قومی کرکٹ ٹیم کی تاریخی فتح اور نجم سیٹھی

قومی کرکٹ ٹیم کی تاریخی فتح اور نجم سیٹھی
 قومی کرکٹ ٹیم کی تاریخی فتح اور نجم سیٹھی

  



گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک عظیم دن آیا جب پہلی بار پاکستان چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو عبرتناک شکست دے کر فائنل جیتنے میں کامیاب رہا، یہ فتح اتنی واضح تھی کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے کرکٹ شائقین نے اس کو سراہا اور خوب داد دی۔ ملک میں جشن منایا گیا اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور اس سلسلہ میں آرمی سربراہ نے ٹیم کو عمرہ کروانے کا اعلان کیا جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہر کھلاڑی کے لئے ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا، پرائیوٹ اداروں نے بھی کھلاڑیوں کے لئے بھاری بھرکم انعامات کا اعلان کیا۔ ہم سب کو اس خوشی کے موقع پر قومی ٹیم کو ایک بن کر دکھانا چاہیے تھا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ کل کے نامور کھلاڑی اور آج کے ایک سیاستدان نے اس اہم موقع پر بھی خوشی میں ملاوٹ کرکے تنقیدی ٹویٹ اور بیانات دیئے جن کا تعلق نجم سیٹھی سے تھا، سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے ایسی ٹویٹ اور رویہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق کھلاڑی بہترین کرکٹر کہلاتے اگر ان میں سپورٹس مین سپرٹ ہوتی مگر افسوس کہ انہوں نے اس موقع پر جب قوم ایک ہوکر قومی ٹیم کے کارنامہ کا جشن منا رہی تھی۔سیاست کو بیچ میں لاکر ان کا مزہ کرکرا کرنے کی کوشش کی، کوئی بھی شخص جو ورلڈ کلاس کھلاڑی ہو کسی بھی کھلاڑی کیلئے ’’پھٹیچر‘‘ جیسا لفظ استعمال نہیں کرتا مگر یہاں پر کھلے لفظوں میں نجم سیٹھی کو رگڑنے کیلئے اسی ٹیم کے خلاف بولا جاتا رہا جو نجم سیٹھی اور شہریار خان کے پی ایس ایل کا نتیجہ ہے، اگر کسی نے ورلڈ کپ جیتا تو اسکو کریڈیٹ دو مگر پوری ٹیم کا حق ہوتا ہے اس طرح جب کوئی اور ٹیم دنیا کے نقشے پر سبز ہلالی پرچم کو لہرائے اس کے لئے منہ سے مناسب الفاظ نکالنے چاہئیں اور اپنی سیاست کو درمیان میں نہیں لانا چاہئے، قومی ٹیم بھارت سے جیتی ہے اور اسے ایک بڑی شکست دے کر آئی ہے اس کا احترام لازم ہے۔

سیاست میں کرکٹ کا استعمال اور اس سے پہلے سماجی کاموں کو استعمال کرنا ایسی باتیں ہیں جو کسی طرح بھی ایک بڑے لیڈر کو زیب نہیں دیتیں، پاکستان کے عوام خوشیوں کے منتظر رہتے ہیں اگر کوئی خوشی آ ہی جائے تو اسکو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے منانا چاہئے، اس قوم نے دہشت گردی کے ہاتھوں بہت ظلم برداشت کئے ہیں ہمیں خوشیوں کی ضرورت ہے مگر یہاں ایسے لوگ جو جمہوریت کا نام لے کر جمہوریت کے خلاف ہتھوڑا پکڑ کر برسر پیکار ہیں اور جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔

جمہوری قوتوں کے لئے یہ ایک امتحان کا وقت ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ ملک کا بڑا حصہ گنوا کر بھی ان لوگوں نے سبق حاصل نہیں کیا، بہرحال سیاست ہمارا موضوع نہیں اور قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی آج کا موضوع ہے، نجم سیٹھی اور شہریار خان کی بنائی ہوئی ٹیم نے شاندار کارنامہ انجام دیا ہے جو بھارت کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں کو مدتوں یاد رہے گا۔ ہم ایسے اشخاص کے لئے دعا گو ہیں اور لیڈر حضرات سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کھیلوں کو اور کینسر ہسپتال جیسے بہترین پراجیکٹس کو اپنی عام سی سیاست میں استعمال نہ کریں، آخر میں نجم سیٹھی کو ایک دفعہ پھر کرکٹ کی ترقی کیلئے مبارکباد۔

مزید : کالم