سیاست یا ’’کرکٹ والی پاک بھارت جنگ‘‘

سیاست یا ’’کرکٹ والی پاک بھارت جنگ‘‘
 سیاست یا ’’کرکٹ والی پاک بھارت جنگ‘‘

  

’’گربہ کشتن روزِ اول‘‘ فارسی کا یہ محاورہ برمحل اور بروقت ہے کہ کسی بھی مسئلے کو ابتدا ہی میں حل کر لو تو بعد میں پریشانی نہیں ہوتی، ہم نے انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت کے باہر ایک اور ’’عدالت‘‘ لگنا کسی طور مناسب نہیں اور عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لے کر زیر سماعت مقدمات کے بارے میں پارٹیوں کو باہر آ کر اپنے اپنے موقف کو خود بیان نہیں کرنا چاہئے کہ مقدمات کی کارروائی کی رپورٹنگ صرف اِس قدر ہوتی ہے جتنی کارروائی ریکارڈ پر آئے،لیکن یہاں فاضل جج حضرات کے ریمارکس بڑی خبر تھے اور ان کے روبرو وکلاء کے دلائل اور دوسرے کوائف ترجیح نہیں رکھتے تھے، جبکہ باہر ایک میلہ لگتا جہاں مقدمہ میں فریق سیاسی جماعتوں کے رہنما خود ہی مقدمہ کے رُخ متعین کر کے گفتگو کرتے، یہی چھپتی اور نشر ہوتی تھی، چنانچہ ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی۔ پھر یہ بھی عرض کیا کہ ’’یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جج خود نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں‘‘۔

ہم نے اپنے انہی اصولوں اور دیرینہ روایات کی روشنی میں پاناما کیس یا ڈان لیکس کی سماعت کے حوالے بہت کم لکھا اور بوجوہ گریز کیا کہ ہمارے نزدیک کئی پہلو توہین عدالت کی سمت سفر کرتے نظر آتے تھے، مگر اس کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا گیا صرف ایک بار زبانی ہدایت کی گئی۔ میڈیا نے جگہ بدل لی،فریقین کو چونچ لڑانے میں مزہ آنے لگا اور وہ کمرۂ عدالت سے باہر آتے ہی مائیک کے سامنے آ جاتے اس سلسلے میں گزشتہ روز(جمعرات) ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہو گئی جب وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بات کر رہی تھیں تو تحریک انصاف کی محترمہ عظمیٰ کاردار سے انتظار برداشت کرنا مشکل ہو گیا اور انہوں نے براہِ راست مداخلت کر کے بدمزگی پیدا کر دی۔ یوں میڈیا ڈیسک پر قبضہ کرنے کے لئے ایک بار پھر تنازعہ ہو گیا، اس سے پہلے تحریک انصاف کے وکلاء اور مسلم لیگ(ن) کے دانیال عزیز کے درمیان بھی یہ ہو چکا تھا اور میڈیا پر دُنیا بھر نے یہ تماشہ دیکھا تھا اس بار مدمقابل خواتین تھیں اور یوں ایک بار اور مذاق بن گیا۔

پاناما لیکس کا معاملہ اِس وقت عدالت کے روبرو ہے اور اصول کے مطابق عدالتی کارروائی ہی کو شائع اور نشر ہونا چاہئے،لیکن محاذ آرائی کی کیفیت میں سب اصول نظر انداز کئے جا رہے ہیں اور اب تو اصل قانونی اور آئینی نکات اور مقدمہ کی سماعت پس نظر میں جا چکی اور الزام در الزام کی سیاست شروع ہے، اب اگر آئینی ماہرین کی رائے سے مستفید ہوا جائے تو باہر ہونے والا ہر معاملہ ایک تماشا نظر آنے لگتا ہے کہ عدالت کے روبرو جو نکات ہیں، ان کی تحقیق کے بعد پھر سے سماعت ہونا ہے اور یہ کتنا وقت لے گی اور کس رُخ جائے گی کسی کو کچھ علم نہیں، ہر کوئی اپنی اپنی سوچ کا اظہار کر رہا ہے اور پھر یہ بدقسمتی ہی کی بات ہے کہ ادارے بھی متنازعہ بنتے جا رہے ہیں۔ اداروں کا قیام رائج الوقت آئین و قانون کے تحت ہے اور سبھی کو اسی پیمانے کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے،لیکن یہاں انہی آئینی اداروں کے بارے میں شکوک پیدا ہو گئے اور انہی کو آگے بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

