پاکستان کی دو طرفہ مشکلات!

پاکستان کی دو طرفہ مشکلات!
 پاکستان کی دو طرفہ مشکلات!

  

کچھ دنوں سے ہماری مغربی سرحد سے خیر کی خبریں نہیں آ رہیں۔۔۔ ایک تو آپریشن ردالفساد کی کارروائیوں کو ملک کے اندرونی اور شہری علاقوں سے نکل کر از سر نو فاٹا کی طرف جانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان آرمی ایک عرصے سے ان شمال مغربی علاقوں میں راہِ نجات وغیرہ کے علاوہ ضربِ عضب آپریشن کی بھرپور کارروائیوں میں مصروف رہی ہے۔ جنوبی وزیرستان کو سب سے پہلے ’’صاف‘‘ کیا گیا تھا اور پھر شمالی وزیرستان کی ’’صفائی‘‘ میں تو ایک طویل عرصہ لگ گیا تھا۔ لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ دونوں وزیرستانوں میں دہشت گردوں نے پھر اپنے ٹھکانے بنا لئے ہیں اور ماضی کی گھناؤنی سازشیں پھر بحال ہو رہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے گاؤں میدان کائی اور شمالی وزیرستان کے گاؤں زرکائی سے ایک آپریشن کے دوران کافی بڑی تعداد میں ہتھیار اور دوسرا کئی اقسام کا اسلحہ بارود پکڑا گیا ہے۔ ان ہتھیاروں کی تفصیل دینے کی ضرورت نہیں کہ یہ تفصیلات درجنوں بار گزشتہ 15،16 برسوں سے میڈیا پر دی اور دکھائی جا رہی ہیں۔

جو سوالات قابلِ توجہ ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ اسلحہ اور بارود کہاں سے آ رہے ہیں؟ ۔۔۔اس کو بھیجنے والے کون لوگ ہیں؟۔۔۔ کیا یہ زیرِ زمین راستوں / سرنگوں سے آ رہے ہیں؟ ۔۔۔کیا وزیرستان کی موجودہ آبادی میں ایک بار پھر وہی طبقہ متحرک ہونے لگا ہے جو کچھ مہینوں سے آپریشن ضربِ عضب اور راہِ نجات وغیرہ کی وجہ سے ساکن ہو گیا تھا؟۔۔۔ یہ سارے سوال بہت اہم ہیں ۔ایجنسیوں کو ان کے سارے جواب معلوم ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس کاروبار میں ملوث لوگوں تک پہنچ رہی ہوں گی۔ البتہ ایک سوال جو زیادہ توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا جب ان علاقوں کی جنگلہ بندی (Fencing)ہو جائے گی تو پھر بھی یہی صورتِ حال موجود رہے گی یا اس میں کوئی کمی آ جائے گی؟

آئی ایس پی آر نے 16جون (2017ء) کو جو ٹویٹ جاری کی اس میں بھی شمالی وزیرستان ایجنسی میں تحصیل دتہ خیل کے کئی دیہاتوں سے اسی قسم کا اسلحہ بارود پکڑا گیا تھا۔ اس کی جو تصاویر جاری کی گئیں وہ بھی حیران کن تھیں۔ قطار اندر قطار پڑے راکٹ لانچر، آر پی جی 7، بھاری مشین گنیں اور انواع و اقسام کے ایمونیشن سے بھرے ہوئے باکس دیکھ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ یہ علاقہ کس قدر آتش گیر ہو چکا ہے۔ ویسے تو تحصیل دتہ خیل اور اسلحہ بارود کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ برٹش دور میں بھی دتہ خیل کا ذکر مختلف تاریخی تصانیف میں جابجا ملتا ہے کیونکہ اسلحہ بارود کی سمگلنگ، دہشت گردی، جنگ و جدال اور قتل غارت گری یہاں کے لوگوں کا آبائی پیشہ ہے۔

ہم سکول کے زمانے میں جب کسی ملک کا طبعی جغرافیہ پڑھتے تھے تو وہاں کی آب و ہوا، معدنیات، پہاڑ، دریا، جنگلات، فصلیں وغیرہ کے علاوہ لوگوں کے پیشوں کا بھی ایک باب ہوتا تھا جس میں کاشتکاری، ماہی گیری، تجارت، صنعت و حرفت وغیرہ مشہور اور بڑے بڑے پیشے شمار ہوتے تھے۔ پوٹھوہار کے علاقوں میں پیشہ ء سپاہ گری پیش پیش ہوتا تھا۔ لیکن یہ کہیں نہیں لکھا ہوتا تھا کہ کسی ملک یا خطے کے لوگوں کا واحد پیشہ لوٹ مار، ڈاکہ زنی، سمگلنگ، قتل و غارت گری اور اسلحہ فروشی بھی ہے۔اول اول فاٹا کی سات ایجنسیوں میں اگرچہ قبائلی آویزشیں عام تھیں لیکن ان آویزشوں میں زیادہ سے زیادہ تھری ناٹ تھری رائفل، پستول، ریوالور یا دستی بم استعمال ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج تو گویا یہ سب ہتھیار متروک ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ راکٹوں، میزائلوں، طیارہ شکن توپوں، خودکش جیکٹوں اور ہینڈ گرنیڈوں نے لے لی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک کے 70برسوں میں جو انقلابی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں وہ ماضی کے 700برسوں میں بھی کہیں نظر نہیں آتیں۔۔۔ نجانے ہمیں مستقبل میں اور کیاکیا دیکھنا ہے؟

فاٹا کی سات ایجنسیوں میں سے تین شمالی ایجنسیوں پر جنگلہ بندی (Fencing)کا کام شروع ہے۔ یہ جنگلہ بندی پاک افغان سرحد پر اگرچہ ضروری خیال کی گئی ہے لیکن میرا خیال نہیں کہ ایسا کرنے سے یہ ’’کاروبار‘‘ رک جائے گا۔ جن باسیوں کے خون میں قتل و خونریزی بسی ہوئی ہو وہ ان جنگلہ بندیوں کی شائد ہی کوئی پرواہ کریں گے۔

چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایات کے مطابق پہلے مرحلے کے طور پر باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسیوں میں سرحد پر باڑھ لگانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔یہی وہ علاقے ہیں جن میں شدید دہشت گردی کا بازار گرم رہتا ہے۔ اس جنگلہ بندی میں جگہ جگہ نگرانی چوکیاں اور قلعے تعمیر کئے جائیں گے۔ اگر آپ نے کبھی ان علاقوں کو دیکھا ہے تو آپ میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ یہ چوکیاں قائم کرنے اور قلعے تعمیر کرنے کا کام کتنا مشکل ہے۔ اس میں دو تین ایسی رکاوٹیں حائل ہیں جو تقریباً لاینحل ہیں۔

ایک تو یہاں کی ٹوپو گرافی یعنی زمین کی ساخت،گسترش اور عمومی کیفیت ایسی ہے کہ یہاں نشیب و فراز جیسے الفاظ بے معنی ہو کے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہر 30،40گز کے بعد ایک اور آؤٹ پوسٹ تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کام کتنا مشکل ہوگا۔۔۔ دوسری مشکل تعمیراتی مواد کی رسائی ہے۔ ان علاقوں میں صرف خچر استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔سریا، سیمنٹ، ریت اور پتھر وغیرہ انسانی پیٹھ پر لادکر لے جاناکتنا مشکل ہے اس کا تصور کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ تیسری مشکل ان پوسٹوں اور قلعوں کی باہمی مواصلات، خوراک، آب رسانی اور دوسری انسانی ضرورتوں کی عدم دستیابی ہے۔۔۔ چوتھی اور آخری مشکل صدہا کلو میٹروں پر پھیلی اس باڑھ پر تعینات نفری کی فراہمی ہے۔ ظاہر ہے اس کے لئے اول اول مقامی افراد بھرتی کرنے کے سوا چارہ نہ ہوگا۔اس لئے فوج کی مین سٹریم کے لئے زبان ، ثقافت ، آب و ہوا اور رسوم و رواج کی مشکلات الگ ہیں۔ علاوہ ازیں اس مقامی نفری کی نگرانی ایک اور ادق مرحلہ ہے۔ جن لوگوں کا پیشہ ہزار ہا برس سے مار دھاڑ ہو ان کو کسی ڈسپلن کا پابند کرنا از حد مشکل کام ہوگا۔ پھر فوج کے بجٹ کا مسئلہ بھی ہوگا۔ باجوڑ سے لے کر گوادر تک 2600 کلومیٹر کی باڑھ پر جونفری تعینات کی جائے گی اس پر سالانہ خرچے کا تخمینہ لگائیں تو مالی مشکلات کا ایک عمومی گراف آپ کے سامنے آجائے گا۔

