پی ایس ایل اسکینڈل ، بھارتی بکیز کے ملوث ہونے کا امکان

پی ایس ایل اسکینڈل ، بھارتی بکیز کے ملوث ہونے کا امکان

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان سپر لیگ کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں بھارتی بکیز کے ملوث ہونے کے اشارے ملنے لگے ہیں،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پڑسی ملک کا ایک سٹے باز اس سارے کھیل کا مرکزی کردار ہے جس سے انگلینڈ میں موجود پاکستانی بیٹسمین ناصر جمشید اور دیگر دو افراد سے رابطوں کا بھی قوی امکان ہے جو اس معاملے میں ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ناصر جمشید کو ایک تیسرا شخص کنٹرول کر رہا تھا جو نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے بعد ضمانت پا چکا اور اس کے بھارتی سٹے بازوں سے گہرے مراسم بتائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس گروپ نے اجتماعی طور پر مل کر پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کو بدعنوانی کی غلاظت میں دھکیلنے کا پلان بنایا تھا۔ یاد رہے کہ پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کے حوالے سے انگلینڈ میں ناصر جمشید اور شفیلڈ سے تعلق رکھنے والے دوسرے درجے کے کلب کرکٹر یوسف انور کو نیشنل کرائم ایجنسی نے رواں سال 13 فروری کو پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ان کے مبینہ کردار کا علم ہونے پر گرفتار کیا تھا۔ یونی ویژن نیوز کے مطابق 23 فروری کو شفیلڈ سے برطانوی شہریت کا حامل ایک تیسرا شخص بھی گرفتار ہوا تھا جس کا نام سامنے نہیں آ سکا البتہ اسی شخص کے بھارتی سٹے بازوں سے براہ راست روابط ہیں اور اس نے ہی ناصر جمشید کے ذریعے پاکستانی کرکٹرز کو اس معاملے میں پھنسایا۔ ذرائع کے مطابق ناصر جمشید اور یوسف انور کے موبائیل فونز اور لیپ ٹاپ سے حاصل شدہ معلومات سے اس تیسرے شخص کی گرفتاری عمل میں آئی جس سے ان کا متواتر رابطہ تھا۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر ہی پی سی بی نے ناصر جمشید کو اس کیس کا مرکزی کردار بتاتے ہوئے تمام تر توجہ ان پر مرکوز کر رکھی ہے تاہم اس بات کا ابھی اندازہ نہیں ہو سکا کہ پی سی بی حکام اس کیس میں بھارتی کنکشن سے بھی واقف ہیں۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -