عید کولیکشن

عید کولیکشن
 عید کولیکشن

  

عید کی آمد آمد ہے۔ بازاروں میں خوب رونق ہے۔ہر سٹور پر نت نئی اور رنگ برنگی چیزیں موجود ہیں۔ ایسی چیزیں جو خصوصاً عید کے لئے بنوائی یا منگوائی گئی ہیں یا وہ پرانی چیزیں جنہیں عید کے حوالے سے سجا سنورا کر ایک نئی شکل دے کر رکھ دیا گیا ہے۔ ان چیزوں کو خصوصی طور پر عید کولیکشن کا نام دیا گیا ہے۔پچھلے چند برسوں سے لوگوں میں یکا یک برانڈ ناموں کا شوق ابھر آیا ہے۔ ہر ملبوس برانڈڈ، ہر جوتا برانڈڈ، ہر سٹور برانڈڈ۔ جہاں کسی برانڈ کا لیبل لگا نظر نہ آئے، لوگ اس طرف دیکھتے ہی نہیں۔سب کو پتہ ہے کہ برانڈڈ چیزیں مہنگی ہوتی ہیں اور عید کولیکشن تو پھر بڑی نایاب چیز ہے۔ سال بھر میں فقط ایک مہینہ، اس لئے لوگ دیوانہ وار ٹوٹ پڑتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ دکاندار سارے سال کی کسر نکال لے گا۔ دکاندار اپنی جگہ خوش ۔ اور خوش کیوں نہ ہوں۔ جب بکرا گردن کٹوانے کے لئے خود اپنی گردن قصاب کو پیش کر دے تو قصاب خوش ہی نہیں، خود کو بہت آسودہ محسوس کرے گا۔مَیں نے لوٹنے والوں کو ہی نہیں،لٹنے والوں کو بھی بہت خوش دیکھا ہے۔بڑی آسانی سے اپنی چیز کے بارے کہتے ہیں کہ برانڈڈ ہے اور بہت مہنگی ہے، گویا اب مہنگی برانڈڈ چیز پاس ہونا باعث فخر اورسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ سکول بھی اب برانڈڈ ہی چلتے ہیں۔ جتنا مرضی اچھا سکول ہو، بہترین اساتذہ ہوں، مگر برانڈ نام نہیں تو کوئی دیکھتا بھی نہیں۔ اصلی سکول کی ساکھ کا فائدہ اٹھا کر بہت سے نا اہل بھی فراواں رزق کما اور کھا رہے ہیں۔اچھے استاد مہنگے ہوتے ہیں، انہیں زیادہ پیسے دینے کی بجائے نسبتاً بہت کم پیسے فرنچائز والوں کو دے دیں۔کسی مشہور سکول کے نام پر آپ کا پھیکا پکوان سکول بہت اچھا چلے گا۔ اچھی اور بری تعلیم میں فرق کرنا لوگوں کو نہیں آتا۔ انہیں تعلیم ہی کا شعور نہیں ،اچھی بری تو بہت بعد کی بات ہے۔وہ فقط چمک دمک دیکھتے ہیں اور ہمارے پرائیویٹ فرنچائزد سکول اس معاملے میں تو کسی سے کم نہیں۔