پھر خیبرایجنسی سے بلوچستان کی سرحد تک اگر جنگلہ بندی کا مرحلہ،مرحلہ دوم شمار کریں تو مرحلہ سوم ژوب سے گوادر تک کا ہوگا ۔ لیکن پنجگور کے پاس دو تین روز قبل جس ایرانی ڈرون کے پاکستانی JF-17 تھنڈر سے مارگرانے کا واقعہ پیش آیا اور اس سے بھی پہلے ایران کے پاسداروں کے جو درجن بھر سپاہی پاک ایران سرحد پر (ایرانی سرحد کے اندر) مارے گئے اور جس کے بعد ایرانی عسکری کمانڈ نے پاکستان کو دھمکیاں بھی دیں وہ امور بھی قابلِ غور اور لائقِ توجہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جنگلہ بندی کا اگلا مرحلہ تفتان سے گوادر تک باڑھ کی تعمیر ہونا چاہئے۔ پاکستان کو افغانستان اور ایران دونوں سے جو خطرات لاحق ہو رہے ہیں وہ پاکستان کی مسلح افواج کے عسکری ڈاکٹرین میں تبدیلی کا تقاضا کریں گے۔ یہ تبدیلی بجائے خود ایک اہم اور جامع قسم کا آرٹیکل لکھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ایم او ڈائریکٹوریٹ میں یہ کام ہو چکا ہو گا۔ہم بیک وقت افغانستان اور ایران سے دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ لیکن ہمارے دشمن ایسے واقعات برپا کروا رہے ہیں جن سے شکوک و شبہات کو ہوا مل رہی ہے۔ کلبھوشن کی چاہ بہار میں جیولری کی دکان اور اس کی گرفتاری سے لے کر ایرانی ڈرون کے مارگرائے جانے تک ایران، انڈیا ملی بھگت کے واشگاف اور واضح ترین موضوعات پر ہم کتنی دیر تک خاموش رہ سکتے ہیں؟ اور کتنی دیر تک صبرو تحمل (Restraint) کا مظاہر ہ کر سکتے ہیں؟ آرمی چیف ترکی کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس دورہ کی ایک تو وہ خبریں اور وہ موضوعات ہیں جو میڈیا پر جاری کئے جاچکے ہیں اور میرے خیال میں کچھ ایسے موضوعات بھی ہو سکتے ہیں جو پردۂ اخفا میں رکھے گئے ہوں گے۔ ان میں شائد جنرل راحیل شریف کی مستقلاً پاکستان واپسی، ایران کی پاکستان کے خلاف الزامات کی بحث جس کے دونوں پہلو قابلِ توجہ ہوں گے یعنی مثبت بھی اور منفی بھی۔۔۔۔خود ترکی بھی اس اسلامی کولیشن میں شامل ہے جس کے پاکستان کے راحیل شریف کمانڈر انچیف ہیں اور جس میں ایران اور شام وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ ترکی اور قطر کے گرم جوشانہ تعلقات کوئی راز نہیں۔ ایران، قطر کو جو مادی اور غذائی امداد دے رہا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ میرے خیال میں پاکستان نے جنرل راحیل کو NOC دے کر جو غلطی کی تھی وہ شائد ایران، پاکستان تعلقات کی سرد مہری کو آخری حدوں تک لے جانے کا باعث بن رہی ہے۔بھارت اس سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے اور اب بھی اٹھا رہا ہے۔ بھارت نے اپنی مغربی سرحد پر جنگلہ بندی کردی ہے اور لائن آف کنٹرول کے بہت کم حصے ایسے ہیں جن کی Fencingباقی ہے۔ اگر پاکستان بھی اپنی مغربی سرحد کی جنگلہ بندی مکمل کرلیتا ہے تو یہ سوال پھربھی پریشان کن رہے گا کہ پاکستان، مشرق و مغرب کی طرف سے دشمنوں میں محصور ہو چکا ہے۔ امریکہ نہ صرف افغانستان میں آ بیٹھا ہے بلکہ بھارت میں بھی نہ بیٹھ کر بیٹھا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی آپشنر کیا ہیں؟۔۔۔ ہمارے وزیر خارجہ کہاں ہیں؟۔۔۔ وزیر دفاع کیا رول ادا کررہے ہیں؟۔۔۔اور افواج پاکستان پر کتنی بوجھل اور کتنی دشوار ذمہ داریاں آن پڑی ہیں ۔ایک طرف ان کا تعلق پاکستان کے بیرونی حالات سے ہے اور دوسری طرف اندرونی حالات کاجو نقشہ عید الفطر کے بعد سامنے آنے والا ہے وہ مزید پریشان کن ہے۔ سپریم کورٹ جو فیصلہ بھی کرے، تحریک انصاف یا نون لیگ دونوں ہی سڑکوں پر آنے کے پروگرام رکھتی ہیں۔۔۔ مشکلات کے ان اندرونی اور بیرونی حصاروں میں گھرے پاکستان کے لئے اب صرف دعائیں باقی ہیں۔ وہ آپ بھی کریں اور میں بھی کررہا ہوں!

مزید :

کالم -