یا دوں کا جشن

یا دوں کا جشن
 یا دوں کا جشن

  

سوانح عمری کی صنف کو بنیادی طور پر مغربی صنف مانا جاتا ہے، کیونکہ مشرق کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ یہاں پر مغرب کے برخلاف اپنی ذات کو نمایاں کر نایا خوبیوں کوبیان کرنا ایک طرح سے معیوب سمجھا گیا ہے۔ ہماری تہذیب میں اپنی انا کو دباکر رکھنا یامارنا ہمارے نزدیک ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُردو ادب میں بہت سے لوگوں نے سوانح حیات لکھیں، مگر ان میں سے بہت کم ایسی ہیں جن کو ادب کے معیار پر پرکھنے کے بعد صحیح معنوں میں آپ بیتی یا سوانح حیات کہا جا سکتا ہے۔ بعض سوانح عُمریاں ایسی ہیں جن میں اپنے سوا کسی اور کو اس قابل سمجھا ہی نہیں جاتا کہ اس کی تعریف میں کچھ لکھا جائے، اس لئے اپنی آپ بیتی لکھنے والا ایک طرح سے سپرمین دکھائی دیتا ہے، جو ہر طرح کی بشری کمزوری سے پاک ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے، جنہوں نے سوانح حیات لکھتے ہوئے اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں کا بھی ذکر کیا ہو اور اپنی ذات کے ساتھ ساتھ معروض اور حالات کو بھی اہمیت دی ہو۔ کتاب ’’یادوں کا جشن‘‘ کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ سوانح حیات کی کسوٹی پر پورا اترنے والی کتاب ہے۔ کنور مہندرسنگھ بیدی سحر کی آپ بیتی ’’یادوں کا جشن‘‘ ویسے تو 1983ء میں شائع ہوئی، مگر اس کتاب کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی اور اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہی اب اس کتاب کو مئی 2017ء میں ایک اشاعتی ادارے کی جانب سے دوبارہ شائع کیا گیا۔’’ یادوں کا جشن‘‘ مہندرسنگھ بیدی سحر (1909-1998ء) کی ایسی آپ بیتی ہے، جس میں اس وقت کے معروضی حالات بھی بھر پور طریقے سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔

پنجاب کے علاقے منٹگمری (ساہیوال) کے جاگیردار گھرانے میں جنم لینے والے کنور مہندر سنگھ بیدی نے اپنی اس آپ بیتی میں 1947ء سے پہلے کے متحدہ پنجاب کے حالات کو اس قدر واقعاتی انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ کتاب نہیں پڑھ رہے، کوئی فلم دیکھ رہے ہیں، جس میں منظر کشی ہمارے سامنے ہی ہورہی ہے۔ زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کنور مہندر سنگھ بیدی نے صرف ایک شاعر یا ادیب کے طور پر ہی نہیں، بلکہ مجسٹریٹ، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے انتظامی عہدوں پر تعینات رہتے ہوئے، جس طرح اس وقت کے معروضی حالات کو پیش کیا ہے،وہ پوری تاریخ ہے۔ 1947ء سے پہلے متحدہ پنجاب کے اہم شہروں جیسے لاہور، ملتان، روہتک، جہلم، کانگڑا، جالندھر اور پھر تقسیم ہند کے بعد دہلی، سونی پت اور کرنال جیسے شہروں کا احوال اس لئے بہت دلچسپ ہے کہ کنور مہندر سنگھ بیدی نے ان شہروں میں اہم انتظامی عہدوں پر رہتے ہوئے بہت سے مشاہدات کئے، پھر ان مشاہدات کو کتاب کی صورت میں پیش کر دیا۔ ان کی اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگریز کے دور میں اضلاع کی انتظامیہ اور زیریں عدالتوں میں کام کاج کی کیا صورت حال ہوتی تھی۔ انگریز افسران کا رویہ اپنے سے چھوٹے ہندوستانی افسروں کے ساتھ کس طرح ہوتا تھا۔ ضلعی سطح پر کیسے بعض اوقات پٹواریوں، تحصیل داروں اور مجسٹریٹوں کی کرپشن کے باعث لوگوں کے جائز کام بھی رکے رہتے۔ بعض اوقات تو اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے درجے پر فائز افسران بھی اس ساری کرپشن میں باقاعدہ حصہ دار ہوتے تھے۔ آزادی کے بعد اس کرپشن میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اگست 1947ء میں تقسیم کے بعد جب برصغیر کے کئی علاقوں کی طرح دہلی میں بھی فسادات ہورہے تھے اور ان فسادات میں مسلمانوں کی جان ومال پر حملے کئے جارہے تھے تو بھارتی وزیراعظم نہرو نے ان فسادات کو رکوانے کے لئے جب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان نہ جائیں۔

اس کے جواب میں دہلی میں سرکردہ مسلمانوں کی جانب سے نہرو سے جو مطالبات کئے گئے، ان میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کے لئے کنور مہندر سنگھ بیدی کو دہلی میں سٹی مجسٹریٹ کے طور پر تعینات کیا جائے اور شہر کا تمام انتظام ان کے حوالے کیا جائے، کیونکہ مسلمانوں کو کنور مہندر سنگھ بیدی پر پورا اعتماد تھا۔ نہرو نے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے بیدی کو دہلی میں سٹی مجسٹریٹ کے طور پر تعینات کردیا۔ بیدی نے دہلی میں فسادات کو کنٹرول کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کئے، حتیٰ کہ موہن داس کرم چندگاندھی نے بھی کنور مہندر سنگھ بیدی کو اپنے پاس بلا کر ان کو شاباش دی کہ انہوں نے مسلمانوں کے گھروں سے فسادیوں کا قبضہ ختم کرواکر مسلمانوں کو اپنے گھر واپس دلا د دیئے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1947ء کے فسادات کے دوران’’ آر ایس ایس‘‘ اور مہا سبھا جیسی انتہا پسند تنظیمیں ایسے سکھوں اور ہندوؤں سے مسلم دشمنی کا کام لے رہی تھیں، جن کو پاکستان کے علاقوں سے اپنا گھر بار چھوڑ کر ہندوستا ن میں پناہ لینے کے لئے آنا پڑ رہا تھا۔ ایسے ہندوؤں اور سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کانا بڑا آسان ہوتا تھا۔ کنور مہندر سنگھ بیدی کا تعلق بھی ایسے ضلع (ساہیوال) سے تھا،جو پاکستان میں شامل ہونے جارہا تھااور کنور مہندر سنگھ بیدی اور ان کے خاندان کو اپنی بہت بڑی جاگیر سے بھی ہاتھ دھونے پڑرہے تھے۔ اس کے باوجود کنور مہندر سنگھ بیدی نے اپنے دل کو مسلم دشمنی کے جذبات سے پاک رکھا اور اپنے انتظامی اختیارات کو استعمال میں لاتے ہوئے بہت سے مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت میں اپنا بھرپور کر دار ادا کیا۔

کنور مہندر سنگھ بیدی تقسیم ہند کو ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کے مابین دوستانہ تعلقات کے زبردست حامی رہے۔ انہوں نے ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد نہ صرف پاکستان کے کئی دورے کئے، بلکہ اپنی کتاب ’’یادوں کا جشن‘‘ بھی پاکستان اور ہندوستان کی دوستی کے نام کی۔ کنور مہندر سنگھ بیدی اپنی ذاتی حیثیت میں پاکستان سے ادیبوں اور شاعروں کو ہندوستان بلا کر ادبی پروگراموں کا انعقاد کرواتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بہت سے شاعروں کی ان سے بہت قریبی دوستی رہی۔ کتاب ’’یادوں کا جشن‘‘ کو پڑھتے ہوئے واضح طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ کتاب ایک ایسے شخص نے لکھی ہے، جس کا پس منظر جاگیر دارانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں ہمیں وہ طبقاتی تعصب بھی دکھائی دیتا ہے، جو ایک جاگیردار کا خاصہ ہوتا ہے۔ جیسے کنور مہندر سنگھ بیدی اس بات پر بار بار فخر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی عام نہیں، بلکہ جاگیردار گھرانے سے ہے۔ جاگیرداروں کے مخصوص، شوق جیسے جانوروں کو پالنا، خاص طور پر اپنے شکار کے شوق پر بیدی نے کئی صفحات لکھے۔ کنور مہندرسنگھ بیدی نے اپنی کتاب میں بھارت میں زمینی اصلاحات کی بھی مخالفت کی۔بیدی کے مطابق زمینی اصلاحات سے جاگیرداروں کی کمر تو توڑی گئی، مگر سرمایہ داروں کو سرمایہ بنانے کی کھلی آزادی اور چھوٹ دے دی گئی، جس کے باعث امیر اور امیر اور غریب، غریب تر ہوتا گیا۔ خیر یہ تو کنور مہندر سنگھ بیدی کی طبقاتی سوچ کا اظہار تھا کہ وہ اپنی کتاب میں جاگیردارانہ نظام اور اقدار کی حمایت کرتے نظر آئے، مگر بیدی کی اس طبقاتی سوچ سے قطع نظر کتاب ’’یادوں کی بارات‘‘ میں تاریخ کے طالب علموں کے لئے دلچسپی کا بھرپور سامان موجود ہے۔

مزید :

کالم -