم کا ناگزیر حصہ تھے۔

یہ بات تو طے ہے کہ کراچی والے چائے کے رسیا ہوتے ہیں ویسے اب تو پنجابی بھی اِس معاملے میں پیچھے نہیں رہے ۔ پروڈیوسرز میں سے جو بھی نیوز روم پہنچتا تھا آتے ہی چائے اور پان کا آرڈر دے دیتا تھا لہٰذا یہ عمل سارا دن جاری رہتا تھا۔ نیوز روم فرسٹ فلور پر تھا اور کینٹین وہاں سے کافی فاصلے پر گراؤنڈ فلور پر تھی۔ نائب قاصد زمان اگرچہ مضبوط جسم کا پٹھان تھا لیکن ایک دن عاجز آ کر کہنے لگا کہ سر چائے ڈھوتے ڈھوتے میری تو ٹانگیں جواب دے گئی ہیں۔ جہاں اتنے لوگ اور پھر مختلف بیگ گراؤنڈ کے حامل افراد کام کرتے ہوں وہاں آپس میں چپقلش بھی ماحول کا لازمی حصہ ہوتی ہے لہٰذا یہ عنصر یہاں بھی تھا، مثلاً عبدالحمید کی تنویر صاحب اور سلطان قمر صاحب (ایک وقت میں وہاں نیوزایڈیٹر رہے) سے نہیں بنتی تھی ۔ ایک دن عبدالحمید صاحب نے گھر پر ہم سب لوگوں کی دعوت کی تو کھانے میں بھی شاید کچھ کمی رہ گئی تھی پھر آپس کی ناچاقی سلطان قمر صاحب نے اس پس منظر میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بڑے معنی خیز انداز میں کیا ، کہنے لگے کہ کھانا تو بہت اچھا تھا پر بھوک نہ تھی۔

پس تحریر : 30مئی کو چھپنے والے کالم میں یہ صحیح نہیں لکھا گیا کہ شمائلہ جعفری کے علاوہ کوئی رپورٹر کشمیر میں زلزلے کی کوریج کرنے کیلئے نہیں گیا ، شازیہ سکندر زلزلے کے دوسرے دن فوجی ہیلی کاپٹر میں مظفرآباد گئی تھیں اور اُن کے ساتھ ہی واپس آ گئیں۔ اِس غلطی کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔

مزید :

کالم -