مزے کی بات کہ اب ریسٹورنٹ بھی برانڈڈ ہی زیادہ چلتے ہیں۔ ہر اچھے ریسٹورنٹ کی شہر میں بیس بیس شاخیں نظر آتی ہیں۔ایک اصل باقی فرنچائز۔ اصلی مالک کا فرنچائز سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ،سوائے اس کے کہ وہ اپنا نام استعمال کرنے کا معقول معاوضہ وصول کر لیتا ہے۔اصلی ریسٹورنٹ کی کوالٹی کے نام پر لوگ کھوتا بھی کھانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔برانڈ کی کشش ہی بہت کمال ہے۔رمضان میں سارے ریسٹورنٹس والے بھی پوری تیاری میں ہیں ۔عید کے چار پانچ دن ان کی نئے نئے کھانوں کی عید کولیکشن بھی کیا خوب رنگ جمائے گی۔لوگوں نے کھابوں کے نام پر بھی خود کو لٹانا تو ہے۔ سرکاری محکمے بھی عید کولیکشن میں کسی سے کم نہیں۔ٹریفک پولیس کے اہلکار تو ہر سڑک پر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہیں کسی نے یہ بھی نہیں سکھایا کہ عیدی وصول کرو، مگر خلق خدا کے لئے مشکلات پیدا نہ کرو۔ یہ دلیری کے ساتھ چوک ہی میں عید کولیکشن میں مصروف ہوتے ہیں۔ موڑ پر بڑی بڑی گاڑیاں روک کر عیدی وصول کر رہے ہوتے ہیں۔ موڑ مڑنے والا بچا سکتا ہے تو اس کی ہمت۔ٹریفک کنٹرول کرنے کا انہیں سلیقہ ہی نہیں۔ سفاری پارک سے رائے ونڈ کو ملانے والی سڑک چالیس فٹ کے ٹرالر سے روز بلاک ہوتی ہے۔ لوگ ہارن دیتے رہیں۔ یہ پیسے وصول کرنے کے بعد ہی راستہ دیتے ہیں۔ کوئی شور مچائے زیادہ ہارن بازی کرے تو ذرہ پیچھے ہوکرگزرنے کا کہتے ہیں۔ کون سا چوک ہے جہاں کونوں میں یہ عید کولیکشن میں مصروف نہیں ہوتے۔ انہیں جلدی اس لئے بھی ہے کہ کہیں وزیراعلیٰ آخری ہفتے میں چالانوں پر پابندی نہ لگا دیں۔ رہے اپنے افسر تو یہ جو ہر ٹریفک وارڈن صبح سے لے کر رات گئے تک چالانوں سے بڑی جرأت سے کھیلتا ہے، اسی وقت ممکن ہے جب عید کولیکشن میں ٹریفک کے تمام بڑے افسر بشمول ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور دیگر پوری طرح شامل ہوں۔

حال ہی میں وزیراعلیٰ نے فرمایا کہ پٹواریوں سے حرام کا پیسہ ان کا پیٹ پھاڑ کر واپس لوں گا۔ پتہ نہیں یہ کیسے ممکن ہے۔ ہر پٹواری کسی نہ کسی سیاسی لیڈر کا پروردہ ہے اور اسی کے زور پر اس کی تعیناتی ہوئی ہے۔ پٹواری اس سیاسی شخص کے گھر کا خرچہ بھی چلاتا ہے۔ وزیراعلیٰ اس سیاسی شخص کے پیٹ کے بارے سوچیں۔ اورنج ٹرین اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر علاقہ پٹواریوں نے جس طرح لوگوں کو لوٹا،وہ بیان سے باہر ہے۔ عید سے پہلے آج کل پٹواری سے فرد ملکیت حاصل کرنے کا ریٹ عام دنوں سے تین گنا ہے۔ پٹواری کہتے ہیں کہ کیا کریں، ریونیو کا تمام عملہ، چاہے اس کا تعلق کمشنر اور اس کے ماتحت دفتروں سے ہو یا بورڈ آف ریونیو سے،ہر اہلکار کو عیدی درکار ہے اور پٹواری ان کے لئے عید کولیکشن کا آسان ذریعہ۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ پٹواری عید کولیکشن کے ان دنوں میں بعض فرد ملکیت کے اجرا کا لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ آپ زمین کتنے کی بیچ رہے ہیں،اسی حساب سے کچھ فیصد وہ وصول کرے گا۔ شکایت کے لئے کس سے رجوع کیا جائے۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفتروں سے افسر اور عملہ سبھی رمضان بازاروں کے نام پر غائب۔ وہ بھی شاید کہیں عید کولیکشن میں ہی مصروف ہیں۔ آدمی کس کس محکمے اور ادارے کی بات کرے ، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔کسٹم والوں کی کارکردگی سے سبھی واقف ہیں۔ آج کل وہ بھی سڑکوں پر عید کولیکشن میں موجود ہیں۔ ہر ٹرک چیک ہو رہا ہے کہ کہیں کوئی سمگلڈ چیز تو نہیں ۔ ہر ٹرک سے تین چار سو روپے نکل آتے ہیں یا پھر مضر صحت گوشت۔مضر صحت نہ ہوتا تو ان کے گھروں میں پہنچ جاتا۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ سمگلنگ تم نے سرحدوں پر روکنی ہے یا شاہدرے اور ملتان روڈ پر ہر ٹرک سے وصولی کر کے۔ مگر پوچھیں کیوں ، عید کولیکشن ہے ۔ اپنا حصہ وصول کرنا بھی تو بہت ضروری ہے۔ عید تو اچھی گزارنی ہے برانڈڈ چیزوں کے ساتھ۔

مزید :

کالم -