حزبِ اقتدار اور ان کے ترجمانوں کا تمام تر زور اِس بات پر ہے کہ سب کچھ کسی کے اشارے پر ہو رہا ہے اور یہ اب کامیاب نہیں ہو پائے گا کہ جمہوری نظام میں حکومت مستحکم ہے اور اب ایڈوانچر ازم کی کوئی گنجائش نہیں،جبکہ تحریک انصاف نے تو اب نئی حکمت عملی کا اعلان کر دیا۔عمران خان کہتے ہیں کہ عید کے بعد جے آئی ٹی کو دھمکانے کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔ مسلم لیگ(ن) کا موقف ہے کہ اداروں کو آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے،لیکن یہاں جو عمل ہو رہا ہے اس سے انتقام کی بُو آتی ہے، تاہم یہ وضاحت نہیں کہ انتقام کون لے رہا اور ذمہ دار کون ہے؟ جہاں تک ہم سمجھے ہیں وہ کچھ یوں ہے کہ جس جے آئی ٹی پر الزام لگائے جا رہے ہیں اس کا کام اپنی تحقیق کے بعد صرف رپورٹ پیش کرنا ہے، اس رپورٹ کا جائزہ عدالت عظمیٰ کے فاضل جج حضرات نے لینا ہے اور پھر فریقین کے دلائل بھی سننا ہیں کہ فیصلہ یکطرفہ تو نہیں ہو گا۔ یہ رپورٹ عدالت عظمیٰ کے سوالات کے جواب کے طور پر تیار ہو گی جسے 10جولائی تک مکمل کر کے پیش کرنا حتمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ پوزیشن واضح ہے،لیکن فریقین نے اسے ’’کرکٹ کی پاک بھارت جنگ‘‘ کی طرح ’’ملکی سیاست کی جنگ‘‘ بنا دیا ہے اور کوئی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، حکومتی ترجمان مطمئن ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے دانت نہیں رہے اور ان کا کچھ نہیں بگڑ سکتا، اب امپائر کی انگلی اٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،لیکن عمران خان کا خیال مختلف ہے جسے فرزندِ راولپنڈی شیخ رشید جلا بخش رہے ہیں اور اب نوبت تحریک تک ہے۔ یہ شاید سب اِس لئے ہے کہ محترم کپتان پیپلزپارٹی کی وکٹیں حاصل کر رہے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان، نواز گوندل اور امتیاز صفدر وڑائچ کے بعد اب سابق وزیر قانون بابر اعوان بھی چلے گئے اور کراچی سے نفیس صدیقی کا اعلان موخر ہوا، منسوخ نہیں ہوا ہے یوں تحریک انصاف والے زیادہ ہی اعتماد میں آ گئے کہ یہ سب ان کی مقبولیت کی وجہ سے ہے،لیکن عمران خان یہ بھول گئے کہ جن حضرات کو وہ شامل کر رہے ہیں وہ سب تو زرداری کے ’’پیارے‘‘ تھے اور ان سب کے جانے سے اگر کچھ اثر ہو گا تو اس کی سطح پروپیگنڈے کی حد تک ضرور ہے، بلاول کا راستہ تو خودبخود صاف ہوتا جا رہا ہے کہ اسے باپ کے سامنے کھڑا ہونے کی ضرورت ہی نہ ہو گی۔ بہرحال مسئلہ پھر Electables کا ہے اور یہ سب مفاد دیکھیں گے۔

ان معاملات پر زیادہ باریکی سے بات نہیں کی، لیکن ہماری پریشانی یہ ہے کہ بیلوں کی لڑائی میں گھاس کی شامت آئی ہوئی ہے، سرحدی اور دہشت گردی کے خطرات نظر انداز ہو رہے ہیں، ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی خرابی اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات کے اثرات پر بات نہیں ہو رہی، اب تو یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ جن غیر ملکی (دوست ممالک) کی کمپنیوں کو مُلک میں کام دیا گیا اور دیا جا رہا ہے وہ بھی پاکستانی رنگ میں رنگی گئی ہیں اور اربوں کے گھپلے رپورٹ ہو رہے ہیں، ناقص میٹریل کی شکایات ہیں، شہریوں کی سہولتوں والے ماتحت ادارے غفلت کا شکار اور مزے اڑا ہے ہیں۔ یوں حقیقی خدشات اور خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، ہم تو قومی اتفاق رائے کے وکیل ہیں،لیکن رنج یہ ہے کہ پاناما قومی وحدت کو پارہ پارہ کر چکا ہے۔

مزید :

کالم -